http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/01/29/feature-01
| سلامتی

سابق عسکریت پسند رہنما صوفی محمّد ٹی ٹی پی پر برس پڑے، تشدّد ترک کر دیا

اشفاق یوسفزئی

16 مئی 1994 کی ایک فائل فوٹو میں مالاکنڈ ایجنسی میں ایک دھرنے کے دوران عسکریت پسند گروہ تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمّدی (ٹی این ایس ایم) کے سربراہ صوفی محمّد دکھائے گئے ہیں۔ محمّد، جو اب 93 برس کے ہیں، نے تشدد ترک کر دیا ہے اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی کاروائیوں پر تنقید کی ہے۔ [اے ایف پی]

پشاور – محسوس ہوتا ہے کہ تحریکِ نفاذِ شریعتِ محمّدی (ٹی این ایس ایم) کے سربراہ، طویل عرصہ سےعسکریت پسند رہنما مولانا صوفی محمّد نے اپنے پرانے طریق بدل دیے ہیں۔

محمّد نے پاکستان میں قوانینِ شریعہ کے لیے لڑنے کی غرض سے 1992 میں ٹی این ایس ایم کی بنا رکھی۔ ٹی این ایس ایم خیبر پختونخوا (کے پی) کے اضلاع دیر، سوات اور مالاکنڈ میں حکومت کے خلاف سرگرم تھی۔ حکومت نے اسے ایک دہشتگرد تنظیم قرار دے دیا اور 2002 میں اس پر پابندی لگا دی۔

حکام نے 2009 میں محمّد پر دو مقدمات درج کرائے اور انہیں گرفتار کر لیا۔ ان پر دیگر کے ساتھ بغاوت، دہشتگردی کی معاونت اور پاکستان کے خلاف سازش کے الزامات تھے۔

جیل سے رہائی کے بعد 19 جنوری کو ایکسپریس ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں ٹی این ایس ایم سربراہ صوفی محمّد تشدد ترک کرنے کا اظہار کر رہے ہیں۔ [فائل]

8 جنوری تک، جب پشاور کی عدالتِ عالیہ نے انہیں ضمانت مرحمت کی، محمّد پشاور کے سنٹرل جیل میں قید تھے۔

اب 93 سالہ محمّد کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے خلاف معرکہ آرائی یا انہیں قتل کرنا خلافِ اسلام ہے۔

انہوں نے 19 جنوری کو ایکسپریس ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا، "اسلام میں کسی مسلمان کو قتل کرنے کی سختی سے ممانعت ہے۔"

انہوں نے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پاکستانی عوام اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف پرتشدد مہمّات کو مسترد کر دیا۔

انہوں نے کہا، "کسی کو ریاست کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھانے چاہیئں اور نہ ہی عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا چاہئے، [دسمبر 2014 میں پشاور میں] آرمی پبلک سکول میں بچوں کو قتل کرنے والے کفّار سے بھی بدتر ہیں۔"

ملّا فضل اللہ کے خلاف ہونا

محمّد نے اپنے داماد، ٹی ٹی پی کے مفرور سربراہ ملّا فضل اللہ کے خلاف بھی سخت الفاظ استعمال کیے۔

انہوں نے مسلمانوں کے خلاف اپنی شورشی سرگرمیوں کی وجہ سے دین سے نکال دیے جانے والے پہلی صدی ہجری کے ایک گروہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "فضل اللہ خوارج سے بھی بدتر ہے۔"

محمّد نے کہا، "طالبان میں خوارج کی تمام علامات ہیں۔ فضل اللہ نے اسلام کو غیر مسلموں سے بھی زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ فضل اللہ کو یا تو ہتھیار ڈال دینے چاہیئں یا اسے قتل کر دیا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلمان نہیں کافر ہے۔

محمّد نے کہا، "اس نے بھاری جانی اور مالی نقصانات پہنچائے ہیں، جس کے لیے اس کا احتساب ہونا چاہیئے، وہ عوام اور کاروباروں سے پیسے لیتا تھا، جس کی اسلام میں اجازت نہیں۔"

انہوں نے کہا، "فضل اللہ کو عوام کے نقصان کی تلافی کرنا ہو گی۔"

اگرچہ محمّد کی عمر اور خرابیٴ صحت انہیں میدانِ جنگ نہیں جانے دی گی، تاہم انہوں نے کہا، "میں پاک فوج کے ہمراہ عسکریت پسندوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہوں۔"

پاکستان فارورڈ نے ایک انٹرویو کے لیے محمّد سے رابطہ کیا، لیکن وہ خرابیٴ صحت کے باعث فون پر بات کرنے سے قاصر تھے۔

ٹی ٹی پی حمایت کھو رہی ہے

پشاور میں مقیم سیکورٹی تجزیہ کار، سابق سیکورٹی سیکرٹری برائے وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) بریگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے بتایا، محمد کا تبصرہ ایک علامت ہے کہ ٹی ٹی پی ماضی میں حاصل اپنی مقبول حمایت کھو رہی ہے۔

"عسکریت پسندوں کے لئے یہ ایک بڑا دھچکا ہے کہ صوفی محمد جیسا شخص انہیں کوس رہا ہے،" انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ "یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے اور شرپسندوں کے خلاف حکومتی مہم کو تقویت دے گی۔"

شاہ نے بتایا، محمد کا تجزیہ بالکل درست ہے کہ غیر مسلموں سے زیادہ طالبان نے اسلام کا چہرہ مسخ کیا ہے۔

پشاور میں مقیم ایک سیاسی تجزیہ کار خادم حسین نے بتایا، محمد کی سوچ کی تبدیلی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اُن کے بہت سے پیروکار ہیں جو خود بخود طالبان سے اپنی وفاداریاں تبدیل کر لیں گے۔"

فضل اللہ کو اپنا سب سے بڑا دشمن قرار دینا اور یہ کہ وہ موت کا حقدار ہے "طالبان عسکریت پسندوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے،" حسین نے بتایا۔ "ہم صوفی [محمد] کو سراہتے ہیں کیونکہ اس نے سچ کو تسلیم کرلیا تھا اور دہشت گردی اسلام کے خلاف ہے۔"

حسین نے حقوق کی کارکن ملالہ یوسف زئی پر طالبان کے حملے کی مذمت پر محمد کو سراہتے بتایا، "[محمد] کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ پاکستان آرمی نے دہشت گردوں کے ہاتھوں ملک کو تباہ ہونے سے بچا لیا۔" .

تعلیم، امن کی جدوجہد کے لئے تقویت

مالا کنڈ یونیورسٹی کے لیکچرر محمد شفیق نے بتایا، محمد کا تازہ ترین انٹرویو امن کی حکومتی کوششوں کے لئے باعث تقویت ہے۔

مالاکنڈ ٹی ٹی پی کے ہاتھوں بری طرح متاثر ہوا ہے، شفیق نے بتایا، "عسکریت پسندی نے تعلیمی اداروں اور مراکز صحت کو تباہ کردیا اور خواتین کو گھر سے باہر نکلنے سے روک دیا جس نے زندگی کو مفلوج کردیا تھا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "صوفی محمد کے سابق پیروکار عسکریت پسندی کے مزید حامی نہیں رہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک قانونی مشق ہے۔"

شفیق نے تعلیم سے متعلق محمد کے تبصرے کی بھی تعریف کی جنہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو کسی بھی صورت میں نشانہ نہیں بنانا چاہیئے۔

محمد نے بتایا، "ہم تعلیم کی حمایت کرتے ہیں، اور یہ اسکولوں پر حملہ کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے کیونکہ مردوں اور عورتوں کو تعلیم حاصل کرنی چاہیئے۔"

شفیق نے بتایا، "محمد کے بیانات خواتین کے تعلیم کے حصول میں بھی مدد کریں گے کیونکہ غرباء اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو اسکول بھیجنا چاہتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
18
نہیں
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی
Captcha
Wadood khalil | 02-10-2018

Isi ko chahye TTP ky sath sath Siyasi dehshat Gardo ko bi pakre Q ky mulk ko itna noksan dehshat Gard nai dy rahy jitna siyasi dehshat Gard dy rahy hain mehmood achakzai har waqt Pakistan army par bhonkhta hain is kutty ka muh band karwao na

جواب