https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/03/01/feature-02
تعلیم |

اسکالرشپ پروگراموں کا مقصد حاصل کرنے والوں کو 'پاکستان کا افغانستان کے لیے سفیر' بنانا ہے

آمنہ ناصر جمال

image

علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت تقریباً 2400 انڈر گریجوایٹ اور 600 گریجوایٹ اسکالرشپس افغان طلباء کو گزشتہ سال ستمبر میں دیے گئے۔ ان میں سے چند طلباء افغانستان کے سفیر برائے پاکستان عمر زخیلوال کے ساتھ 27 فروری کو اسلام آباد میں تصاویر بنوا رہے ہیں۔ ]عمر زخیلوال/ٹویٹر[

لاہور – پاکستانی تعلیمی حکام پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند افغان طلباء کو اسکالرشپ پروگرام کے ذریعے اعلیٰ تعلیمی مواقع فراہم کر رہے ہیں۔

افغانستان کے پاکستان میں سفیر عمر زخیلوال نے ٹویٹر پر بتایا کہ پاکستانی صدر ممنون حسین اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین مختار احمد نے صدارتی محل اسلام آباد میں "نئے اسکالرشپ یافتہ درجنوں افغان طلباء" کو بروز منگل (27 فروری) خوش آمدید کہا۔

مختار احمد نے 20 فروری کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ، "افغان طلباء کو تعلیمی اداروں، پیشہ وارانہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں متعدد شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔"

image

افغانستان کے سفیر برائے پاکستان عمر زخیلوال 27 فروری کو پاکستان میں تعلیمی اسکالرشپ حاصل کرنے والے افغان طلباء کے ساتھ تصاویر بنوا رہے ہیں۔ ]عمر زخیلوال/ٹویٹر[

image

یکم فروری کو اسلام آباد کے مضافات میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں افغان پناہ گزین لڑکیاں اسکول میں چھٹی کے بعد جا رہی ہیں۔ ]عامر قریشی/اے ایف پی[

انہوں نے کہا کہ "افغان اسکالرشپ حاصل کرنے والوں کا پہلا بیچ وزارت تعلیم اور وزارت بین الصوبائی ہم آہنگی نے 2009 میں منتخب کیا جس میں 3,000 اسکالرشپس شامل تھے۔"

انہوں نے کہا کہ، "ان طلباء نے اپنی تعلیم مکمل کر لی ہے اور اپنے ملک واپس جا چکے ہیں۔"

پروگرام کے دوسرے مرحلے میں، افغان طلباء نے علامہ محمد اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تحت 2,400 انڈگریجویٹ اور 600 گریجویٹ اسکالرشپس گزشتہ ستمبر میں حاصل کیے۔

مختار احمد نے کہا کہ افغان وزارت تعلیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے ایچ ای سی نے میرٹ پر مبنی اسکالرشپس کے لیے افغانستان میں ٹیسٹ کا انعقاد کیا، جس میں متعدد شعبے جیسا کہ ادویات، انجینیئرنگ، زراعت، مینجمنٹ اور کمپیوٹر سائنس شامل تھے۔

ایچ ای سی پانچ سالوں کے لیے اسکالرشپ فنڈ مہیا کرے گا۔

پاکستانی حکام کے مطابق آئندہ مہینوں میں حکام تیسرے مرحلے کا اعلان کریں گے جب فنڈز دستیاب ہوں گے۔

دونوں اقوام کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں

ایچ ای سی اور بین الاقوامی ذرائع کے مطابق تقریباً 7,000 افغان یونیورسٹی طلباء اپنی تعلیم کو پاکستان میں سیلف فنانس کر رہے ہیں۔

30,000 سے زیادہ افغانی جو اپنی تعلیم مکمل کر چکے ہیں افغان حکومت اور ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کر کے اپنے ملک کی خدمت کر رہے ہیں۔

مختار احمد نے امید ظاہر کی کہ اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے پاکستان اور افغانستان کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ "میں افغان طلباء کو نصیحت کرتا ہوں کہ دونوں قوموں نے جس استحصال کا سامنا کیا ہے ]دہائیوں سے[ یہ درست وقت ہے کہ وہ اپنی توانیاں مزید تعمیری سرگرمیوں کی طرف مبذول کریں۔"

پنجاب ایچ ای سی کے چیئرمین محمد نظام الدین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پاکستان افغانستان کو ترقی اور خوشحالی کے تمام مواقع میں کھلے دل سے قبول کرنے کا خواہاں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ، "افغان پناہ گزینوں اور افغان طلباء کے لیے پاکستان میں تعلیم کی رسائی ایک انتہائی مشکل تعلیمی سیاق و سباق رکھتی ہے۔"

اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق پاکستان دنیا میں دوسرا بڑا پناہ گزین رکھنے والا ملک ہے جس میں تقریباً 1.4 ملین افغان شامل ہیں جبکہ500,000 افغان پناہ گزین بچے پاکستان میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

نظام الدین نے کہا کہ "افغان طلباء کو پاکستانی طلباء کے حاصل کیے جانے والے یکساں تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور جنگ زدہ افغانستان میں یونیورسٹیوں کی صلاحیت کی تعمیر کے لیے، حکومت پاکستان میں تعلیم حاصل کرنے والے افغان طلباء کو اسکالرشپس فراہم کر رہی ہے۔"

'طلباء افغانستان کا مستقبل ہیں'

گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا، "ہم افغان طلباء کی پاکستانی یونیورسٹیوں میں میزبانی پر فخر ہے۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یہ طلباء افغانستان میں پاکستان کے سفیر ہوں گے۔"

انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار 28 ستمبر کو اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے مرحلے کے لیے ایچ ای سی کی لاہور میں منعقد کردہ ایک اعزازی تقریب میں کیا۔

رفیق رجوانہ نے امید ظاہر کی کہ افغان طلباء دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات بڑھانے میں کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ "افغان طلباء افغانستان کا مستقبل ہیں۔ ہم ان پر جتنی زیادہ سرمایہ کاری کریں گے، ہماری افغانستان کی صلاحیت میں اضافے میں اتنا زیادہ کردار ہو گا۔"

افغان وزیر تعلیم کے ایک مشیر امان اللہ فقیری نے اعزازات کی تقریب میں طلباء سے خواہش ظاہر کی کہ "واپس اپنے ملک امن کی یادیں اور پیغامات لے کر جائیں۔"

زخیلوال نے ایچ ای سی کو اسکالرشپ سکیم کا پہلا مرحلہ مکمل کرنے اور دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے پر مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے تقریب کے دوران کہا کہ "ہم طلباء کے تبادلے کے ایک اہم موضوع کی خوشی منا رہے ہیں۔ پاکستانیوں سے اچھے تعلقات رکھنا ہمارے لوگوں کی دلی خواہش ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

یہ ایک بیوقوفانہ اقدام ہے جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ تمام افغانی پاکستان کے خلاف ہیں پھر پاکستان کیوں افغان طالبِ علموں کی معاونت کر رہا ہے۔

جواب