https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/12/17/feature-01
| سلامتی

افغان-پاکستان سرحدی باڑ ایک چوتھائی سے زیادہ مکمل

اشفاق یوسف زئی

image

کوئٹہ کے علاقے پنجپائی کے قریب پاکستان-افغان سرحد کے ساتھ پھیلی ہوئی باڑ پر، پاکستانی فوج کے سپاہی 8 مئی کو چوکس کھڑے ہیں۔ ]بنارس خان/ اے ایف پی[

پشاور -- پاکستانی حکومت نے افغانستان کے ساتھ ملک کی 2,611 کلومیٹر طویل سرحد پر نگرانی کی باڑ لگانے کا ایک چوتھائی سے زیادہ کام مکمل کر لیا ہے۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ہفتہ (15 دسمبر) کو کہا کہ 843 قلعوں میں سے 233 پر کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے 820 کلومیٹر ترجیحی سرحدی علاقوں پر باڑ لگانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسے توقع ہے کہ اگلے سال کے آخیر تک 1,200 کلومیٹر کے ترجیحی سرحدی علاقوں پر باڑ لگ جائے گی۔

image

پاکستانی وزیراعظم عمران خان اور چیف آف اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 28 نومبر کو شمالی وزیرستان کا دورہ کیا۔ ]انٹر سروسز پبلک ریلیشنز[

انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ سرحدی باڑ کا مقصد "دہشت گردوں کو محدود کرتے ہوئے پاکستان اور افغانستان کے پرامن لوگوں کو فائدہ پہنچاناہے"۔

حکومت نے 28 نومبر کو باڑ کے لیے 20 بلین روپے (143 ملین ڈالر) مختص کیے جو کہ 66 بلین روپے (470 ملین ڈالر) کی کل لاگت کا دوسرا حصہ ہے۔

حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 19.4 بلین روپے (140 ملین ڈالر) مختص کیے تھے اور توقع ہے کہ وہ باقی کے 26.8 بلین روپے (190 ملین ڈالر) 2020-2019 تک ادا کر دے گی۔

سرمایے کی اس فراہمی کا اعلان وزیراعظم عمران خان کے، شمالی وزیرستان کے پہلے دورے کے ایک دن بعد ہوا جہاں انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ تعمیر کا جائزہ لیا۔

باجوہ نے 9 مئی کو بلوچستان کے علاقے پنجپائی میں 1,268 کلومیٹر طویل باڑ کی تعمیر کا افتتاح کیاتھا جو کہ صوبہ کے اس باڑ میں حصہ پر مشتمل ہے۔

بلوچستان کے حصہ کے لیے، فوج 250 قلعے تعمیر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو ہر 3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہوں گے اور ہر ایک کلومیٹر پر مواصلات کا متبادل نظام ہو گا تاکہ سخت نگرانی کو ممکن بنایا جا سکے۔

'ایک مضبوط دفاعی لائن'

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے سینئر اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان -افغانستان سرحد پر باڑ لگانے کا مقصد، غیر مطلوبہ افراد کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم اگلے 18 مہینوں میں اس عمل کو تیزی سے مکمل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں"۔

اہلکار نے کہا کہ 2019 تک، توقع ہے کہ باڑ کا کل 830 کلومیٹر حصہ مکمل ہو جائے گا جس سے سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں اور چترال ڈسٹرکٹ، خیبر پختونخواہ کی سرحد سیل بند ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ "یہ دفاع کی ایک مضبوط لائن کے طور پر کام کرے گی"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے سینئر تجزیہ نگار برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "موجودہ حکومت سرحد پر سیکورٹی کو سخت بنانے کے بارے میں سنجیدہ ہےتاکہ ایسے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت کو روکا جا سکے جو سرحدی علاقوں کے قریب چھپے ہوئے ہیں اور دونوں ملکوں میں بدامنی پھیلا رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ہمیں نہ صرف باڑ لگانے بلکہ افغانستان کے ساتھ مل کر انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں کو شروع کرنےکے لیے سیاسی عزم کی ضرورت ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ باڑ فوج اور عوامی حکومت میں مکمل ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے۔

شاہ نے کہا کہ سرحدی باڑ کے علاوہ، فوج کا عارضی طور پر بے گھر ہو جانے والے افراد کی بحالی کے لیے اور سماجی-اقتصادی ترقی کے پروگرام شروع کرنے کے بارے میں کام، دہشت گردی کے خاتمے کی طرف لے جائے گا۔

سرحد کے ساتھ کے علاقوں کے رہائشیوں نے اس باڑ کی تعمیر کے کام کو سراہا ہے۔

چترال ڈسٹرکٹ کے ایک ریٹائرڈ پولیس افسر صداقت علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں طویل عرصے سے دہشت گردی کا سامنا ہے مگر فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی مہم کے نتیجہ میں امن قائم کر دیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس باڑ سے ان دہشت گردوں کی نقل و حرکت رک جائے گی جو ناہموار اور غیر آباد علاقوں کے راستے سے چوری چھپے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ "۔

شمالی وزیرستان کے ایک مقامی صحافی عثمان گل نے کہا کہ "باڑ سے، فوج کے علاقے سے چلے جانے کے بعد بھی علاقے میں امن کو قائم رکھنے کا راستہ ہموار ہو گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
10
نہیں
تبصرے 7
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

بہت ہی اچھا کام ہے یہ کام 20 سال پھیلے ہونا چائے تھا اللّه کرے کام مکمل ہو امین

جواب

پاک فوج کی شاندار کامیابی

جواب

حکومت اور پاک فوج کا زبردست اقدام ہے۔ہم ہر پل پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ان شاءاللہ اگلا فیصلہ افغان مہاجرین کو با عزت واپسی کا ہوگا۔

جواب

Afghan aur pakistani bhai hn aur dukh sukh me sath rahay hn aj aalmi zaazishon ne dono mulkon ki powrr ko curtail kar diya ha agar dono mumalik aman aur sakoon chahtay hn to dono mumalik ko mil kay kaam karna ho ga aur mill kar har challange ka muqabla karna hoga aman baadd se ne taawun se mumkin ha apni saffon me indian aur amarican agenda ko nakaam karna chahye ye to kaam e divide and rule se karty hn.moojooda hallat me jab afghani govt pakistan se cooperation nahi kar rahi aur indian agenday pe kaam kar k pakistan se zada khud k liye khatraat peda kar re ha pak ne haalat kay mutabik durust faisla kiya ha .par kaash ye baad arzi ho aur aman daimi

جواب

بہت خوب؛ شاباش پاک فوج اور حکومتِ پاکستان
پاک فوج زندہ باد
پاکستان زندہ باد

جواب

Ye bilkul thik kiya pakistan ny is se hmary mulkh me terrorist me boooot kmi aye gi is se hmary mulkh me raw cia or Nds k terrorist ni aa sky gy
Pak army zindabad

جواب

بلکل ٹھیک ہے اس کو مکمل طور پر پورا کیا جائے یہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے پاک فوج زندہ باد پاکستان پائندا باد

جواب