https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2020/07/22/feature-01
تعلیم

18 ماہ کی تاخیر کے بعد پاکستان نے افغان طلباء و طالبات کے لیے وظائف کے فنڈ جاری کر دیئے

از عالم زیب خان

image

پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے افغان طلباء و طالبات 10 مارچ کو ایک کرکٹ میچ جیتنے کے بعد فتح کا نشان بناتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ عالم زیب خان]

اسلام آباد -- حکومتِ پاکستان نے ملک کی یونیورسٹیوں میں زیرِ تعلیم افغان طلباء و طالبات کے لیے علامہ محمد اقبال سکالرشپ کے لیے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔

وظیفے کے لیے فنڈز میں پروگرام کی نگرانی کرنے والے، ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے لیے فنڈز کی کمی کے سبب ڈیڑھ سال کی تاخیر ہوئی ہے۔

افغانستان میں پاکستان کے خصوصی ایلچی محمد صادق نے 9 جولائی کو کا ٹوئیٹر پر کہنا تھا، "حکومت نے پاکستان کے وظیفہ پروگرام کے تحت تعلیم حاصل کر رہے افغان طلباء و طالبات کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایچ ای سی کو 1.551 بلین روپے [9.3 ملین ڈالر] جاری کر دیئے ہیں۔"

ان کا کہنا تھا، "افغان نوجوانوں کے لیے یہ اہم پروگرام فنڈز کی کمی کے سبب گزشتہ کئی ماہ سے وسائل کی قلت کا شکار تھا۔"

image

گزشتہ نومبر میں افغان طلباء و طالبات پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز میں ایک کلاس پڑھتے ہوئے۔ [تصویر بشکریہ عالم زیب خان]

اپریل 2018 میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پروگرام کی تحلیقکے بعد فنڈز افغان طلباء و طالبات کی دوسری کھیپ کو جائیں گے۔ علامہ محمد اقبال سکالرشپ سے کئی شعبوں، بشمول طب، انجینیئرنگ، زراعت، انتظام اور کمپیوٹر سائنس میں زیرِ تعلیم نوجوان مستفید ہوتے ہیں۔

ایچ ای سی کے مطابق، پروگرام کا مقصد "دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا" اور "دونوں ممالک کے لوگوں کے لوگوں سے روابط میں اضافہ کرنا" ہے۔

اسلام آباد میں افغان سفارت خانے کے فرسٹ سیکریٹری، احمد شاکر قرار نے کہا، "ہم فنڈز کے اجراء کو سراہتے ہیں، جو ڈیڑھ سال سے رکے ہوئے تھے۔"

13 جولائی کو ان کا کہنا تھا، "ہمیں ایچ ای سی کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ فنڈز جلد ہی یونیورسٹیوں کو منتقل کر دیئے جائیں گے تاکہ وہ طلباء و طالبات کو بروقت مل جائیں۔"

قرار نے کہا، "ہمارا سفارتخانہ پاکستان میں افغان طلباء و طالبات کی بہترین ممکنہ واپسی میں سہولت کاری کا نظام وضع کرنے کے لیے بھی ایچ ای سی اور دفترِ خارجہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔"

دوستانہ تعلقات کا فروغ

بہت سے افغان طلباء و طالبات جو پاکستان میں زیرِ تعلیم تھے وہ کووڈ-19 کورونا وائرس کی عالمی وباء کی وجہ سے اب واپس گھروں کو چلے گئے ہیں۔ پھر بھی، ان کا کہنا ہے کہ وہ فنڈز کے حالیہ اجراء پر خوش ہیں۔

پشاور میں انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز کے ایک افغان طالب علم اقہراللہ جنہیں وظیفے سے نوازا گیا تھا، نے کہا، "شروع میں اسلام آباد میں چند ایک طلباء و طالبات کے لیے کھانے اور رہائش کے مسائل تھے، مگر اب وہ حل ہو گئے ہیں۔"

اقہراللہ، جو اب افغانستان میں ہیں، نے پروگرام کی تعریف کی، مگر ان کا کہنا تھا کہ کچھ طلباء و طالبات کو ابھی بھی انتظامی دشواریوں کا سامنا ہے۔

ان کا کہنا تھا، "حکومت ہر سمسٹر کے اختتام پر ہمیں 45،000 روپے (268 ڈالر) کا چیک دیتی ہے، جسے بینک اکاؤنٹس میں جمع کروانے میں بہت زور اور وقت لگتا ہے کیونکہ ہمارے اپنے اکاؤنٹ نہیں ہیں۔"

ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات افغان طلباء و طالبات کے لیے سہولت کاری کریں گے اور دو اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو فروغ دیں گے۔

ایک اور افغان طالب علم، احسان اللہ افغان نے کا کہ انہیں فنڈنگ کے فیصلے کی خوشی ہے۔ وہ گزشتہ دسمبر میں کابل میں وظیفے کی درخواست کے جزو کے طور پر دیئے گئے ایک امتحان کے نتائج کے منتظر ہیں۔

امتحانی نتائج فنڈز کی اسی قلت کی وجہ سے تاخیر کا شکار تھے۔

انہوں نے کہا، "میں ان 15،000 طلباء و طالبات میں شامل ہوں جنہوں نے دسمبر 27-25، 2019 کو [افغانستان میں] پانچ مختلف مقامات پر منعقد ہونے والا امتحان دیا تھا۔"

ان کا کہنا تھا، "اب، ہم پُرامید ہیں کہ حکومتِ پاکستان، پاکستان کی یونیورسٹیوں میں داخلوں کے دوسرے مرحلے کو تیزی سے مکمل کرے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 5
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 حروف باقی ہیں (حد 1500 حروف)

یہ پاکستان اور افغانستان ہر دو کے تعلقات کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے طلبہ اور عوام کو مدد ملے گی۔
اچھا مکالہ

جواب

دونوں ملکوں کے عوام کے باہمی رابطہ کے لیے اچھی کاوش۔ آپ کو انگریزی میں لکھتے دیکھ کر خوشی ہوئی۔

جواب

نہایت خوب تحریر۔ یہ درست ہے کہ حکومت کا طریقِ کار واقعی سست ہے جو طلبہ کی تعلیم، ملکی ترقی اور عوامی روابط کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے۔ یہ شاندار ہے کہ بالآخر حکومت نے فنڈز جاری کر دیے۔

جواب

بہت اچھی تحریر۔ حکومت کا طرقِ کار واقعی سست ہے جو طلبہ کی تعلیم، ملک کی ترقی اور عوامی رابطہ کے لیے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ میں خود حکومتِ کے پی کے وظیفے کے تحت چین میں زیرِ تعلیم ہوں، ہم نے بھی تقریباً پانچ ماہ تک انہی مسائل کا سامنا کیا۔ میں افغان بھائیوں کا دکھ سمجھ سکتا ہوں۔ یہ شاندار ہے کہ بالآخر حکومت نے فنڈز جاری کر دیے۔

جواب

نہایت خوب تحریر۔ یہ درست ہے کہ حکومت کا طریقِ کار واقعی سست ہے جو طلبہ کی تعلیم، ملکی ترقی اور عوامی روابط کے لیے مسائل پیدا کرتا ہے۔ یہ شاندار ہے کہ بالآخر حکومت نے فنڈز جاری کر دیے۔

جواب