ماحول

تصاویر میں: کے پی کی کبھی خشک و ویران پہاڑیاں، 'سبز سونے' میں ڈھکی ہوئیں

اے ایف پی

بونیر میں 18 مئی کو شجرکاری والی ایک بل کھاتی سڑک دکھائی گئی ہے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

ایک موٹر سوار 18 مئی کو بونیر میں وادیٔ سوات کے ایک جنگلاتی علاقے میں سے گزرتے ہوئے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

کے پی محکمۂ جنگلات کے افسران 18 مئی کو وادیٔ سوات میں جنگل کو دیکھنے کے لیے ایک مقام پر جمع ہیں۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

ضلع ہیروشاہ میں 17 مئی کو بچے شجرکاری کردہ ایک علاقے میں کرکٹ کھیلتے ہوئے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

کے پی محکمۂ جنگلات کے محافظ 17 مئی کو ضلع ہیروشاہ میں شجرکاری کے ایک علاقے سے گزرتے ہوئے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

کے پی محکمۂ جنگلات کے محافظ 17 مئی کو ضلع ہیروشاہ میں شجرکاری کے ایک علاقے میں چہل قدمی کرتے ہوئے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

کے پی محکمۂ جنگلات کے محافظ 18 مئی کو بونیر میں ایک شجرکاری کے علاقے میں جمع ہیں۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

وادیٔ سوات، خیبرپختونخوا میں 18 مئی کو ایک جنگلاتی علاقے میں بنے گھر کی تصویر۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

پشاور کے مضافات میں لگائے گئے درختوں کو جولائی 2017 کے اس فضائی منظر میں دکھایا گیا ہے۔ [بلین ٹری سونامی جنگلات لگانے کا منصوبہ]

ہیروشاہ -- تبدیلی آ گئی ہے: ضلع مالاکنڈ، خیبرپختونخوا (کے پی) میں ہیروشاہ کے علاقے کے اردگرد، جو کہ ماضی میں بنجر پہاڑیاں ہوتی تھیں اب تاحدِ نگاہ جنگل سے ڈھکا ہوا ہے۔

سنہ 2015 اور 2016 میں، ہیروشاہ میں کوئی 16،000 مزدوروں نے 9 لاکھ سے زائد تیزی سے بڑھنے والے یوکلپٹس کے درخت باقاعدہ، جیومیٹری کے وقفوں سے لگائے تھے۔ یہ کارِ عظیم پورے کے پی میں کی گئی کوشش کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

فارسٹ مینیجر پرویز منان نے اس مقام کی ماضی کی تصاویر، جب صرف لمبی گھاس کے فالتو بلیڈ اس یکساں منظرِ ارضی میں خلل ڈالا کرتے تھے، دکھاتے ہوئے کہا، "اس سے پہلے یہ مکمل طور پر بنجر زمین تھی۔ اب ان کے ہاتھوں میں سبز سونا آ گیا ہے۔"

منان، جنہوں نے ہیروشاہ میں نئی روح پھونکنے کی نگرانی کی ہے، نے کہا کہ نئے درخت مناظری خوبصورتی میں جان ڈالیں گے، زمینی کٹاؤ کو کم کریں گے، موسمی تبدیلیوں کی شدت کو کم کریں گے، سیلابوں کے امکانات کو کم کریں گے اور بارشوں کے امکانات میں اضافہ کریں گے۔

image

کے پی محکمۂ جنگلات کے سربراہ، پرویز منان، کی 17 مئی کو ہیروشاہ کے علاقے میں شجرکاری میں لی گئی تصویر۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

مقامی باشندے بھی انہیں معاشی ترقی کے طور پر دیکھتے ہیں -- جس سے حکام پُرامید ہیں کہ یہ انہیں ایک ایسے علاقے میں جہاں بجلی کم ہو سکتی ہے، درختوں کو جلانے کے لیے لکڑی کاٹنے سے روکے گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 6

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

اللہ آپ کو انسانیت کی خدمت کرنے کی مزید ہمت عطا فرمائے

جواب

Ye darkht din me 100 litar pani pita hai our zery zamen pani ko kam karti hai ap se darkhast hai k agr koi our darkht lagya jai tu acha sabeth hoga Tnx

جواب

اللہ اس کار خیر میں برکت عطا فرمائے یہ ایک بہت ہی زبردست اور منافع بخش تبدیلی ہے جو صحتمند بھی ہے۔ درخت لگانا سنت نبوی( ص) سےبھی ثابت ہے، ثواب کا ثواب اور صدقہ جاریہ جس سے اللہ کی مخلوق بھی فائدہ حاصل کرتی ہے۔ بہت ہی اچھا اور مثبت اقدام کے پی کے گورنمنٹ کی طرف سے ہے جسکی ہم کھلے دل سے حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔۔

جواب

یہ ہمارے لئے بہترین وقت ہے کہ ہاتھ ملائیں اور اس عظیم کام کو سرانجام دینے کے اس قدم پر حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ہمارے ملک کو سرسبز اور صاف کرنے میں اللہ ہم پر رحمت فرمائے

جواب

شاباش

جواب

اگر اپنی آنے والی نسلوں کے لیے آسان اور صحتمند زندگی دیکھنی ہے تو اس پراجیکٹ کو سارے پاکستان میں ہنگامی بنیادوں پہ شروع کیا جانا لازمی ہے۔

جواب