https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/15/feature-01
| سفارتکاری

برطانوی شاہی خاندان کے شہزادہ ویلیم اور کیٹ میڈلٹن نے دورٴ پاکستان کا آغاز کر دیا

اشفاق یوسفزئی

image

15 اکتوبر کو اسلام آباد میں وزیرِ اعظم عمران خان ڈیوک اور ڈچّیز آف کیمبریج کو لے جا رہے ہیں۔ [پی ٹی آئی]

اسلام آباد – پیر (14 اکتوبر) کو برطانیہ کے ڈیوک اور ڈچّیز آف کیمبریج، شہزادہ ویلیم اور کیٹ میڈلٹن اپنے پہلے سرکاری دورہ پر پاکستان پہنچے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں شاہی جوڑے کا استقبال کیا، جنہوں نے اسلام آباد میں اسلام آباد ماڈل کالج برائے خواتین کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے طالبات سے بات چیت کی اور کلاس رومز دیکھے۔ بعد ازاں انہوں نے صدر ڈاکٹر عارف علوی اور وزیرِ اعظم عمران خان سے ملاقاتیں کیں۔

طے ہے کہ ویلیم اور کیٹ لاہور میں یتیم بچوں سے ملاقات کرنے کے لیے ایس او ایس ویلیج کا دورہ کریں گے، اس کے ساتھ ساتھ وہ مینارِ پاکستان، بادشاہی مسجد اور شوکت خانم میمیوریل کینسر ہسپتال و تحقیقی مرکز (ایس کے ایم سی ایچ اینڈ آر سی) کا بھی دورہ کریں گے۔ وہ چترال اور خیبر ایجنسی بھی جائیں گے۔

image

15 اکتوبر کو اسلام آباد میں ایک سرکاری سکول کے دورہ کے دوران سکول کے اہلکاروں سے ملاقات کرتے ہوئے ڈچّیز آف کیمبریج، کیٹ میڈلٹن (دائیں) اپنے شوہر، شہزادہ ویلیم کی جانب دیکھ رہی ہیں۔ [عامر قریشی/اے ایف پی]

برطانوی سفیر تھامس ڈریو نے ٹویٹر پر کہا کہ یہ دورہ "بلا شبہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تاریخی تعلق کو تعظیم دے گا۔"

انہوں نے کہا، "لیکن اس کا ارتکاز بڑے پیمانے پر اس امر پر ہو گا کہ پاکستان کی ویسی عکاسی کی جائے جیسا وہ آج ہے: ایک متحرک، پرعزم اور پیش بین ملک۔"

کینسنگٹن پیلیس کے ایک بیان میں کہا گیا، "معیاری تعلیم، بطورِ خاص نوجوان لڑکیوں کی میعاری تعلیم تک رسائی پاکستان میں برطانیہ کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔"

پاکستان برطانیہ کے وسیع ترین سفارتی مشنز میں سے ایک کی میزبانی کرتا ہے اور کسی بھی اور ملک کے مقابلہ میں اسے برطانیہ کی جانب سے زیادہ امداد ملتی ہے، جس میں سے بیشتر تعلیم پر صرف ہوتی ہے۔

18 اکتوبر کو اختتام پذیر ہونے والے اس دورہ کی درخواست اور انتظام برطانوی دفترِ خارجہ و دولتِ مشترکہ نے کیا۔

کینسنگٹن پیلس نے سیاسی تناؤ اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسے ڈیوک اور ڈچّیز کا آج تک کا "پیچیدہ ترین" دورہ قرار دیا۔

جوڑے کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے 1,000 سے زائد پاکستانی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔

بحالیٴ امن

بحالیٴ امن اور سیکیورٹی میں بہتری نے اس پانچ روزہ دورہ کو ممکن بنایا، یہ 13 برس میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ شاہی خاندان کے کسی فرد نے پاکستان میں قدم رکھا ہے۔

شہزادہ ویلیم کی والدہ مرحومہ شہزادی ڈیانا نے 1996 میں شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر(ایس کے ایم سی ایچ) کی ایک چندہ جمع کرنے کی تقریب میں شرکت کی غرض سے پاکستان کا دورہ کیا۔ اسے ابھی کے وزیرِ اعظم عمران خان نے تعمیر کیا۔

ایک اسلام آباد اساسی سیکیورٹی تجزیہ کار جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود نے کہا کہ یہ دورہ "دنیا کو ایک واضح پیغام دے گا کہ پاکستان مشکل سے باہر نکل آیا ہے اور اب یہ یہاں سب آنے والوں کے لیے محفوظ ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک خیرآئند پیش رفت ہے کہ پاکستان بین الاقوامی تنہائی سے باہر نکل رہا ہے، اور ایسا اعلیٰ پائے کا دورہ اس امر کا اعتراف ہے کہحکومت نے دہشتگردی کو روک دیا ہے۔یونیورسٹی آف پشاور کے معاشرتی علوم کے ایک معلم، عبدالرّحمٰن نے اس دورہ کو پاکستان کی بیرونِ ملک ساکھ کے لیے ایک اضافی توانائی کے طور پر بیان کیا۔

یونیورسٹی آف پشاور کے معاشرتی علوم کے ایک معلم، عبدالرّحمٰن نے اس دورہ کو پاکستان کی بیرونِ ملک ساکھ کے لیے ایک اضافی توانائی کے طور پر بیان کیا۔

انہوں نے کہا، "یہ دورہ دنیا کو ایک جدید پاکستان دکھائے گا، جہاں سابق کرکٹر، عمران خان کی سربراہی میں ایک حکومت برطانیہ سے قریب تر ہے۔۔۔ تمام دنیا پاکستان کی جانب اپنا رویّہ بدل دے گی۔"

رحمان نے کہا کہ یہ حالیہ دورہدہشت گردی سے نپٹنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اہمیت دیتا ہے اور امن، برطانیہ کے ساتھ سیاسی، ثقافتی، سماجی و معاشی تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے ایک معلم کفایت خان نے کہا، "یہ دورہ بالعموم دنیا بھر میں یہ پیغام پہنچائے گا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور یہ پورے خطے کی خاطر عالمی تعاون کا خواہاں ہے"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha