https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/08/30/feature-02
| سلامتی

پاکستان نے کے پی کے پولیس افسروں کو تمغۂ شجاعت عطا کیے

جاوید خان

image

4 اگست کو صوابی میں پولیس افسر اپنے ایک شہید ساتھی کی قبر پر پاکستانی پرچم رکھ کر اسے خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں صدر ممنون حسین نے کے پی کے 20 پولیس افسروں، چند کے لیے بعد از مرگ، کے لیے تمغۂ شجاعت کا اعلان کیا۔ [جاوید خان]

پشاور— دہشتگردوں سے لڑائی میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے پر پاکستان نے خیبر پختونخواہ (کے پی) پولیس کو شجاعت کے اعلی اعزازات سے نوازا۔

فرض کی راہ میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کرنے پر 9 پولیس افسروں نے صدارتی تمغہ پولیس (پی پی ایم) برائے پولیس عملہ، جبکہ 11 افسروں نے قائد اعظم تمغۂ پولیس (کیو پی ایم) وصول کیا۔

یہ دو تمغے صوبائی حکومتوں اور دیگر متعلقہ حکام کی سفارش پر 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر بطورِ خاص صدر کی جانب سے عطا کیے جاتے ہیں۔

مثالی خدمت

پی پی ایم وصول کرنے والوں میں صوابی میں بطور (ڈی پی او) عسکریت پسندوں کے خلاف متعدد آپریشنز کی قیادت کرنے والے سینیئر سپرانٹنڈنٹ پولیس سجّاد خان شامل تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”پولیس نے ان عسکریت پسندوں اور ٹارگٹ کلرز کی ایک بڑی تعداد کو گرفتار کرنے کے لیے صوابی بھر میں مسلسل آپریشنز کیے جو امنِ عامہ کے لیے خطرے کا باعث تھے۔“

خان نے کہا، ”تمام تر صوابی پولیس نے امنِ عامہ کے قیام اور عسکریت پسندوں اور جرائم پیشہ افراد کے تعاقب میں ایک کلیدی کردار ادا کیا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ جرائم پیشہ افراد میں سے متعدد پولیس اور دیگر افواج کے ساتھ مقابلہ میں مارے گئے۔

انہوں نے کہا کہ صوابی کی پی پی ایم اور کیو پی ایم حاصل کرنے والی پولیس نے متعدد مواقع پر غیرمعمولی شجاعت کا مظاہرہ کیا۔

چند اہلکار اپنے انعامات دیکھنے کے لیے زندہ نہیں۔ ان میں پی پی ایم حاصل کرنے والے کانسٹیبل خرم شہزاد، کانسٹیبل ساجد خان اور سب انسپکٹر حیدر شاہ شامل ہیں۔

بعد از مرگ کیو پی ایم حاصل کرنے والوں میں سب انسپکٹر سلطان محمود، سب انسپکٹر نجیب اللہ، کانسٹیبل امیر نواز، کانسٹیبل منیر احمد، کانسٹیبل عدنان اسلم، کانسٹیبل عبدالقیوم، کانسٹیبل جہانزیب اور کانسٹیبل صابر نواز شامل ہیں۔

بونیر کے ڈی پی او خالد ہمدانی کیو پی ایم کے زندہ وصول کنندہ ہیں۔ دہشتگردوں نے 17 اگست کو اس وقت ان کے کانوائے پر حملہ کیا جب وہ بونیر سے سوات جا رہا تھا۔ اس روز ہمدانی اور ان کے ہم پیشہ ایک بم حملے اور گولیوں سے محفوظ رہے۔

کئی شجاع پولیس اہلکاروں کے مابین ہیروز

کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درّانی نے کہا، ”اس فورس میں ایسے ہزاروں بہادر اہلکار ہیں جو دہشتگردوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے اور انہیں صوبے بھر میں شکست دی۔“

انہوں نے کہا کہ شجاعت کے اعلیٰ ترین تمغے حاصل کرنے والے اس فورس کے ہیرو ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”تمغہ وصول کرنےوالے سٹیشن ہاؤس آفیسرز میں سے ایک مارچ 2015 میں صوابی میں عسکریت پسندوں کے ساتھ سات گھنٹے طویل مقابلہ میں زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال لے جایا گیا۔ وہ ہنگامی معالجہ کے بعد دہشتگردوں کو شکست دینے کے لیے موقع پر واپس پہنچے۔“

انہوں نے کہا کہ پورے ملک کو اس فورس کے شہادت پانے والے ہیروز کی قربانیوں پر فخر ہے۔

انہوں نے کہا، ”اس فورس نے انسپکٹر جنرل کے عہدے سے کانسٹیبل تک اہلکاروں کی قربانیاں دی ہیں، لیکن اہلکاروں کا عزم ہمیشہ بلند رہا ہے، جو ان کی شجاعت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔“

کے پی میں پولیس کا احترام

حکومتِ کے پی نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ اپنے علاقوں میں امن عامہ کی بہتری کے لیے سب سے زیادہ کام کرنے والی پولیس کو اپنے تمغے عطا کرے گی۔

4 اگست کو پشاور میں یومِ شہداء کی ایک تقریب کے دوران کے پی کے وزیرِ اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا، ”ہم نہ صرف پولیس فورس کو مزید فوائد اور سہولیات دیں گے بلکہ اپنے ذاتی صوبائی تمغے متعارف کرا کے ان کی حوصلہ افزائی بھی کریں گے۔“

کے پی پولیس کے تمغے حاصل کرنے والے اہلکاروں میں وہ ہیروز بھی شامل ہیں جنہوں نے جنوری میں چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی (بی کے یو) پر دہشتگردانہ حملے کا خاتمہ کیا۔ جامعہ کی چاردیواری پھلانگنے والے چار دہشتگردوں نے تقریبا 20 طالبِ علموں، اساتذہ اور دیگر عملہ کو قتل کیا۔

پولیس نے اموات کی تعداد دسمبر 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول میں ہونے والے قتلِ عام تک پہنچنے سے روک لی، جو کہ 140 سے زائد تھی۔ انہوں نے چاروں دہشتگردوں کو ہلاک کرتے ہوئے بی کے یو کے کیمپس کو صاف کر دیا۔

ایک ڈپٹی سپرانٹنڈنٹ پولیس، رضا محمّد خان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”اس واردات کے دوران غیرمعمولی شجاعت کا مظاہرہ کرنے والے ایک سب انسپکٹر اور دو کانسٹٰیبلز کو پی پی ایم اور کیو پی ایم سے نوازا گیا۔“

مشاہدین کا کہنا ہے کہ متعدد وجوہات کی بنا پر 2013 سے اب تک پی پی ایم اور کیو پی ایم عطا نہیں کیے گئے؛ لہٰذا رواں برس انہیں عطا کیے جانے سے پولیس کا عزم بلند ہو گا۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی اور سیکیورٹی تجزیہ کار قیصر خان نے کہا، ”نقد انعام اور اسناد انہیں دی جاتی ہیں جن کی کارکردگی اچھی ہو، لیکن غیر معمولی طور پر کارکردگی کے حامل پولیس اہلکاروں کو پی پی ایم اور کیو پی ایم کے لیے تجویز کیا جاتا ہے“۔

انہوں نے پیشین گوئی کی کہ تسلسل میں اس خلاء کے بعد رواں برس یہ انعامات ”اچھا کام کرنے والوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہوں گے۔“

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha