https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/11/28/feature-02?language_switcher=true
| مذہب

عمران خان نے ہندوستان-پاکستان کی مذہبی راہداری کا سنگِ بنیاد رکھ دیا

از نذر الاسلام

image

28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے قبل سکھ یاتری کرتار پور میں گردوارہ دربار صاحب کے سامنے بیٹھے ہیں۔ مذہبی راہداری ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سکھ یاتریوں کی آمدورفت میں سہولت پیدا کرے گی۔ [عارف علی / اے ایف پی]

لاہور -- بدھ (28 نومبر) کے روز وزیرِ اعظم عمران خان نے پاکستان اور ہندوستان کو ملانے والی مذہبی راہداری کا سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں شرکت کی۔

کرتار پور راہداری کا مقصد کرتار پور، پاکستان میں سکھوں کے مقدس دربار گردوارہ دربار صاحب کو گرداس پور، ہندوستان میں مقدس دربار گردوارہ ڈیرہ بابا نانک کے ساتھ ملانا ہے۔

تقریب میں پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ہندوستانی وزیر برائے فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز ہرشمیت کور بادل، نوجوت سنگھ سدھو (وزیر برائے بلدیات، سیاحت، ثقافتی امور و عجائب گھر ریاست پنجاب، ہندوستان) اور صحافیوں نے شرکت کی۔

image

کراچی میں سکھ برادری میں 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کے متعلق ایک نیوز کانفرنس کا اہتمام کیا۔ [ضیاء الرحمان]

image

28 نومبر کو گردوارہ دربار صاحب کے اندر ایک شخص سیلفی لیتے ہوئے۔ [نذر الاسلام]

image

28 نومبر کو گردوارہ دربار صاحب کے باہر سیکیورٹی اہلکاروں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ [نذر الاسلام]

ڈان کے مطابق، خان نے کہا، "آج میں اپنے تمام مہمانوں، اپنے سکھ بھائیوں اور بہنوں کو خوش آمدید کہنا چاہتا ہوں جو پوری دنیا سے تشریف لائے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "آج پاکستان اور ہندوستان جہاں کھڑے ہیں، اب ہمیں ایسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے 70 برس ہو گئے ہیں۔ ہمیں ماضی میں نہیں جینا چاہیئے۔"

خان نے کہا، "ابھی بھی ہم میں یہ فیصلہ کرنے کا عزم نہیں ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے، ہمیں روابط کو لازماً بہتر بنانا چاہیئے۔"

رسائی میں بہتری

ہندوستان اور دنیا بھر سے ہزاروں سکھ عقیدت مند ہر سال سکھ مت کے بانی، گرو نانک کا جنم دن منانے پاکستان آتے ہیں۔

اس سال، نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے 3،500 سے زائد سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے جو تہوار میں شرکت کرنے کے خواہش مند تھے۔

نئی راہداری، جس میں ویزے کی ضرورت نہیں ہو گی، کا مقصد ہندوستان سے تعلق رکھنے والے سکھ یاتریوں کو آسان رسائی فراہم کرنا ہے۔

ماضی میں، ان یاتریوں کو سرحد سے محض 4 کلومیٹر دور، پاکستان کے ضلع نارووال میں واقع گردوارہ دربار صاحب کی یاترا کرنے کے لیے مختلف سرحدی راستوں کے ذریعے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرنا پڑتا تھا۔

ایک 75 سالہ لندن کے مکین، نرنجن سنگھ ان افراد میں شامل تھے جنہوں نے منگل (27 نومبر) کو گردوارے کی یاترا کی۔

سنگھ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ میرے لیے ایک مسحور کن لمحہ ہے۔ میں یہاں پہلے بھی آ چکا ہوں؛ تاہم، دونوں ممالک کی جانب سے راہداری کھولنے کی پہلی کاری دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "ہمیں امید ہے کہ ہر چیز خوش اسلوبی سے طے پا جائے گی۔"

22 سالہ مسلمان محمد رمضان جو گردوارے کے قریب رہتے ہیں، نے کہا کہ وہ گرو نانک، یا بابا کی صفات پر یقین رکھتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میں تقریباً روزانہ گردوارے آتا ہوں۔ درحقیقت، میں اپنے دن کا آغاز مزار پر حاضری دے کر کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا، "ہم مسلمان احتراماً قبر کے مقام پر جاتے ہیں، جبکہ سکھ اپنے مذہب کے بانی کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مزار کے اندر جاتے ہیں۔"

'اس سے بڑی کوئی خوشی نہیں'

سکھ برادری کے قائدین اور سول سوسائٹی کے کارکنان کا کہنا تھا کہ یہ پہل کاری پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تناؤ کو کم کرنے میں ایک مثبت قدم ہے۔

پاکستان سکھ کونسل کے چیئرمین، سردار رمیش سنگھ نے کہا کہ سکھ یاتریوں کا بغیر ویزے کے گردوارہ دربار صاحب میں داخلہ ایک عظیم خدمت ہو گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گرو نانک کے 550 ویں جنم دن پر، سرحد کے دونوں طرف رہنے والے برادری کے ارکار کے لیے اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں ہو سکتی۔" انہوں نے مزید کہا کہ سکھ برادری اور یاتری برسوں سے راہداری کے قیام کے طلب گار تھے۔

پاکستان-انڈیا پیپلز فورم فار پیس اینڈ ڈیموکریسی (پی آئی پی ایف پی ڈی) نے بھی راہداری کے قیام اور حکومتِ پاکستان کی جانب سے سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب میں ہندوستانی امن کارکنان اور صحافیوں کو مدعو کرنے کو سراہا۔

منگل کے روز ایک بیان میں پی آئی پی ایف پی ڈی نے کہا، "عوام کا عوام سے رابطہ تناؤ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے، اور سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور سرحد کو کھولنا ایک اچھی پیش رفت ہے۔"

ہندوستان میں سابق ہائی کمشنر، عزیز احمد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ہندوستان کے ساتھ کرتار پور راہداری کھولنا پاکستان کی جانب سے ایک انتہائی اہم اظہار ہے اور بتایا ہے کہیہ ہندوستان کے ساتھ پُرامن تعلقات چاہتا ہے

[کراچی سے ضیاء الرحمان نے اس رپورٹ میں حصہ لیا۔]

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha

پختونخوا اور افغانستان کے پشتونوں کو بھی بغیر ویزا کے روابط درکار ہیں

جواب