توانائی

افغان صوبے کے مکینوں کا ایران پر پانی کے تنازع پر بجلی منقطع کرنے کا الزام

از عمر

ایرانی حکومت کی جانب سے افغانستان کے صوبہ ہرات میں بجلی کی اچانک کمی نے ہرات شہر پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ ہرات انڈسٹریل سٹی میں زیادہ تر فیکٹریاں اگست کے اوائل سے کام بند کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بیروزگار ہو گئے ہیں۔ بجلی کی کمی نے عام شہریوں کی زندگی بھی اجیرن کر دی ہے، جنہیں شدید گرمی میں ٹھنڈا رہنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ [عمران/سلام ٹائمز]

ہرات، افغانستان -- ایرانی حکومت نے افغانستان کے صوبہ ہرات کو فراہم کی جانے والی بجلی کی مقدار میں اچانک کمی کر دی ہے، جس سے فیکٹریاں کام بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں اور گرمی کی تپش نے روزمرہ زندگی اجیرن کر دی ہے۔

ایران اور افغانستان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ایران صوبے کو تقریباً 120 میگاواٹ بجلی برآمد کرنے کا پابند ہے۔

تاہم 8 اگست سے ایران نے فراہمی کو 30 میگاواٹ تک کم کر دیا ہے۔

ہرات ایوانِ صنعت و کان کنی کے چیئرمین حمید اللہ خادم نے کہا کہ نتیجتاً ہرات انڈسٹریل سٹی میں پیداوار میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

ایرانی حکومت کی جانب سے افغانستان کے صوبہ ہرات کو بجلی کی فراہمی میں اچانک کمی کے بعد 16 اگست کو ہرات انڈسٹریل سٹی میں فوڈ پروسیسنگ فیکٹری میں مشینیں بے کار پڑی ہیں۔ [عمران/سلام ٹائمز]

ایرانی حکومت کی جانب سے افغانستان کے صوبہ ہرات کو بجلی کی فراہمی میں اچانک کمی کے بعد 16 اگست کو ہرات انڈسٹریل سٹی میں فوڈ پروسیسنگ فیکٹری میں مشینیں بے کار پڑی ہیں۔ [عمران/سلام ٹائمز]

انہوں نے کہا، "ایران نے ہرات کو فراہم کی جانے والی بجلی کو کم کر کے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ ماضی میں بھی بغیر کسی اطلاع کے ایسا کر چکا ہے، جس کی وجہ سے ہرات کی صنعت اور لوگوں نے بہت نقصان اٹھایا ہے"۔

بجلی کی سابقہ سطح کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا، "ایران سے درآمد شدہ [120 میگا واٹ] بجلی میں سے، 100 میگا واٹ صنعتی شہر کو فراہم کی جاتی ہے"۔

اب جبکہ پورے صوبے کو صرف 30 میگاواٹ بجلی ملتی ہے، انڈسٹریل سٹی کو بجلی تلاش کرنی پڑتی ہے۔

خادم کے مطابق، بعض اوقات بجلی بغیر کسی پیشگی انتباہ کے چلی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا، "جب بھی بجلی بند ہوتی ہے، فیکٹریوں کی مشینری کام کرنا چھوڑ دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ہر فیکٹری کو 10,000 ڈالر (845,000 افغانی) تک کا نقصان ہوتا ہے۔ انڈسٹریل سٹی میں، روزانہ 400 فیکٹریوں کو نقصان ہوتا ہے"۔

خادم نے کہا کہ ان مسائل کی وجہ سے انڈسٹریل سٹی کے 30,000 مزدوروں میں سے 20,000 اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

نیک محمد الہامی، جو ہرات انڈسٹریل سٹی میں ایک پلاسٹک فیکٹری کے منتظم ہیں، نے کہا کہ بجلی کی بندش کی وجہ سے ان کی فیکٹری کا کام تعطل کا شکار ہے، جس کی وجہ سے ان کے تقریباً 150 ملازمین کام سے محروم ہو گئے ہیں۔

"ہم نے انڈسٹریل سٹی میں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، لیکن اب یہ بجلی کی قلت کی وجہ سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے"۔

انہوں نے کہا، "بجلی منقطع کر کے، ایران افغان صنعتوں کو بیرون ملک منتقل کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا، "جب بجلی جاتی ہے، تو خام مال مشینوں کے اندر پھنس جاتا ہے اور ضائع ہو جاتا ہے۔ ہمیں مشینوں کو کھولنے اور مواد کو باہر نکالنے کے لیے بڑی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے"۔

الہامی نے کہا کہ اگر بجلی کا مسئلہ حل نہ ہوا تو انڈسٹریل سٹی میں فیکٹریوں کو کام بند کرنا پڑے گا، جس کے نتیجے میں ہزاروں ملازمتیں ختم ہو جائیں گی۔

ملکی پیداوار میں تعطل

انڈسٹریل سٹی کی چند فیکٹریاں ڈیزل جنریٹروں کے ذریعے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہرات کے انڈسٹریل سٹی میں ایک فوڈ فیکٹری کے پروڈکشن مینیجر، غلام جیلانی نے کہا کہ وہ ڈیزل جنریٹروں کے ذریعے اپنی فیکٹری کی پانچ پروڈکشن لائنوں میں سے صرف ایک کو چلانے میں کامیاب رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران سے بجلی کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے ہمیں بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے بغیر پیشگی اطلاع کے ایسا کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیداواری چکروں میں لاکھوں افغانی مالیت کا خام مال ضائع ہو چکا ہے۔

"بجلی کی فراہمی بند ہونے سے، ہماری پیداوار میں 70 فیصد کمی آئی ہے، اس لیے ہم اپنے صارفین کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے"۔

انہوں نے مزید کہا، "مارکیٹ میں روزانہ ملکی مصنوعات کم فروخت ہوتی ہیں۔ درآمد شدہ ایرانی مصنوعات ان کی جگہ لے رہی ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کے موجودہ حالات کی وجہ سے ان کے ایک سو پچاس کارکن کام سے محروم ہیں۔

ہرات انڈسٹریل سٹی میں ایک فوڈ فیکٹری میں کام کرنے والے چھ افراد پر مشتمل خاندان کا کفیل عزیز اللہ بجلی کی قلت کے باعث کام کرنے سے قاصر ہے۔

انہوں نے کہا، "میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں اس نے بجلی کی کمی کی وجہ سے پیداوار میں 80 فیصد کمی کر دی ہے۔ میرے سمیت اس کے زیادہ تر ملازمین کام پر نہیں جاتے۔ اگر ہم کام نہیں کرتے تو ہمیں تنخواہ نہیں ملتی"۔

انہوں نے کہا، "میری آمدنی کا واحد ذریعہ یہ کارخانہ ہے۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک جاری رہی تو میں معاشی مسائل کا سامنا کرنا شروع کر دوں گا"۔

ایرانی حکومت کا 'انتقام'

ہرات کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت نے بجلی کی رسد میں کمی کی ہے کیونکہ دریائے ہلمند سے ایران کو پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے۔

ایرانی حکام نے اس سال کے شروع میں اپنے افغان ہم منصبوں پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایران کو ہلمند سے اس کے "پانی کے حقوق" فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے ہیں.

ہرات شہر کے ایک رہائشی، 31 سالہ نسیم ہاشمی نے کہا، "ایران نے ہرات کو بجلی کی رسد کم کر دی ہے کیونکہ اسے دریائے ہلمند سے پانی نہیں ملا، لیکن دریائے ہلمند کے پانی سے بجلی کی درآمد ایک الگ مسئلہ ہے"۔

"ہم ایران کو اس کی بجلی کے لیے ادائیگی کرتے ہیں، لیکن وہ افغانستان سے مفت پانی چاہتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا، "برسوں تک، ایران کو دریائے ہلمند سے اس رقم سے زیادہ مفت پانی ملا جس پر اتفاق کیا گیا تھا، لیکن اس سال پانی کم ہے، اور حتیٰ کہ افغان باشندوں کو بھی خشک سالی کی وجہ سے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے"۔

"افغان کسانوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی نہیں ہے، لیکن ایران پانی چاہتا ہے"۔

ایک اور مکین، 25 سالہ عبدالرحیم قانع نے کہا، "اگرچہ ایران کا افغانستان کے ساتھ معاہدہ ہے، لیکن ہر سال موسمِ گرما اور سرما میں، جب بجلی کی طلب زیادہ ہوتی ہے، وہ ہرات کو بجلی کی برآمد روک دیتا ہے"۔

" موسمِ گرما یا سرما میں، بیشتر اوقات ہسپتالوں، تجارتی مراکز اور رہائشی علاقوں میں بجلی بند ہوتی ہے، جس سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا، "حکومتِ ایران کی جانب سے بجلی کی فراہمی کو روکنا افغانوں سے انتقام لینے کی ایک شکل ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے دریائے ہلمند کا پانی ایران تک نہیں پہنچتا لیکن ایرانی حکومت یا تو ایران میں افغان مہاجرین کو سزا دیتی ہے یا بجلی کی رسد منقطع کر دیتی ہے.

قانع نے کہا کہ ایرانی حکومت سے افغانوں کو بجلی کی کمی سے ہونے والے نقصانات کی تلافی کے لیے کہا جانا چاہیے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500