https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/10/17/feature-02
| مذہب

پاکستان گورو نانک دیو کی سالگرہ کے لیے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے تیار ہے

ضیاء الرحمان

image

پاکستان کا ایک پیراملٹری فوجی (دائیں) اور انڈیا کا ایک فوجی (بائیں) 16 ستمبر کو سکھوں کی مذہبی جگہ، کرتاپور کے گوردوارہ صاحب، کو جانے والی تعمیراتی جگہ کی نگرانی کر رہے ہیں۔ [عامر قریشی/ اے ایف پی]

کراچی -- پاکستانی حکومت نے گورو نانک دیو کی 550 ویں سالگرہ، جو 12 نومبر کو منائی جا رہی ہے، کو باسہولت بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

مرکزی ابتدائی اقدامات میں سے ایک نئی سرحدی گزرگاہ کو کھولنا ہے تاکہ انڈیا سے تعلق رکھنے والے سکھ یاتریوں کو کرتارپور کے گوردوارہ صاحب تک رسائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

پاکستان اور انڈیا کی حکومتوں کے درمیان مسلسل جاری کشیدہ تعلقات کے باوجود، دونوں ملکوں نے بین المذہبی ہم آہنگی کے لیے، سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور کی راہداری کو کھول دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران دہشت گردی کو کم کرنے کے لیے کی جانے والی قابلِ قدر کوششوں نے، ویزے کے بغیر اتنی بڑی تعداد میں یاتریوں کی آمد کے امکان کو ممکن بنایا ہے۔

image

سکھ یاتری 10 اکتوبر کو اس خصوصی ٹرین پر مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں جو انہیں نگر کیرتن مذہبی جلوس نکالنے کے قابل بناتی ہے جو کراچی کے راستے گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور جاتا ہے۔ [ضیاء الرحمان]

کرتارپور راہداری کا مقصد پاکستان میں گوردوارہ دربار صاحب کو انڈیا کی گورداسپور ڈسٹرکٹ میں گوردوراہ ڈیرہ بابا نانک سے جوڑنا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ نومبر میں مذہبی راہداری کے لیے بنیاد رکھی تھی۔ دوونں ملک سرحد کے دونوں طرف اپنی اپنی زمین پر اس راہداری کا حصہ تعمیر کر رہے ہیں۔

مہینوں تک مزاکرات کے بعد، دونوں اطراف نے ستمبر میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ انڈیا کے یاتریوں کو اس مقدس جگہ کا دورہ کرنے کے لیے، صرف اجازت نامہ اور پاسپورٹ لے جانے کی ضرورت ہے، جسے سکھ مذہب کے بانی گورو نانک دیو نے 1522 میں قائم کیا تھا۔

لاہور میں 2 ستمبر کو ہونے والے بین الاقوامی سکھ کنونشن میں، خان نے کہا کہ حکومت ان یاتریوں کو سہولیات فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی جو پاکستان کا دورہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ "یہ کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ذمہ داری ہے"۔

انڈیا کے فوڈ پراسیسنگ کے وزیر ہرسیمرات کور بادل نے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے کوئی تاریخ متعین نہیں کی ہے مگر انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی، 8 نومبر کو کرتارپور کی راہداری کے ہندوستانی حصہ کا افتتاح کریں گے۔

ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق، پاکستان اس راہداری کے ذریعے 5،000 سکھ یاتریوں کو ہر روز ملک میں داخل ہونے کی اجازت دے گا۔ یہ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان، جنہوں نے 1947 میں آزادی حاصل کی تھی، پہلی ویزہ کے بغیر راہداری ہو گی۔

نگر کیرتن ٹرین کا جلوس

پاکستان کی حکومت نے سکھ یاتریوں کے لیے ایک خصوصی ٹرین کا انتظام بھی کیا ہے تاکہ انہیں نگر کیرتن مذہبی جلوس منانے میں مدد فراہم کی جا سکے جو کہ کراچی سے شروع ہو کر کرتارپور میں گوردوارہ دربار صاحب جائے گا۔

نگر کیرتن ایک سکھ رسم ہے جس میں مذہبی گیت گانے والا جلوس شامل ہوتا ہے۔

پاکستان سکھ کونسل جو کہ برادری کی بہبود کے لیے کام کرنے والا خودمختار ادارہ ہے، کے راہنما سردار رمیش سنگھ نے کہا کہ نگر کیرتن ٹرین کا انتظام کرنے کا مقصد ہم آہنگی کے پیغام کو پھیلانا ہے جیسا کہ گورو نانک دیو نے اپنی ساری زندگی کیا۔

انہوں نے کہا کہ گورو نانک دیو کی تعلیمات برابری، اخوت اور ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی تعلیمات پر توجہ مرکوز کرتی ہیں جو طبقات یا کسی اور تفریق سے پاک ہو۔

انہوں نے کہا کہ "دنیا بھر میں سکھ برادری کے لیے، گورو نانک دیو کی 550ویں سالگرہ ایک تاریخی دن ہے۔ ہم وفاقی حکومت اور پاکستانی ریلوے کے حکام کے شکرگزار ہیں جنہوں نے اس خصوصی ٹرین کا انتظام کیا ہے"۔

گورو نانک دیو کی تعلیمات پر مبنی پوسٹروں سے ٹرین کو سجایا گیا تھا۔ کارکنوں نے ایک بوگی سے سیٹوں کو نکال کر قالین بچھایا تاکہ عبادت کے لیے جگہ بنائی جا سکے۔

سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے سکھ برادری کے ہزاروں ارکان کو الوادع کیا جو کہ 10 اکتوبر کو سٹی اسٹیشن کراچی سے روانہ ہونے والی نگر کیرتن ٹرین جلوس کا حصہ تھے۔

سنگھ نے کہا کہ صوبہ سندھ کی مختلف ڈسٹرکٹس جس میں کراچی، حیدرآباد، نواب شاہ، خیرپور اور گوٹکی سے تعلق رکھنے والے 800 سے زیادہ شہریوں نے نگر کیرتن جلوس میں شرکت اختیار کی۔

ننکانہ صاحب کا دورہ کرنے کے بعد، جو کہ گورو نانک دیو کی جائے پیدائش ہے، یاتری 13 اکتوبر کو نگر کیرتن ٹرین پر واپس آئیں گے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha