https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/12/19/feature-02
| سلامتی

امریکی بحریہ کی خلیج میں موجودگی خطے میں استحکام میں مدد دی رہی ہے: ماہرین

مسقط سے فتح اللہ مخلص

image

نومبر میں گائڈیڈ میزائل تباہ کرنے والے امریکی بحری جہاز نِٹزے (DDG 94) پر تعینات ملّاح مصیبت میں مبتلا ایک ایرانی کشتی کی اعانت کر رہے ہیں۔ [تصویر بشکریہ امریکی بحریہ]

امریکی بحریہ کی خلیجی پانیوں، خلیج اومان، بحیرۂ احمر، بحیرۂ عرب اور بحرِ ہند کے کچھ حصوں میں تعیناتی اس بین الاقوامی بحری اشتراک کا حصّہ ہے جو سویلین بحری ٹریفک کے لیے سلامتی فراہم کرتا ہے۔

26-قومی مشترکہ بحری افواج کے عملہ اور بحری جہاز تین پرنسپل ٹاسک فورسز میں منظم کیے گئے ہیں جو انسدادِ بحری قزّاقی اور انسدادِ دہشتگردی مشنز کر کے سویلین بحری ٹریفک کے لیے سلامتی فراہم کرتی ہیں۔

بحریہ کے حکام کا کہنا ہے کہ ان مشنز کی معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ 5ویں امریکی بیڑے نے علاقائی پانیوں میں متعدد ریسکیو آپریشنز میں حصّہ لیا ہے اور مصیبت میں گرفتار کشتیوں کو مکینیکل اور طبی امداد فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی بحری افواج کی سنٹرل کمانڈ کی جانب سے تعینات کیے گئے بحری جہازوں نے 2012 سے اب تک 30 سے زائد مواقع پر ملّاحوں کی مدد کی ہے جن میں 18 سے زائد میں ایرانی ملّاح شامل تھے۔

مصیبت میں گرفتار ایرانی کشتیوں کی مدد

18 نومبر کو امریکی بحری جہاز نیٹزے تین ایرانی ماہی گیروں کو بچانے آیا، جن کی چھوٹی کشتی خراب بیٹری کی وجہ سے مصیبت میں گرفتار تھی۔

بحری سیکیورٹی آپریشنز کی معاونت کے لیے خلیجی پانیوں میں تعینات، گائیڈڈ میزائل تباہ کرنے والے اس بحری جہاز کے عملہ نے کشتی کے مقام کا تعین کرکے اس کی شناخت کی اور ماہی گیروں کو نئی بیٹری اور پانی کا ایک ڈبہ فراہم کیا۔

چند روز بعد 29 نومبر کو بحری سلامتی کے آپریشنز کی معاونت کے لیے تعینات دو امریکی جنگی بحری جہاز مصیبت میں گرفتار چھ ایرانی ملّاحوں کی مدد کو آئے۔

امریکی بحری افواج کی سنٹرل کمانڈ نے کہا کہ امریکی بحری جہاز ہاپر اور امریکی بحری جہاز مونٹیری کو برِج ٹو برِج ریڈیو کے ذریعے ماہی گیر کی ایک چھوٹی ایرانی بادبان کشتی کی کال وصول ہوئی۔

بحریہ نے کہا کہ جواب میں مونٹیری نے کشتی کی تلاش میں اپنا ہیلی کاپٹر بھیجا، جبکہ ہاپر نے ملّاحوں کو فوری اعانت فراہم کرنے کے لیے اپنی بورڈنگ ٹیم تیار کی۔

جب ہاپر کے پیراک کشتی پر پہنچے تو انہیں کشتی پر سوار چھ ملّاح بیمار ملے۔ ہاپر کے پیراکوں نے ایرانی کشتی کے عملہ کو ادویات فراہم کیں اور اس امر کو یقینی بنانے کے بعد وہاں سے روانہ ہوئے کہ عملہ محفوظ ہے۔

ہاپر کے کمانڈنگ آفیسر کموڈور جے۔ ڈی گئینی نے کہا، ”مروجہ بین الاقوامی قانون کے تحت، ہم مصیبت میں گرفتار ملّاحوں کی مدد کرنے کی مدت سے قابلِ احترام روایت کو جاری رکھتے ہیں اور اپنے ساتھی ملّاحوں کی مدد کر نے پر ہمیں فخر ہے۔“

بحری سلامتی کی معاونت

حکمتِ عملی اور بحری قوانین کے اومانی ماہر سلیمان السویدی نے المشارق سے بات کرتے ہوئے کہا، ”خلیج اور بحیرۂ اومان میں امریکی موجودگی تمام ممالک کے لیے سود مند ہے۔“

انہوں نے کہا کہ یہ تیل کی عالمی سپلائی کا تحفظ کرتی ہے اور اس امر کو یقینی بناتی ہے کہ یہ کسی ایسی جماعت کے ہاتھوں میں نہ آ جائے جو خطہ میں تناؤ پیدا کر سکے اور عالمی معیشت کو نقصان پہنچا سکے۔

انہوں نے مزید کہا، ”ہمسایہ ممالک کی بحری افواج کے ساتھ اشتراک سے امریکی بحریہ نے بحری قزّاقی کے خاتمہ اور ملّاحوں کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ اشیا و مصنوعات کے لیے خدشہ کا باعث بننے والے خطرہ سے عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے مدد کی ہے۔“

السویدی نے کہا، ”دوطرفہ اور مشترکہ تعلقات اور تعاون کے منصوبے [امریکی موجودگی] کی یقین دہانی کرتے ہیں اور خطے کے ممالک، بالخصوص خلیجی ممالک اور امریکہ کے درمیان متوازن تعلقات کو یقینی بناتے ہیں۔“

اومان سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی تعلقات کے ماہر جاصِّم الشمسی نے المشارق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی تعاون کی کاؤنسل (جی سی سی) ممالک اور امریکی فوج کے درمیان تعلق ”شاندار“ ہے۔

انہوں نے کہا، امریکہ ”اس خطے کو سہولیات فراہم کر رہا ہے جسے، بالخصوص خلیج، بحیرۂ اومان، بحیرۂ شمالی عرب، خلیج عدن اور بحیرۂ احمر کے پانیوں کے تحفظ کے حوالہ سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔“

نمایاں انسان دوست کردار

الشمسی نے کہا کہ مدد کی درخواست کرنے والوں کی قومیت کے قطع نظر ریسکیو آپریشنز میں مدد کر کے علاقائی پانیوں میں تعینات امریکی بحری افواج ایک نمایاں انسان دوست کردار بھی ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، ”وہ بالآخر ہر کسی سے اس نقطۂ نظر سے پیش آتے ہیں کہ وہ انسان ہیں انہیں ایک معاون شخص اور مدد کی ضرورت ہے۔“

مصر کی نصیر ملٹری اکیڈمی کے حکمتِ عملی کے ماہر میجر جنرل احمد عبدالحلیم نے کہا، ”ریسکیو آپریشن ان انسان دوست آداب کا جُز ہیں جن کا ملّاح خیال رکھتے ہیں، لیکن چند مصیبت میں گرفتار ہونے کی کالز موصول ہونے پر نظرانداز کر دیتے ہیں، جبکہ دیگر فوری ردِّ عمل دیتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ امریکی بحری افواج نے 18 نومبر کو مصیبت میں گرفتار تین ایرانی ماہی گیروں کی آفت میں مبتلا ہونے کی کا کا فوری ردِّ عمل دیا۔

انہوں نے کہا، ”امریکی افواج کو ان کی انسان دوست کاوشوں کی نیک نامی ملتی ہے، کیوں کہ وہ طویل مدت سے احترام کی نظر سے دیکھے جانی والی روایات پر عمل کرتے ہیں اور سیاسی اغراض کو عسکری اغراض سے جدا رکھتے ہیں اور انتخاب کرتے ہیں کہ بحالی کا کام انسانیت کی غرض سے کیا جائے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
7
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha