https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/03/23/feature-01
| نقل وحمل

پنک ٹیکسی پاکستان میں خواتین کو محفوظ سواری سے خودمختار بنا رہی ہے

محمد آحل

image

صرف خواتین کے لیے مخصوص پنک ٹیکسی کمپنی کی ایک ڈرائیور، 8 مارچ 2017 کو کراچی میں سروس کی افتتاحی تقریب کے دوران، اس کی علامتی گاڑیوں میں سے ایک کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ ]آصف حسن/ اے ایف پی[

پشاور -- پاکستان میں پنک ٹیکسی سروس ملازمت کے مواقع مہیا کرنے اور اسکول اور ملازمت پر جانے کے لیے محفوظ سواری فراہم کرنے سے خواتین کو خودمختار بنا رہی ہے۔

مکمل طور پر خواتین پر مبنی ٹیکسی سروس جو کہ "پیکسی" کے نام سے بھی جانی جاتی ہے، نے جنوری میں پشاور میں کام کا آغاز کیا۔ خواتین فون یا موبائل ایپ سے پنک ٹیکسی کو بلا سکتی ہیں یا سڑک پر اسے اشارہ کر کے روک سکتی ہیں۔

خیبر پختونخواہ سے تعلق رکھنے والی پہلی پنک ٹیکسی ڈرائیور تہمینہ خان نے کہا کہ وہ ایک ایسی ملازمت سے اپنے خاندان کی کفالت کرنے میں فخر محسوس کرتی ہیں جس پر عمومی طور پر پاکستان میں مردوں کا غلبہ ہے۔

image

پنک ٹیکسی کی ایک ڈرائیور 18 مارچ کو پشاور میں گاہکوں کا انتظار کر رہی ہے۔ ]محمد آحل[

انہوں نے 18 مارچ کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارے معاشرے میں خواتین کو اس وقت بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب وہ باہر جا کر روزی کماتی ہیں، اس لیے یہ پنک ٹیکسی میرے جیسی خواتین کے لیے ایک زبردست پلیٹ فارم ہے جو عزت سے کام کرنا چاہتی ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "سماجی مقاطعہ اور روایات خواتین کے راستے کی ایسی بڑی رکاوٹیں ہیں جن پر مردوں کے غلبے والے میدان میں کیرئیر بنانے کے لیے، قابو پانا لازمی ہے۔ مگر چونکہ پنک ٹیکسی کے تمام گاہک اور ڈرائیور خواتین ہیں اس لیے میری جیسی خواتین کو روزی کمانے کے لیے باہر نکلنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا"۔

کامیابی کے لیے خواتین کو خودمختار بنانا

پنک ٹیکسی کی مارکیٹنگ اور میڈیا مینیجر فضا خان نے کہا کہ "ہم نے گزشتہ سال مارچ میں کراچی میں پنک ٹیکسی کا آغاز کیا تھا اور اب ہم نے پشاور میں آغاز کیا ہے۔ بتدریج ہم اسے سارے صوبے میں پھیلا دیں گے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس قدم کا مقصد بنیادی طور پرخواتین کو خودمختار بنانا اور انہیں ملازمتیں فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں"۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ وہ امید کرتی ہیں کہ اس سے "اس مثبت تصور کو تقویت ملے گی کہ پاکستانی خواتین یکساں باصلاحیت اور قابل ہیں اور وہ کسی بھی میدان میں کام کر سکتی ہیں" کہا کہ "یہ صرف ملازمتیں ہی نہیں مہیا کرتا بلکہ یہ باصلاحیت خواتین کو کامیاب بنانے میں مدد فراہم کرنے کا ایک اچھا پلیٹ فارم ہے"۔

پشاور کی ریحانہ جمال مجاہدہ اکیڈیمی کی ایک استاد کاجل مجید نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمارے معاشرے میں بہت سی خواتین مرد ڈرائیورں کے ساتھ سفر کرنے سے ہچکچاتی ہیں خصوصی طور پر اس وقت جب وہ تنہا سفر کرتی ہیں۔ اس لیے پنک ٹیکسی ان کے لیے آرام اور اطمینان کا بہت بڑا ذریعہ ہو سکتی ہے"۔

پشاور کی شہید بے نظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی میں آرٹ اور ڈیزائین کی ایک لیکچرار افشین زمان نے کہا کہ "پنک ٹیکسی دوسری خواتین کی ٹیکسی چلانے میں حوصلہ افزائی کرنے سے نہ صرف خواتین کو خودمختار بنانے کا ایک ذریعہ ہے بلکہ یہ ان مسائل کو حل کرنے میں بھی مدد کرے گی جن کا سامنا خواتین مسافروں کو کرنا پڑتا ہے خصوصی طور پر ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کو"۔

خواتین کو محفوظ سواری فراہم کرنا

طالبات اور مختلف میدانوں میں کام کرنے والی خواتین نے اس سروس اور پنک ٹیکسی کے ساتھ سفر کرنے کی آسانی کو خوش آمدید کہا ہے۔

پشاور کی شہید بےنظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی کی ایک طالبہ نادیہ سرور نے کہا کہ صرف خواتین کے لیے مخصوص ٹیکسی سروس "ایک اچھا قدم" ہے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ ایک خاتون ڈرائیوار کے ساتھ سفر کرنا زیادہ "پرلطف" اور "آرام دہ" ہے کہا کہ "پنک ٹیکسی کی ایپس صرف ایک کلک سے ٹیکسی تک رسائی حاصل کرنے میں خواتین کی مددگار ہوں گی"۔

پشاور کی سی ای سی او ایس یونیورسٹی آف انفرمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ایمرجنگ سائنسز کی ایک طالبہ مشاء کلثوم نے کہا کہ "پنک ٹیکسی ہمیںتحفظ کا ایک احساس دے گی"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "طالبات کے لیے ایک خاتون ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنا مرد ڈرائیور کے ساتھ سفر کرنے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور آسان ہو گا"۔

پشاور کی ایک سیل فون کمپنی میں ملازمت کرنے والی کائنات اشفاق نے کہا کہ خواتین کے لیے مخصوص ٹیکسی سروس "مرد ڈرائیوروں کی طرف سے ہراسگی کا خاتمہ کرے گی اور گھورنے اور طنزیہ تبصروں سے خواتین کو بچائے گی جن کا مرد ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ سفر کرتے ہوئے اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پیغام بہت اونچا اور صاف ہو گا کہ ہمارے جیسے ایک قدامت پسند معاشرے میں خواتین خودمختار ہیں اور وہ معاشرے کے مرد ارکان کے ساتھ کام کے میدان میں مقابلہ کرنے کے لیے روایتی ملازمتوں سے ہٹ کر بھی کام کر سکتی ہیں"۔

زمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "اس سے یقینی طور پر نوجوان خواتین کی حوصلہ افزائی ہو گی کہ وہ باصلاحیت ڈرائیوروں کے طور پر اپنی قسمت آزمائیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha