https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/08/22/feature-01
| سلامتی

پاکستانی فورسز کراچی میں جامع تلاشی کی کارروائیوں میں عسکریت پسندوں کو پکڑ رہی ہیں

از آمنہ ناصر جمال

image

سندھ رینجرز 11 اگست کو کراچی میں گرفتار کیے جانے والے مشتبہ افراد اور شہر میں جامع تلاشی کے دوران قبضے میں لیے گئے ہتھیاروں کی نمائش کرتے ہوئے۔ [آمنہ ناصر جمال]

کراچی -- قانون نافذ کرنے والے پاکستانی ادارے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف کی ہدایات پر پورے ملک میں عسکریت پسندوں کی بیخ کنی کرنے کے لیے جامع تلاشی کی کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

2 مئی کو اعلیٰ عسکری قیادت نے پورے ملک میں دہشت گردوں اور عسکری گروہوں کے خلاف جامع تلاشی کی کارروائیوں کے لیے وقت اور عملی تفصیلات کی منظوری دی تھی۔

8 اگست کو کوئٹہ ہسپتال میں خودکش بم دھماکے میں 70 افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد، راحیل شریف نے کور کمانڈروں اور انٹیلیجنس اداروں کو حکم دیا تھا کہ دہشت گردوں اور ان کے سلیپر سیلز کو ختم کرنے کے لیے کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے۔

کراچی میں، سیکیورٹی فورسز نے 10 اگست کو مشتبہ عسکریت پسندوں کے خلاف ایک کارروائی کا آغاز کیا تھا، جس میں پاکستان کے پورے تجارتی دارالحکومت میں بہت سی گرفتاریاں عمل میں آئی تھیں۔

سندھ رینجرز کے ترجمان، کرنل اصغر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئٹہ حملے کے بعد اس بڑے شہر میں مجرموں کی تلاش کے عمل کو تیز کر دیا اور [تلاشی اور تباہی کے] مختلف چھاپوں کے دوران تقریباً 100 ملزمان کو حراست میں لیا۔"

انہوں نے کہا، "نیم فوجی دستوں نے کورنگی اور گلشنِ اقبال میں مختلف چھاپوں کے دوران ساتھ مبینہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا۔ رینجرز اہلکاروں نے پیر الٰہی بخش کالونی کے ایک علاقے غوثیہ کالونی میں ایک چھاپے میں چار ملزمان کو گرفتار کیا۔"

انہوں نے مزید کہا، "نیم فوجی دستوں نے ناظم آباد میں بھی ایک محدود کارروائی انجام دی اور مزید چار ملزمان کو گرفتار کر لیا۔"

انہوں نے کہا کہ کراچی کے بن قاسم اور کورنگی علاقوں میں جامع تلاشی لینے والے دستوں نے 10 دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔

اصغر نے کہا، "گرفتار شدہ افراد کا تعلق کالعدم تنظیموں سے بتایا جاتا ہے۔ گرفتار شدگان کے قبضے سے غیر قانونی ہتھیار اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔"

سیکیورٹی حکام کے مطابق، 19-18 اگست کو بہادر آباد علاقے میں ایک تلاشی کی کارروائی کے دوران، رینجرز نے کم از کم چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جن میں کراچی سے تعلق رکھنے والے دو مبینہ ٹارگٹ کلرز بھی شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا تھا کہ زیرِ حراست افراد نے تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ انہوں نے حالیہ برسوں میں سنی تحریک کے چھ کارکنوں کو قتل کیا تھا۔

کراچی میں پولیس مصروفِ عمل

گزری پولیس اسٹیشن، ڈی ایچ اے کے سب انسپکٹر ایم چانڈیو نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "11 اگست کو، رات کے وقت ایک محدود کارروائی کے دوران، پورے علاقے [خصوصاً ہزارہ کالونی، جو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں واقع ہے] کا محاصرہ کر لیا گیا اور ضلع جنوبی کی پولیس نے گھر گھر تلاشی کے دوران تقریباً 44 ملزموں کو گرفتار کیا۔"

انہوں نے کہا کہ پولیس نے نیلم کالونی اور شیریں جناح کالونی میں گھر گھر تلاشی کی کارروائی کے دوران مزید 20 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

اورنگی ٹاؤن کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس علی آصف نے کہا، "ویسٹ زون پولیس اور ریزرو پولیس کے ایک بڑے حصے نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گرفتار شدہ افراد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع سے حاصل شدہ معلومات کی بنیاد پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "پولیس نے چند ملزمان کے قبضے سے ہتھیار بھی برآمد کیے۔"

پورے ملک میں جامع تلاشی کی کارروائیاں

فوج اور پولیس نے پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی گرفتاریاں کی ہیں۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی ایک پریس ریلیز کے مطابق، 13 اگست کو صوبہ پنجاب میں شاہدرہ، لاہور کے علاقے میں فوج کی جانب سے کی گئی جامع تلاشی کی ایک کارروائی میں گیارہ مشتبہ "لڑاکے دہشت گردوں" کو گرفتار کیا گیا۔"

پولیس نے کہا کہ گرفتار شدہ دہشت گردوں میں سے، دو کا تعلق کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک دھڑے جماعت الاحرار سے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے 11 اگست کو صوبہ پنجاب کے ضلع راولپنڈی میں چھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا اور ان کے قبضے سے ہتھیار اور گولہ بارود برآمد کیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیرِ حراست افراد میں دو "اہم" عسکری کمانڈر شامل ہیں۔

صوبائی محکمۂ انسدادِ دہشت گردی کے مطابق، صوبہ پنجاب میں، حالیہ جامع تلاشی کی 96 کارروائیوں کے نتیجے میں 45 مشتبہ دہشت گردوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
1
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha