http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/12/14/feature-01
| دہشتگردی

اپنے قیام کے گیارہ برس بعد، ٹی ٹی پی خاتمے کے قریب ہے

از ضیاء الرحمان

جاری فوجی 'آپریشن ردالفساد' کے دوران، 3 مارچ 2017 کو پاکستان کی نیم فوجی فورسز کی جانب سے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں ایک سیکیورٹی کمپاؤنڈ میں گرفتار شدہ مشتبہ عسکریت پسندوں اور ان سے برآمد ہونے والے ہتھیار ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیے جا رہے ہیں۔ [عبدالمجید/اے ایف پی]

کراچی -- تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) متواتر فوجی دباؤ، اعلیٰ سطحی رہنماؤں کی ہلاکت اور گرفتاری، اوراندرونی دراڑوںسے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔

ٹھیک 11 سال پہلے، 14 دسمبر 2007 کو اپنے قیام کے بعد سے ٹی ٹی پی نے کئی عسکریت پسند گروہوں کے لیے ایک چھتری کا کام کیا ہے۔

ایک اور المناک سالگرہ 16 دسمبر کو آ رہی ہے، جس پر ٹی ٹی پی کے ارکان کی جانب سےپشاور میں آرمی پبلک اسکولپر 150 سے زائد بچوں اور اساتذہ کو شہید کیا گیا تھا۔

پشاور میں حکام سنہ2016 میں مسیحی برادری پر ہونے والے ایک دہشت گرد حملے کے دو مشتبہ سہولت کاروں کو پیش کرتے ہوئے۔ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ایک شاخ، جماعت الاحرار نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ [ظاہر شاہ]

پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ 4 اگست 2017 کو وادیٔ راجگال، خیبر ایجنسی میں ایک نامعلوم سپاہی سے بات چیت کرتے ہوئے۔ باجوہ آپریشن خیبر چہارم پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے وادی میں گئے تھے۔ [میجر جنرل آصف غفور/ٹوئٹر]

ابتدائی طور پر گروہ خیبر پختونخوا (کے پی) سابقہ شمال مغربی سرحدی صوبہ اور اس کے بعد وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات، جو کہ اب کے پی کا حصہ ہے، کے علاقوں میں مرتکز تھی۔

بعد ازاں گروہ نے اپنے اثرورسوخ کو باقی ماندہ ملک تک وسیع کر دیا، اور پاکستان میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے برسوں کے دوران ایک کلیدی ایکٹر کے طور پر ابھری۔ اس کے حملوں نے دیگر اہداف کے علاوہ عام شہریوں، سرکاری تنصیبات، عبادت گاہوں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور پولیو ویکسینیشن ٹیموںکو نشانہ بنایا۔

انسدادِ دہشت گردی آپریشنوں کا ایک دہائی سے زائد عرصہ

گیارہ برسوں بعد، پاکستانی فوج اور مخبری کی بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں نے دہشت گرد تنظیم کو بہت حد تک کمزور کر دیا ہے، طالبان کے کنٹرول اینڈ کمانڈ سسٹم کے تاروپود بکھیر دیئے ہیں اور بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی اس کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز عسکریت پسندوں کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں عسکری کارروائیاں شروع کرتے ہوئے، ٹی ٹی پی کے آغاز سے ہی اس کو مسلسل کمزور کرتی رہی ہیں۔

25 اکتوبر 2007 کو، ٹی ٹی پی کے اس وقت کے امیر ملا فضل اللہنے وادیٔ سوات، کے پی میں عسکریت پسندوں کی قیادت کی، جہاں انہوں نے تیزی کے ساتھ 7 نومبر کو علاقے میں کنٹرول سنبھال لیا۔ پاکستانی فوج نے 15 نومبر کو آپریشن راہِ حق شروع کیا اور سوات میں دو برس تک طالبان کے خلاف جنگ لڑی۔

14 جون 2018 کو افغانستان کے صوبہ کنڑ میں امریکہ-افغانستان کے مشترکہ انسدادِ دہشت گردی آپریشن میںملا فضل اللہ کو ہلاک کر دیا گیا۔ ٹی ٹی پی بڑے اندرونی اختلافات کا اشارہ دیتے ہوئے، گومگو کی کیفیت میں آخری وقت پر کیے گئے ایک انتہائی متنازعہ فیصلے میں،مفتی نور ولی محسود کو ملا فضل اللہ کی جگہ لے آئی۔

سوات کی پہلی جنگ کا اختتام فروری 2009 کو ایک کمزور امن معاہدے پر ہوا۔ لیکن اپریل 2009 میں، پاکستانی فوج اور طالبان کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس کے نتیجے میں مئی میںآپریشن راہِ راستشروع کیا گیا۔

اس آپریشن کے نتیجے میں، سوات کی دوسری جنگ کا اختتام فیصلہ کن طور پر ہوا جس میں حکومتِ پاکستان نے طالبان کے کئی چوٹی کے کمانڈروں کی گرفتاری اور ہلاکت کے بعد کنٹرول سنبھال لیا۔ برسوں کی خونریزی اور فساد کے بعد، وادیٔ سوات میں امن اور معمول کے حالات واپس لوٹ آئے ہیں۔

اسی طرح، جنوبی وزیرستان میں، جہاں ٹی ٹی پی وجود میں آئی تھی، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جون 2009 کو آپریشن راہِ نجات شروع کیا۔ لگ بھگ چھ ماہ کے لیے، دسمبر 2009 تک، پاکستانی فوج نے زمینی حملوں کے ایک سلسلے اور فضائی چھاپوں میں ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں پر بار بار ضربیں لگائیں۔

آپریشن دسمبر 2009 میں جنوبی وزیرستان کو طالبان کے تسلط سے آزاد کروانے میں کامیاب رہا، تاہم، طالبان کے بیشتر چوٹی کے رہنماء سرحد پار کر کے افغانستان فرار ہو گئے۔

کوششیں جاری

بعد کے برسوں میں، پاکستانی فوج نے ٹی ٹی پی کے خلاف اپنے چڑھائی کو روکا نہیں ہے۔

ستمبر 2013 میں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً نیم فوجی رینجرز نے ٹی ٹی پی سمیتکالعدم عسکری تنظیموں، مختلف جرائم پیشہ گروہوں اور مقامی گینگز کے خلاف کراچی میں ایک بڑی کارروائیکا آغاز کیا۔

سندھ رینجرز کی تازہ ترین کارکردگی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والے آپریشنوں نے شہر میں استحکام بحال کیا ہے۔

جون 2014 میں، پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں، پاکستان-افغانستان سرحد کے ساتھ ساتھ آپریشن ضربِ عضب شروع کیا۔

مشترکہ عسکری حملوں نے ٹی ٹی پی اور اس سے الحاق شدہ تنظیموں، بشمولحقانی نیٹ ورک، القاعدہ، جنداللہ،لشکرِ جھنگویاور پنجابی طالبان کے نیٹ ورکس کو توڑا۔

سنہ 2014 سے 2017 تکپاکستانی فوج نے آپریشن ضربِ عضب کو خیبر ایجنسی کے علاقوں تک وسیع کر دیا۔ چار آپریشنوں کے سلسلے نے ٹی ٹی پی اور ساتھ ہی ساتھ دیگر مقامی عسکریت پسندی گروہوں جیسے کہ منگل باغ کی سربراہی میںلشکرِ اسلامجیسے مقامی عسکریت پسندوں گروہوں ہدف بنایا۔

فروری 2017 میں، پاکستانی فوج نے پورے پاکستان میں دہشت گرد سلیپر سیلز کو بے نقاب کرنے، غیر مسلح کرنے اور ختم کرنے کے لیے، قانون کے نفاذ کے مقامی اداروں کی حمایت کے ساتھ، جاریآپریشن ردالفسادشروع کیا۔

ٹی ٹی پی 'مایوس اور شکستہ'

اسلام آباد کے مقامی ایک دفاعی تھنک ٹینک، پاک انسٹیٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ٹی ٹی پی اور طالبان سے الحاق شدہ دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف آپریشن شروع کرنے کے بعد سے ان کے خلاف بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ٹی ٹی پی "مایوس اور شکستہ" ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسے دہشت گردی کی کفالت کے لیے اب مزید رنگروٹ نہیں مل سکتے اور یہ عوام کو قائل کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھی ہے کہ یہ اسلام کے لیے لڑ رہی ہے کیونکہ دہشت گردوں نے بہت سے بے گناہ شہریوں، بشمول اسکولوں کے بچوں اور عبادت کرنے والوں کو ہلاک کیا ہے۔

عسکریت پسندوں کے حریف گروہوں کے مابین اندرونی چپقلش نے ٹی ٹی پی کو کمزور کیا ہے، جس کے نتیجے میں کچھ ارکان نے اپنے حریفوں کو جاسوسی کے الزامات پر قتل کیا۔

"پشاور کے مقامی خفیہ ادارے کے ایک اہلکار، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات چیت کی، نے اکتوبر میں پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ٹی ٹی پی اور [ٹی ٹی پی کے ایک دھڑے] جماعت الاحرار (جے اے) کے سابق ترجماناحسان اللہ احسانکے ہتھیار ڈالنے کے بعد، نہ صرف مہمند اور باجوڑ کے اضلاع بلکہ صوبہ کنڑ، افغانستان میں بھی حریف گروہوں کی جانب سے عسکریت پسندوں کی اندرونی لڑائی اور ہلاکتوں میں اضافہ ہو گیا۔"

احسان، جو لیاقت علی کے نام سے بھی مشہور ہے نے اپریل 2017 میں جاری ہونے والے ایک اذیت ناک اقبالی بیان میں کہا کہ ٹی ٹی پی، جے اے اور دیگر عسکریت پسند گروہ لوٹ مار، غارت گری اور اسلام کے نام پر بے گناہوں کو ہلاک کرنے کے لیے مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔

علمائے دین، شہری آپریشنوں کے حامی

پاکستانی علمائے دین اور شہریوں نے، اپنے نئے نئے ملے تحفظ سے لطف اندوز ہوتے ہوئے، ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے خلاف عسکری آپریشنوں کا خیرمقدم کیا ہے۔

مئی 2017 میں،31 علمائے دین کے ایک گروہ نےایک فتوے پر دستخط کیے تھے جس میں خودکش حملوں، ریاست کے خلاف بغاوت اور کسی بھی قسم کی دہشت گردی کو حرام قرار دیا تھا۔ بعد ازاں ان کے ساتھ مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے 1،800 سے زائد مزید علماء شامل ہو گئے جب انہوں نے "پیغامِ پاکستان"، پہلے سے ملتا جلتا ایک فتویٰ جاری کیا۔

کراچی کے مقامی عالمِ دین علامہ محمد احسن صدیقی، جو بین المذاہب کمیشن برائے امن و ہم آہنگی کے سربراہ ہیں، نے کہا کہ ٹی ٹی پی کا اسلام کا نظریہ شریعت کی مستند تشریحات سے انحراف کرتا ہے۔

انہوں نے 11 دسمبر کو پاکستان فارورڈ کو بتایا، "طالبان، پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک میں، دنیا کو ایک غلط پیغام دے رہے ہیں کہ مسلمان دہشت گرد ہیں، لیکن حقیقت میں، طالبان دشمنانِ اسلام ہیں۔"

کراچی کے منگھوپیر علاقے میں ایک سماجی کارکن، اسلم محسود نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنوں نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال میں ایک صریح تبدیلی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بہت سے اہم طالبان کمانڈر اور حامی قانون نافذ کرنے والے اداروں، خصوصاً رینجرز کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "گزشتہ چار برسوں میں ہم نے طالبان کو کسی کو ہلاک کرتے یا تاجروں سے بھتہ مانگتے نہیں دیکھا۔ ٹی ٹی پی کے عسکریت پسند غائب ہو گئے ہیں، اور پشتون مضافات کے باسی اب تحفظ محسوس کرتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
10
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
| 12-16-2018

جنوبی وزیرستان میں ابھی تک کوئی امن نہیں

جواب