https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/04/24/feature-02
| صحت

افغانستان کے ساتھ رابطے کے منصوبے کے جزو کے طور پر پاکستان کینسر کے علاج کا مرکز بنانے کا خواہش مند

از اشفاق یوسفزئی

image

عام شہری اور فوجی 20 اپریل کو کابل میں نئے افتتاح کردہ محمد علی جناح ہسپتال کے سامنے کھڑے ہیں۔ [پاکستانی وزارتِ خارجہ]

پشاور -- وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستانی حکام کو حکم دیا ہے کہ اپنے ہمسایہ ملک کی ترقیاتی اعانت کے جزو کے طور پر افغانستان میں سرطان کے علاج کا مرکز فراہم کرنے کے معاملے کو دیکھیں۔

عمران خان نے 19 اپریل کو پشاور میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور تحقیقی مرکز (ایس کے ایم سی ایچ اینڈ آر سی) کا دورہ کیا، جس میں انہوں نے افغان مریضوںکے ساتھ ملاقات کی جنہوں نے انہیں اپنے ملک میں علاج کی قلت کے متعلق بتایا۔

اسی روز شام کے وقت ضلع اورکزئی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ جب افغانستان میں امن ہو جائے گا تو وہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور تحقیقی مرکز کی ایک شاخ وہاں کھولنا چاہتے ہیں۔

image

وزیرِ اعظم عمران خان 19 اپریل کو ضلع اورکزئی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے۔ [پی ٹی آئی]

خان، جو کہ شوکت خانم میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین ہیں، نے متعلقہ حکام سے کہا ہے کہ وہ "شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی ایک شاخ افغانستان میں کھولنے کے امکانات پر غور کریں تاکہ لوگوں کا علاج وہیں ہو سکے۔"

بطور چیئرمین، خان نے کینسر کے دو ہسپتال بنائے ہیں، ایک لاہور میں اور دوسرا پشاور میں۔ ان کی والدہ، جو کہ کینسر کی وجہ سے انتقال کر گئی تھیں، کی یاد میں تیسرا ہسپتال کراچی میں تعمیر ہو رہا ہے۔

'ایک عظیم مدد'

دونوں ہسپتالوں کے میڈیکل ڈائریکٹر، ڈاکٹر عاصم یوسف کے مطابق، لاہور اور پشاور میں واقع ہسپتالوں میں ہر سال مفت خدمات وصول کرنے والے مریضوں میں سے 5 فیصد افغان مریض ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا، "کابل میں ایک شاخ کی تعمیر بروقت علاج کروانے میں مریضوں کی مدد کرے گی۔ کینسر کا مرض افغانستان میں عام ہے۔"

یوسف نے کہا، "ہم مریضوں کی چھان بین کرنے کے لیے ابتدائی طور پر ایک غیر رسمی کلینک تشکیل دینے کے لیے افغان حکومت سے رابطہ کریں گے۔"

یوسف کے مطابق، پاکستان آنے والے زیادہ تر مریض اپنے مرض کے آخری مراحل میں ہیں اور ناقابلِ علاج ہیں۔ کابل میں ایک سہولت گاہ کا قیام ابتدائی مراحل پر معائنے کروانے اور تشخیصیں حاصل کرنے میں افغانیوں کی مدد کرے گا۔

افغان وزیر برائے عوامی صحت، ڈاکٹر فیروزالدین فیروز نے خان کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال میں ہمارے مریضوں کے لیے مفت خدمات فراہم کرنے پر ہم عمران خان کے شکرگزار ہیں۔ ہم یہاں ایک ہسپتال کے بارے میں [خان] کی جانب سے ایک تجویز کے منتظر ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ چھاتی کا سرطان افغان خواتین کے دکھوں میں سے ایک بڑا دکھ ہے، انہوں نے مزید کہا کہ کینسر کی بہت سی اقسام کا پھیلاؤ بھی حکومت کے لیے پریشانی کا ایک سبب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے شعبۂ صحت کی ترقی میں پاکستان نے بہت زیادہ مدد کی ہے۔

بڑھتی ہوئی اعانت

خان نے یہ اعلان 20 اپریل کو کابل میں محمد علی جناح ہسپتال کے افتتاح سے قبل کیا ہے۔

مزدوروں نے پاکستانی سرمائے سے تعمیر ہونے والے 200 بستر کے ہسپتال کی تعمیر اس کی اصل تاریخِ تکمیل سے آٹھ ماہ پہلے مکمل کر لی ہے۔

پاکستانی وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور علی محمد خان، جو کابل میں افتتاحی تقریب میں شریک تھے، نے کہا کہ جناح ہسپتال، جو 24 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل ہوا ہے، پاکستان کی جانب سے افغانستان کے عوام کے لیے ایک تحفہ ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ افغانستان کے صحت کے شعبے میں ایک بہت بڑا حصہ ہے، جو لامتناہی جنگ اور لاقانونیت سے متاثر رہا ہے۔"

خان نے مزید کہا، "ہم جنگ سے تباہ حال ملک میں طبی دیکھ بھال کو مضبوط کرنے کے لیے اپنے ہسپتالوں میں افغان ڈاکٹروں، نرسوں اور نیم پیشہ ور طبی عملے کوتربیت کے مواقع فراہمکرتے رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم افغانستان کے عوام کی بہبود کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنا جاری رکھیں گے۔ پاکستان ایک مستحکم، محفوظ، پُرامن، خوشحال اور خودمختار افغانستان دیکھنا چاہتا ہے۔"

افغانستان میں پاکستانی سفیر زاہد نصراللہ خان نے کہا کہ جناح ہسپتال افغانستان کی مدد کرنے کے لیے پاکستان کے 1 بلین ڈالر کے ترقیاتی پروگرام کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، جو کہ "دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کے لوگوں سے روابط کو گہرا اور وسیع کرنے کی پاکستانی پالیسی کے مقصد کے مطابق ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

تاریخ اور پسِ منظر

ایڈٹ

جناح ہسپتال کی تعمیر کے لیے پاکستان نے مالیات فراہم کیے اور اس کا نام پاکستان کے بانی اور پہلے گورنر جنرل، محمّد علی جناح کے نام پر رکھا گیا۔ یہ پاکستان تکنیکی معاونت پروگرام کے تحت افغانستان میں 1 بلین ڈالر تک کی مالیت کے پاکستانی معاونت اور ترقیاتی منصوبے کے سلسلہ کا ایک جزُ ہے۔ [2][6][7][8]ہراول منصوبہ کی منصوری پلاننگ کمیشن نے ابتدائی طور پر 18 ملین ڈالر کی لاگت پر دی تھی، اور اس معاہدہ پر مارچ 2007 میں دستخط کیے گئے۔ [12] جناح ہسپتال کے خاکہ اور تعمیرات کی خدمات NESPAK اور نیشنل لاجسٹک سیل نے سرانجام دیں۔ [11] افغان حکومت کی جانب سے کابل کے تیرہویں ضلع میں اس طبّی کمپلیکس کے لیے تقریباً 25 ایکڑ زمین مختص کی گئی تھی۔ [9][13]

جواب