https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/02/25/feature-01
حقوقِ نسواں |

ویب سائٹ خواتین کو کام، عوامی جگہوں پر جنسی ہراسگی کی شکایت کرانے میں مدد فراہم کرتی ہے

جاوید خان

image

گزشتہ ستمبر میں پشاور یونیورسٹی کے طلباء چھٹیوں کے بعد، یونیورسٹی آ رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت اور خواتین کے حقوق کے سرگرم کارکن، کام کی جگہوں، تعلیمی اداروں اور عوامی جگہوں پر ہراساں کی جانے والی خواتین کے بارے میں آگاہی بڑھانے اور انہیں قانونی وسائل مہیا کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ]جاوید خان[

پشاور -- کام کی جگہوں یا عوامی مقامات پر جنسی ہراسگی کے بارے میں قانونی مشورہ حاصل کرنے کی خواہش مند، پاکستانی خواتین اب ان وسائل تک آن لائن رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔

اب اور نہیں نامی ویب سائٹ (https://abaurnahin.pk/) جس کا آغاز لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈیجٹل رائٹس فاونڈیشن (ڈی آر ایف) نے کیا ہے، کسی فیس کے بغیر خواتین کو وکلاء اور کاؤنسلروں سے ملاتی ہے۔

ابھی تک اس پورٹل میں ملک بھر سے، 42 وکلاء میسر ہیں، جن میں 26 خواتین بھی شامل ہیں۔ وکلاء اور کاونسلروں کی تعداد میں اضافہ ہونے کی توقع ہے۔

ڈی آر ایف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نگہت داد نے 19 فروری کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ پورٹل ایسی خواتین کے لیے شروع کیا گیا ہے جو صنف کی بنیاد پر تشدد اور ہراسگی کے واقعات میں، قانونی مدد اور نفسیاتی مشاورت کی متلاشی ہوتی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ویب سائٹ ہراسگی کے متاثرین کو وسائل سے جوڑتی ہے تاکہ انہیں تشدد اور استحصال کے چکر سے جنگ کرنے کے لیے درکار مدد مل سکے۔

انہوں نے کہا کہ "دنیا بھر میں "می ٹو" نامی مہم کے بعد، غیر معمولی تعداد میں خواتین آگے آ رہی ہیں اور انہوں نے استحصال اور ہراسگی کے اپنے ذاتی تجربات سانجھے کیے ہیں"۔

داد نے کہا کہ #می ٹو نامی مہم نے دکھایا ہے کہ دنیا بھر میں اور اس کے ساتھ ہی پاکستان میں ہراسگی کس حقیقی سطح پر موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہراسگی کے متاثرین کو دماغی صحت اور قانونی امداد کے لیے ادارہ جاتی امداد اور وسائل دونوں کی ہی ضرورت ہوتی ہے"۔

آگاہی پھیلانا

پاکستان سپریم کورٹ کے جسٹس شیخ عظمت سید نے 13 فروری کو ایک سماعت کے دوران وفاقی حکومت اور متعلقہ صوبائی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ خواتین کے لیے ہراسگی کے بارے میں شکایات درج کروانے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے طریقہ کار اپنائے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق، انہوں نے کہا کہ "اگر ہم کام کرنے والی خواتین کو کام کرنے کی جگہوں پر ہراسگی سے بچانے میں ناکام رہے تو ہمیں شرم آنی چاہیے"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے صحافی رفعت اللہ نے کہا کہ "دفاتر اور عوامی جگہوں پر ہراسگی کا نشانہ بننے والوں کی مدد کر لیے قانونی مدد اور نفسیاتی مشاورت ایک بہت اچھی کوشش ہے"۔

انہوں نے کہا کہ آگاہی کو بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ آبادی کی بہت زیادہ شرح خواتین کو ہراساں کرنے کو جرم نہیں سمجھتی ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں سخت قوانین اور ان کے ساتھ ہی عوام میں آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی بھی ساتھ کام کرنے والی خواتین یا بازاروں، باغات یا کسی بھی دوسری جگہ پر آنے والی خواتین کو ہراساں نہ کرے"۔

پشاور سے تعلق رکھنے والی نجی اسکول کی استاد اور دو بچوں کی ماں ہماء اورنگزیب نے کہا کہ "عام طور پر خواتین عوامی جگہوں یا اپنے دفاتر میں ہونے والی ہراسگی کی رپورٹ درج نہیں کرواتی ہیں۔ مگر اس پورٹل کی صورت میں ایک مناسب فورم ملنے کے بعد، بہت سی خواتین ان واقعات کی شکایت درج کروائیں گی"۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب اور نہیں جیسی مزید سہولیات کو فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ معاشرے میں ہراسگی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے اور خواتین کی حوصلہ افزائیکی جائے کہ وہ ایسے واقعات کی رپورٹ درج کروائیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "عوامی جگہوں پر بہت سے واقعات ہوئے ہیں مگر معاشرے میں اس بات کو قابلِ قبول نہیں سمجھا جاتا اگر کوئی خاتون احتجاج کرے یا بازار میں یا کسی اور جگہ پر کسی کو روکنے کی کوشش کرے"۔

آمنہ رضا جو کہ پشاور میں ادویات ساز ادارے کے لیے کام کرتی ہیں، نے تجویز کیا کہ حکومت اور مقامی انتظامیہ کو تمام عوامی جگہوں پر بل بورڈز اور نوٹس لگانے چاہیں جن میں عوام کو مطلع کیا گیا ہو کہ گھورنا، چھونا یا خواتین کے خلاف کسی بھی اور قسم کی ہراسگی کے خلاف سختی سے نپٹا جائے گا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "سخت قوانین اور ان کے ساتھ ہی موضوع کے بارے میں تعلیم اور آگاہی سے عوامی جگہوں پر صورتِ حال بہتر ہو سکتی ہے"۔

ہراسگی کے خلاف پیش رفت

گزشتہ ستمبر میں، حکام نے انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیزز (آئی کے ڈی)، حیات آباد کی ہیڈ نرس کی طرف سے اٹھائے جانے والے جنسی ہراسگی کے واقعہ پر ایکشن لیا تھا۔

علاقائی کمشنر بشیر احمد خان نے آئی کے ڈی ایڈیشنل ڈائریکٹر کے خلاف 250,000 روپے (1,788 ڈالر) کا جرمانہ عائد کیا تھا اور ان کی سالانہ ترقی کو روک دیا تھا۔ ڈاکٹر پر، خاتون نرس کو جسمانی طور پر ہراساں کرنے اور نرس کے خلاف غیر حساس زبان استعمال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔

گزشتہ دسمبر میں، سندھ کے ایک محتسب نے خاتون طالبہ کو ہراساں کرنے پر کراچی یونیورسٹی کے لیکچرر کو معطل کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔

دریں اثنا، خواتین کے خلاف ہراسگی کے بارے میں آگاہی بڑھانے کے طور پر دیکھے جانے والے ایک قدم کے طور پر، خیبر پختونخواہ (کے پی) کی حکومت نے 2 جنوری کو پہلی خاتون محتسب کو تعینات کیا۔

کے پی کی حکومت نے رخشندہ ناز کو کام کی جگہوں پر خواتین کے خلاف ہراسگی سے حفاظت کے (ترمیمی) ایکٹ 2018 کے تحت تعینات کیا۔ ناز نے تقریبا تیس سالوں سے خواتین اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن کے طور پر کام کیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
3
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha