دہشتگردی

کے پی پولیس کی جانب سے نوجوان کانسٹیبل کی بہادری کو خراجِ عقیدت

از عدیل سعید

image

کے پی انسپکٹر جنرل ناصر خان درانی 2 ستمبر کو ضلع مردان میں لال بادشاہ سے ان کے بیٹے، کانسٹیبل جنید خان کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے۔ اس روز کانسٹیبل خان نے مردان میں اپنی جان قربان کی تھی۔ [عدیل سعید]

پشاور -- جلد ہی ہونے والی شادی اور ایک طویل اور خوش باش زندگی کے خواب ایک بہادر نوجوان پولیس کانسٹیبل کو 2 ستمبر کو ضلع مردان کی کچہری میں خودکش حملہ روکنے کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے نہیں روک پائے۔

24 سالہ جنید خان، جنہوں نے سنہ 2012 میں خیبرپختونخوا (کے پی) پولیس میں شمولیت اختیار کی تھی، نے ایک خودکش بمبار کو اپنے ہدف کو نشانہ بنانے اور کچہری میں قتل عام کرنے سے روکا۔

جنید نے خودکش بمبار کا تعاقب کیا، جو ایک حفاظتی پہرے کو توڑ کر نکل گیا تھا۔

اگرچہ وہ ایک ہینڈ گرنیڈ سے شدید زخمی ہو گیا تھا، جنید نے بمبار کے ساتھ دھینگامشتی کی اور اس پر گولی چلا دی۔ گولی سے بمبار کی خودکش جیکٹ پھٹ گئی، جس سے جنید بھی شہید ہو گیا۔

پاکستان کا فخر

مردان کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس اعجاز خان نے کہا، "اگرچہ تین پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوئے، اگر حملہ آور اپنے مقررہ ہدف تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا تو بے شمار اموات ہوتیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کانسٹیبل جنید نے کے پی پولیس کے تاج میں ایک اور ہیرے کا اضافہ کر دیا ہے، جس نے ہمارے ملک کی دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔"

اعجاز نے کہا، "وہ پورے ملک کا فخر ہے۔ اس نے ایک بھرپور پیغام دیا ہے ۔۔۔ کہ من حیث القوم ہم اپنی مادرِ وطن اور اس کے عوام کے لیے ہر قسم کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

اعجاز نے کہا کہ جنید خود کو بچا سکتا تھا، لیکن اس نے خود کو سنگین خطرے میں ڈالا۔

اعجاز نے کہا، "یہ وہ جذبہ ہے جو ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ میں فتحیاب ہو کر نکلنے کے قابل بنائے گا۔"

اس روز دھماکے والے مقام کے دورے کے دوران، کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس ناصر درانی نے کہا کہ انہیں کے پی پولیس کی دلیری پر فخر ہے۔

انہوں نے 2 ستمبر کو صحافیوں کو بتایا، "جب میں زخمیوں کی عیادت کرنے کے لیے ہسپتال گیا، ان سب نے پولیس کی بہادری کی تعریف کی۔"

انہوں نے کہا، "کے پی پولیس کی تاریخ ہمارے افسران کی قربانیوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے دہشت گردوں کو روکنے کے لیے زندگی کی بجائے موت کا انتخاب کیا۔"

ایک مقامی وکیل، حیدر علی، جو عینی شاہد ہیں، نے بھی اُس روز فرائض انجام دینے والے پولیس افسران کی بہادری کو سراہا۔ علی نے کہا کہ اگر خودکش بمبار اپنے ہدف پر پہنچ جاتا، تو اموات بہت زیادہ ہو جاتیں۔

دھماکے کے بعد علی نے صحافیوں کو بتایا، "فرائض انجام دے رہے پولیس افسران نے بہادری سے خودکش بمبار کا مقابلہ کیا اور جنید نے اس کا تعاقب کر کے اور فائر کھول کر اس سے بھی زیادہ بہادری کا مظاہرہ کیا۔ اس سے بارودی جیکٹ پھٹ گئی۔"

جنید کے اہلِ خانہ فخر کے ساتھ سوگوار

جنید کے اہلِ خانہ سوگوار ہیں لیکن اس کی شہادت پر نازاں ہیں۔

پھوپھا، لال بادشاہ، جنہوں نے جنید کو باپ بن کر پالا تھا، نے کہا کہ اس کی "بے وقت شہادت ۔۔۔ نے ہمیں انتہائی دکھ اور غم دیا ہے لیکن ہمارے سر فخر سے بلند کر دیئے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "جنید شیرخوار تھا جب اس کی والدہ چارسدہ میں انتقال کر گئی، لہٰذا میری زوجہ، جو اس کے والد کی بہن تھیں، انہیں مردان میں تورو گاؤں میں ہمارے گھر لے آئیں۔"

لال بادشاہ نے اشکبار آنکھوں کے ساتھ کہا، "ہم نے اسے اپنے بیٹے کا پیار دیا۔ وہ ہمیں اپنے والدین سمجھتا تھا۔"

انہوں نے کہا، "مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے کیونکہ اس نے انسانیت کی خاطر اپنی جان قربان کی۔"

ان کی زوجہ بھی اتنا ہی غم اور فخر محسوس کرتی ہیں کا اضافہ کرتے ہوئے، انہوں نے کہا، "ہمارے بیٹے نے بزدلی نہیں دکھائی ۔۔۔ اور دہشت گردی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑا۔"

جنید نے اپنی منگیتر کے ساتھ اپنے مستقبل کے خواب قربان کر دیئے۔

اس کے بھائی فاروق اللہ، کے پی پولیس میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر، نے کہا، "جنید ۔۔۔ اپنی شادی کے منصوبے بنا رہا تھا، جو کہ ستمبر کے آخر میں ہونا طے پائی تھی۔"

انہوں نے کہا، "مردان خودکش حملے سے چند روز پہلے، ہم ایک سنار کی دکان پر گئے اور اس کے زیورات کا آرڈر دیا تھا۔"

فاروق اللہ نے کہا، "جنید کی تمام خواہشات اس کے ساتھ ہی قبر میں چلی گئیں۔ اس نے ۔۔۔ اپنے ہم وطنوں کو بچانے کے لیے موت کو گلے لگا لیا۔"

انہوں نے کہا، "مجھے اپنے بھائی کی بہادری پر فخر ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ لڑائی میں میں اسی بہادری اور جذبے کا اعادہ کروں گا۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

بہادر آدمی

جواب