|

سلامتی

پاکستان میں دہشتگرد نیٹ ورکس کا تقریباً خاتمہ: حکام

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برس کے دوران افواج نے 60 سے زائد دہشتگرد گروہوں کا صفایا کیا ہے، جس سے ان کے حامیوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں بچی۔

جاوید محمود


19 نومبر کو پشاور میں پاکستانی فوجی ”53ویں فرنٹیئر کور ہفتے“ کی مشقوں میں شریک ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برس کے دوران افواج نے 60 سے زائد دہشتگرد گروہوں کا صفایا کیا ہے، جس سے ان کے حامیوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں بچی۔ [اے مجید/اے ایف پی]

19 نومبر کو پشاور میں پاکستانی فوجی ”53ویں فرنٹیئر کور ہفتے“ کی مشقوں میں شریک ہیں۔ سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برس کے دوران افواج نے 60 سے زائد دہشتگرد گروہوں کا صفایا کیا ہے، جس سے ان کے حامیوں کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں بچی۔ [اے مجید/اے ایف پی]

اسلام آباد — سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 15 برس کے دوران پاکستان بھر میں عسکری آپریشنز نے 60 سے زائد کالعدم دہشتگرد گروہوں کی قوت اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا ہے۔

”پاکستان میں انسدادِ شورش: عسکری اور سولین طریقہ“ کے عنوان سے ادارہ برائے تزویری علوم اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کی ایک رپورٹ کے مصنّف پاکستانی فوج کے میجرشاہد احمد آفریدی نے پاکستان فارورڈ کو اس کامیابی سے متعلق بتایا۔

2001 سے اب تک فوج نے طالبان کے خلاف چھوٹے اور بڑے پیمانے کے 1,087 آپریشن کیے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ بلیک تھنڈرسٹارم، شیردل، راہِ راست اور تازہ ترین آپریشن ضربِ عضب کیے۔ فوج نے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں اس آخری آپریشن کا آغاز کیا۔ یہ تاحال جاری ہے۔

آفریدی نے نومبر 2016 کی اس رپورٹ میں کہا کہ ان آپریشنز نے شورشیوں کے ارادے اور کام کرنے کی صلاحیّت کو کچل دیا ہے اور ان کے طبعی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔

عسکری آپریشنز عسکریت پسندوں کے لیے مہلک

سیکیورٹی تجزیہ کار برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پشاور سے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”شمالی وزیرستان ایجنسی میں آپریشن ضربِ عضب اور ملک کے مختلف حصّوں میں سیکیورٹی فورسز کے اینٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز بدنام دہشتگردوں کے لیے مہلک ترین ثابت ہوئے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان یا بیرونِ ملک دہشتگردی کا کوئی بڑا سانحہ پیش آتا تو عسکریت پسندوں کی جڑیں شمالی وزیرستان میں جا کر ملتی، جہاں متعدد بدنام دہشتگرد گروہوں نے پناہ گاہیں بنا رکھی تھیں اور اپنے قدم جمائے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا، ”پاکستان بھر میں عسکریت پسندی میں ملوث گروہ لا تعداد تھے۔“ لیکن اب یہ گروہ ”پاکستان کے علاقۂ عملداری میں نظر نہیں آتے۔“

شاہ نے کہا، ”اب ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ایک بھی دہشتگرد گروہ پاکستان میں پناہ گاہیں، نیٹ ورک اور بنیادی ڈھانچہ نہیں رکھتا کیوں کہ عسکری آپریشنز نے ملک بھر سے دہشتگرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کر دیا ہے۔“

آپریشن ضربِ عضب کے آغاز کے بعد ہزاروں عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں، جبکہ بدنام گروہوں کے چند چوٹی کے رہنما افغانستان کو فرار ہو چکے ہیں۔

شاہ نے کہا کہ حالیہ طور پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ جھنگوی (ایل ای جے) العالمی (عالمی) سے عسکریت پسندوں کے دو یا تین بڑے گروہ ملک میں دہشتگردی کی کاروائیاں کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ درایں اثناء ان کے رہنما افغانستان میں کسی مقام پر روپوش ہیں اور وہاں سے خودکش حملہ آور ور تخریب کار بھیج رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا)، خیبر پختونخوا (کے پی) اور دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کی واپسی کو روکنے اور امن اور قانون کی عملداری کو برقرار رکھنے کے مقصد سے آپریشن ضربِ عضب اور دیگر آپریشنز کی کامیابیوں کو مجتمع کر رہی ہے۔

دہشتگرد تنظیموں پر پابندی

قومی مقتدرۂ انسدادِ دہشتگردی (این اے سی ٹی اے) کے مطابق، اگست 2001 اور نومبر 2016 کے درمیان حکومتِ پاکستان نے 65 دہشتگرد تنظیموں پر پابندی لگائی۔

ان کالعدم گروہوں میں سے خطرناک ترین میں ٹی ٹی پی کے متعدد دھڑے، القاعدہ، تحریکِ اسلامیٔ ازبکستان (آئی ایم یو)، ”دولتِ اسلامیۂ عراق و شام“ (آئی ایس آئی ایل)، ایل ای جے، سپاہِ محمّد پاکستان، جیشِ محمّد، لشکرِ طیبہ، سپاہِ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی)، تحریکِ جعفریہ پاکستان، جمعیت الانصار؛ حزب التحریر، لشکرِ اسلام، بلوچستان لبریشن آرمی، لشکرِ بلوچستان، اہلِ سنّت والجماعت (سابقہ ایس ایس پی)، جیشِ اسلام، 313 برگیڈ اور جیشِ سندھ متحدہ محاذ شامل ہیں۔

سیکیورٹی تجزیہ کار اور کراچی میں اردو زبان کے روزنامہ پاکستان کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر مبشر میر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”عسکری آپریشنز، بالخصوص ضربِ عضب سے قبل ملک میں امن ایک خواب تھا۔ لیکن اب ہمیں کراچی یا ملک کے دیگر حصّوں میں کوئی کالعدم تنظیم کام کرتی کم ہی نظر آتی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی اکثریت ماری جا چکی ہے اور دیگر لاتعداد جیلوں میں سزائیں بھگت رہے ہیں، جبکہ چند رہنما پاکستان فرار چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی کو جڑ سے ہی ختم کرنے کے لیے حکومت اور سیکیورٹٰی اداروں کو ایک ایسا فریم ورک بنانا چاہیئے جو عسکریت پسندوں کی بینکوں، سرکاری اداروں اور نجی کمپنیوں کے ساتھ معاملات اور پاسپورٹس اور کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (سی این آئی سیز) تک ان کی رسائی کو مسدود کرے۔

میر کے مطابق، متعدد عسکریت پسندوں نے دفاعِ پاکستان کاؤنسل جیسی نئی تنظیموں میں شمولیت اختیار کر لی ہے، جو کہ 40 سے زائد مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہے، اس سے انہیں بلا رکاوٹ ہر قسم کی سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گٹھ جوڑ دوبارہ کالعدم گروہوں کو طاقت فراہم کرتا ہے اور قومی سلامتی کو درپیش خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم گروہوں کی فنڈز اور شناختی دستاویزات تک رسائی پر پابندی لگائے جانے سے عسکریت پسندی اور شدت پسندی کے خاتمہ کے لیے مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ مزید برآں حکومت اور سیکیورٹی تنظیموں کو چاہیے کہ کے پی، بلوچستان، سندھ اور پنجاب میں نرم سرحدی مقامات کو قابو میں لائیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 17

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Sami | 01-05-2017

درست۔۔۔ لیکن حکومت اور حکام کو یہ بتانا چاہیئے کہ افغانستان فرار ہو جانے والے دہشتگرد رہنماؤں کے خاتمہ کے لیے ان کی کیا حکمتِ عملی ہے؟ ان کو یہ بھی بتانا چاہیئے کہ افغانستان سے آنے والے خودکش حملہ آوروں کو روکنے کے لیے ان کی کیا حکمتِ عملی ہے؟ جب تک ہم اپنی سرحد کو محفوظ نہیں بناتے اور افغانستان کے لیے اپنی ویزا پالیسی پر نظرِ ثانی نہیں کرتے، ہمارے محکمۂ سلامتی کے لیے یہ بہت مشکل ہو گا۔ \n

جواب

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج