سلامتی

مدرسے میں خونریز بم دھماکے کے بعد کے پی پولیس کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ

از جاوید خان

image

7 نومبر کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس کمانڈوز ایک فرضی مشق میں حصہ لیتے ہوئے۔ [کے پی پولیس]

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) کے حکام نے گزشتہ ماہ کے آخر میں پشاور کے ایک دینی مدرسے میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد تلاشی کی کارروائیوں، اچانک جانچ پڑتال اور پولیس کی مشقوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

اکتوبر کے آخری ہفتے، جب دیر کالونی میں ایک دینی مدرسے میں ایک بم دھماکے میں نو افراد جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوئے تھے، کے بعد سے پولیس نے پشاور اور صوبے کے دیگر اضلاع سے بہت سے ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔

لوگوں نے طالب علم بچوں کو نشانہ بنانے کے واقعہ کی مذمت کی ہے.

کیپیٹل سٹی پولیس افسر محمد علی گنڈاپور نے کہا، "ہم نے پشاور میں تلاشی اور گرفتاری کی 80 کی تعداد تک کارروائیاں کی ہیں، جن کے دوران ہم نے تقریباً 200 ملزمان کو حراست میں لیا ہے۔"

image

6 نومبر کو چارسدہ میں پولیس تربیتی مشقوں میں حصہ لیتے ہوئے۔ [کے پی پولیس]

image

4 نومبر کو مردان میں تلاشی کی ایک کارروائی کے بعد چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ [کے پی پولیس]

انہوں نے کہا کہ گرفتار شدگان میں سے چند ایک سے تفتیش ہو رہی ہے کیونکہ پولیس کو دہشت گردوں کے ساتھ کسی رابطے کی تلاش ہے۔

گنڈاپور کا کہنا تھا کہ کارروائیوں کے دوران، پولیس نے 2،359 گھروں اور 13 ہوٹلوں کی تلاشی لی۔

انہوں نے بتایا، "ان کارروائیوں میں سے اندازاً نصف کارروائیاں خصوصی طور پر پولیس کی جانب سے کی گئیں، جبکہ ہم نے باقی کارروائیوں کا نصف فوج کے ساتھ مکمل کیا۔"

انہوں نے کہا کہ حکام نے پشاور کے داخلی اور خارجی مقامات کو مضبوط کر دیا ہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ "پولیس کے تمام سپرنٹنڈنٹ صاحبان اور ان کے نائبین کو احکامات ملے ہیں کہ تمام حساس عمارات کا تازہ حفاظتی معائنہ کریں،" بشمول مرکزی مساجد اور مدارس۔

ضلعی پولیس افسر (ڈی پی او) مردان زاہد اللہ جان نے کہا، "ہم امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضلع کے تمام حصوں میں کثرت کے ساتھ تلاشی اور گرفتاری کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔"

جان نے مزید کہا، "ہم حساس عمارات اور مقامات کے حفاظتی معائنے کی تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لیے روزانہ افسران کے ساتھ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔"

ڈیرہ اسماعیل خان کے ڈی پی او، صاحبزادہ سجاد احمد نے کہا، "ہم پولیس اہلکاروں کی چوکسی دیکھنے کے لیے اضلاع کے مختلف حصوں، خصوصاً حساس علاقوں میں مشقوں کا انعقاد کر رہے ہیں۔"

احمد نے کہا کہ کے پی بھر کی پولیس کو احکامات دیئے گئے ہیں کہ غیر ملکی اساتذہ، طلباء اور امام صاحبان کی تفصیلات حاصل کرنے کے لیے مرکزی مساجد اور مدارس کے سروے کروائیں۔

جرائم میں کمی

پولیس کے افعال میں اضافہ اس وقت ہوا ہے جب حکام کے پی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں جرائم میں کمی بتا رہے ہیں۔

9 نومبر کو سینٹرل پولیس آفس میں ایک بریفنگ میں فراہم کردہ دستی پرچے کے مطابق، اس سال کے پہلے 10 ماہ کے عرصے میں بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں سنہ 2019 میں اتنے ہی عرصے میں ہونے والی وارداتوں سے کمی آئی ہے۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس ثناء اللہ عباسی نے کہا کہ بھتہ خوری کے مقدمات میں پچھلے سال اتنے ہی عرصے میں 26 فیصد کمی ہوئی، جبکہ اغواء برائے تاوان میں 100 فیصد کمی اور ٹارگٹ کلنگز میں 26 فیصد کمی ہوئی۔

دوسری جانب، حکام نے 1،845 رائفلیں، 5،562 شارٹ گنیں، 31،132 پستول، 3،000 سے زائد خودکار ہتھیار، 182 ہینڈ گرنیڈ، پانچ راکٹ لانچر، 1،957 ڈیٹونیٹر اور 12 لاکھ سے زائد گولیاں قبضے میں لیں۔

عباسی کے مطابق، نیشنل ایکشن پلان، ایک انسدادِ دہشت گردی پالیسی جس کا اطلاق جنوری 2015 میں ہوا تھا، کے تحت کے پی پولیس نے اس سال جرائم پیشہ عناصر کے خلاف تلاشی اور گرفتاری کی 10،884 کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں 48،255 عادی مجرم گرفتار ہوئے جن میں مشتبہ دہشت گرد اور دیگر جرائم میں مطلوب مجرم شامل تھے۔

عباسی نے کہا، "تمام علاقائی پولیس افسران کو احکامات دیئے گئے ہیں ۔۔۔ کہ ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت کریں،" ان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے علاقائی پولیس سربراہان کو حکم دیا ہے کہ وہ تلاشی کی کارروائیوں، اچانک جانچ پڑتال اور دیگر اقدامات کے متعلق رپورٹیں روزانہ کی بنیاد پر سینٹرل پولیس آفس کو بھجوائیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرہ
تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500