https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/11/11/feature-01
تعلیم |

نئے تربیت یافتہ مہاجر اساتذہ نے افغان بچوں کے لیے مزید راستے کھولے

ظاہر شاہ شیرازی

image

افغان شہری جو خیبر پختونخواہ کے مہاجر اسکولوں میں پڑھاتے ہیں، اکتوبر میں پاکستانی نصاب کے بارے میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

پشاور -- پاکستان میں افغان مہاجر اسکولوں کے اساتذہ، جدید پاکستانی نصاب میں تربیت حاصل کر رہے ہیں تاکہ وہ نہ صرف اساتذہ کی اہلیت کو بڑھا سکیں بلکہ افغان مہاجر بچوں کے لیے اعلی تعلیم کے مزید راستے کھول سکیں۔

خیبرپختونخواہ (کے پی) کے افغان مہاجر اسکولوں کے اساتذہ کا کہنا ہے کہ انہیں نئے نصاب اور تعلیمی معیار میں بہتری کے بارے میں بڑی امیدیں ہیں۔

ابھی تک، کم از کم 720 اساتذہ نصاب کی تربیت حاصل کر چکے ہیں جسے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے فراہم کیا ہے۔ اس تربیت میں پاکستانی نصاب کے مضامین کے بارے میں انگریزی اور پشتو میں پڑھایا جاتا ہے۔

image

کے پی کے وزیرِ اعلی کے ایلیمنٹری اور اسکینڈری ایجوکیشن کے مشیر، ضیا اللہ بنگش، 15 اکتوبر کو پشاور میں افغان اساتذہ کے تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

image

خاتون افغان اساتذہ اکتوبر میں پاکستانی نصاب کے بارے میں تربیت کے مختلف سیشنوں میں شرکت کر رہی ہیں۔ [ظاہر شاہ شیرازی]

ایک حالیہ پروگرام میں، 635 افغان مہاجر اساتذہ نے 5 سے 15 اکتوبر تک ایک 10 دن کے تربیتی پروگرام میں شرکت کی۔

علاوہ ازیں، 15 اکتوبر کو، نصاب اور اساتذہ کی تعلیم کے لیے کے پی کے ڈائریکٹریٹ نے 91 افغان مہاجر اساتذہ کی تین ماہ طویل تربیت کا اختتام کیا۔

یو این ایچ سی آر کی 15 اکتوبر کو جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق، یو این ایچ سی آر کی طرف سے فراہم کیے جانے والے دونوں پروگرام کے پی ایلیمنٹری اینڈ اسکینڈری ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیرِ انتظام آتے ہیں اور ان کا مقصد افغان اساتذہ کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ اگلے تعلیمی سال میں پاکستانی اسکولوں کا نصاب پڑھا سکیں۔

تعلیم ایک "اولین ترجیح" ہے

کے پی کے وزیرِ اعلی کے لیے ایلیمنٹری و اسکینڈری ایجوکیشن کے مشیر ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ "کے پی کی حکومت نے اپنے ہنگامی تعلیمی پروگرام میں پہلے ہی صوبہ میں تعلیمی شعبہ کو ترجیح دی ہے اور افغان بچوں کی تعلیم ہمیشہ سے ہماری اولین ترجیح رہی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت اور افغان مہاجر اسکولوں میں پاکستانی نصاب کے تعارف کے دور رس اثرات ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس سے نہ صرف مہاجر بچوں میں جدید تعلیم کی تشہیر ہو گی بلکہ اس سے تعلیمی معیارات کو بہتر بنانے اور اساتذہ کی اہلیتوں کو بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

کے پی کے صوبائی انسٹی ٹیوٹ برائے ٹیچرز ایجوکیشن کے ایک استاد اور اس پروگرام کے لیڈ ٹرینر منیر علی شاہ نے کہا کہ اس طرح کی تربیت کی انتہائی شدید ضرورت تھی۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ بہت سے اساتذہ کو انگلش زبان کے مضامین جیسے کہ حساب اور سائنس کو پڑھاتے ہوئے مشکل ہوتی ہے، کہا کہ "پہلی سے چوتھی جماعت کے اساتذہ کو نصاب کے بارے میں تربیت فراہم کی گئی"۔

شاہ نے کہا کہ "یہ مہاجر اسکولوں کے اساتذہ کے لیے بہت ضروری تھا کیونکہ اسے اساتذہ اور طلباء کی ضروریات کا اندازہ لگانے کے بعد، مناسب طریقے سے منصوبہ کیا گیا تھا"۔

شاہ نے مزید کہا کہ افغان بچوں کو تربیت یافتہ اساتذہ سے بہت زیادہ فائدہ ہو گا کیونکہ اب وہ جو نصاب پڑھیں گے وہ پاکستانی اسکولوں میں پڑھائے جانے والے نصاب والا ہو گا۔ اس اصلاح سے انہیں اونچے درجے کے پاکستانی اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں،یہاں تک کہ غیر ملکی اسکولوں میں بھی داخلہ لینے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ "سرحدی اور دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے پاکستانی طلباء کے لیے بہت فائدہ مند ہو گا جہاں اسکول میسر نہیں ہیں یا وہ کام نہیں کرتے ہیں"۔

مطمئین اساتذہ

افغان اساتذہ، جنہوں نے یہ تربیت حاصل کی، انہوں نے نئے نصاب اور اپنی نئی صلاحیتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ناگومان کے اسکول نمبر 174 کے ایک افغان استاد توحید اللہ نے کہا کہ "تربیت انتہائی عمدہ تھی اور ہماری صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے اس کی اشد ضرورت تھی۔ مجھے خوشی ہے کہ میں نے بچوں کو پڑھانے کی جدید تکنیکیں سیکھی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ان مہاجر اسکولوں میں سکھائے جانے والے روایتی نصاب میں تبدیلی بہت ضروری تھی کیونکہ نیا نصاب جدید دور کی ضرورتوں کے مطابق ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائنس، حساب اور انگزیری بول چال میں تربیت "بہت اچھی" تھی۔

ناگومان کے مہاجر اسکول میں دوسری جماعت کے ایک استاد، عرفان اللہ نے کہا کہ "تربیت اچھی ہے" مگر اضافی تربیت بھی فائدہ مند ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ "کورس کی مختلف جہتوں پر، ایک ماہانہ ریفریشر کورس یا سہ ماہی یا ششماہی تربیت ہونی چاہیے جس کا طلباء اور اساتذہ دونوں پر ہی زیادہ بہتر اثر ہو گا"۔

شمشاتو کیمپ اسکول نمبر 279 کے ایک استاد صلاح الدین نے کہا کہ "بہتر طور پر تربیت یافتہ استاد زیادہ موثر طریقے سے علم کو منتقل کر سکتے ہیں اور جدید نصاب کا حتمی فائدہ طلباء کو ہی ہو گا"۔

انہوں نے کہا کہ "پرانا نصاب بہت عجیب تھا اور جدید ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا تھا"۔

ناگومان کے افغان گرلز اسکول کی ہیڈ ٹیچر سجادہ نے کہا کہ "افغان اساتذہ کو اس تربیت کی براہِ راست ضرورت ہے کیونکہ انہیں نصاب میں مہارت حاصل نہیں ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "یہ صلاحیتوں کی تعمیر میں انہیں فائدہ پہنچانے میں کافی آگے تک جائے گا جب وہ ان تکنیکوں کو اپنے طلباء اور افغانستان واپس جا کر اپنے ہم منصبوں کو سکھائیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha