|

دہشتگردی

وادیٔ تیراہ میں عسکریت پسندوں کو توڑنے کے لیے خیبر آپریشن

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جاری آپریشن فیصلہ کن ثابت ہو گا۔

سید عنصر عبّاس


اگست میں افواجِ پاکستان شمالی وزیرستان میں ایک انسدادِ عسکریت پسندی کا آپریشن کر رہی ہیں۔ [بشکریہ آئی ایس پی آر]

اگست میں افواجِ پاکستان شمالی وزیرستان میں ایک انسدادِ عسکریت پسندی کا آپریشن کر رہی ہیں۔ [بشکریہ آئی ایس پی آر]

پشاور — تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وادیٔ تیراہ، خیبر ایجنسی میں دہشتگردوں کے خلاف جاری عسکری کاروائی عسکریت پسندوں کی کمر توڑ دے گی۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے 17 اگست کو آپریشن خیبر 3 کا آغاز کیا۔ یہ آپریشن خیبر 1 اور خیبر 2 کا تسلسل ہے، جو فوج نے 2014 اور 2015 میں بالترتیب باڑہ سب ڈویژن اور وادیٔ تیراہ میں کیے۔

وادیٔ تیراہ اسٹریٹجک ہے۔ یہ افغانستان کے ساتھ سرحد پر ہے اور خیبر، کرم اور اورکزئی ایجنسیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ دہشتگرد اس پہاڑی وادی میں پناہ لیا کرتے اور قبل ازیں قبائلی ایجنسیوں کے مابین اور افغانستان آنے جانے کی آزادی رکھتے تھے۔

خیبر 3 سے وابستہ بلند امّیدیں

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار اور وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے سابق سیکریٹری سیکیورٹی برگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن خیبر 3 علاقہ سے دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے نہایت اہم ہو گا۔

انہوں نے کہا، ”خیبر 1 اور خیبر 2 نے اپنے اہداف حاصل کیے اور خیبر ایجنسی کو عسکریت پسندوں سے پاک کیا، لیکن خیبر 3 ان کے افغانستان آنے اور جانے کے خفیہ راستوں پر ان کی حرکت کو روکے گا۔“

انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن ”تیراہ سے باقی ماندہ عسکریت پسندوں کا صفایا کرے گا اور اس امر کو یقینی بنائے گا کہ افغان سرحد پار کرنے کے مقامات کو مسدود ہوں۔“

شاہ نے کہا کہ قبائل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ عسکریت پسندوں کے ہمدرد شورشیوں کی مدد کرنا بند کریں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہمدرد ”ددخفیہ راستوں سے سرحد پار کرنے میں عسکریت پسندوں کی مدد کرتے ہیں اور اپنی خدمات کے عوض ان سے پیسے لیتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ خیبر 3 ”راج گل اور لچ کو کو دہشتگردوں سے پاک کرنے کا کام مکمل کرے گا۔ برف باری اور دیگر وجوہات نے [فوج کو] خیبر 2 میں یہ نہ کرنے دیا۔“

انہوں نے کہا کہ حکام نے تورخم بارڈر کراسنگ پر ”افغان شہریوں کی غیر قانونی حرکت کو روک دیا ہے۔ اب ہمیں خفیہ راستوں کو بند کرنا ہے۔“

قبائلی صحافی قاضی فضل اللہ نے دیگر مشاہدین کی رجائیت کو دہرایا۔ وہ خیبر ایجنسی میں دہشتگردی کو کوّر کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”خیبر 3 باقی ماندہ دہشتگردوں کو وادی میں ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے باہر دھکیل دے گا۔“

قاضی نے کہا، ”تیراہ ایسے عسکریت پسندوں کا مرکز بن چکی تھی ۔۔۔ جنہوں نے دیگر قبائلی ایجنسیوں میں عسکری کاروائی سے فرار ہونے کے بعد اس وادی میں پناہ حاصل کی۔“

انہوں نے پیش گوئی کی، ”آپریشن کے مکمل ہونے پر دہشتگرد وادی سے باہر دھکیل دیے جائیں گے۔۔۔ اور امن بحال ہو جائے گا۔“

ایک ناکام آپریشن کے خطرات

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک سیکیورٹی تجزیہ کار اور عسکریت پسندی پر تین کتابوں کے مصنّف خادم حسین نے اس سے اتفاق کیا کہ، ”دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو مسدود کرنا ناگزیر ہے۔ اگر علاقہ میں نیٹ ورک نہ توڑا گیا، تو دہشتگرد دوبارہ سامنے آ جائیں گے۔“

حسین نے تنبیہ کی کہ اگر فوج انہیں ابھی نہ کچلے تو لشکرِ اسلام، جماعت الاحرار اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) عسکریت پسند از سرِ نو گروہ بند ہو جائیں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، ”تیراہ دہشتگردوں کے اعصاب کا مرکز ہے۔ یہ آپریشن دہشتگردوں کی مرکزیت کا خاتمہ کرے گا۔ خیبر 3 خیبر، مہمند اور اورکزئی ایجنسیوں میں طالبان کی احیائے نو کے امکانات کو ختم کر دے گا۔“

حسین نے شاہ سے اتفاق کرتے ہوئے کہا، ”تیراہ میں دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے مکمل طور پر تباہ ہو جانے کے بعد ۔۔۔ یہ [پاکستان اور افغانستان کے مابین سرحد] کے آر پار دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو مسدود کرے گا۔“

انہوں نے کہا، ”دہشتگردوں کی حرکت اور ان کی سرگرمیاں دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرتی ہیں۔ یہ آپریشن اس کا بھی خاتمہ کرے گا۔“

دہشت گردی سے بچ جانے والے فتح کے خواہشمند

چند سال قبل بلوچستان میں ایک دہشت گرد حملے میں اپنی دونوں آنکھیں اور دونوں ٹانگیں کھو دینے والے ایک سابق فوجی اور حالیہ سماجی کارکن نیاز آفریدی نے بتایا کہ وہ آپریشن خیبر 3 سے بہت پرامید ہے۔

دہشت گردوں نے میرے آبائی علاقے تیراہ میں میرا گھر تباہ کردیا، انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا۔ انہوں نے مجھے انخلا پر مجبور کیا۔ اب میں کارخانو مارکیٹ [پشاور میں] میں اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر ہوں۔

"دہشت گردی نے ہمارے معاشرے اور علاقے کو تباہ اور ہمارے ملک تک کو متاثر کیا ہے، نیاز نے بتایا۔ میں امن کی بحالی کے لئے دعاگو ہوں۔"

پشاور میں مقیم ایک انسانی حقوق کے کارکن بھی وادی تیراہ میں دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔ 2014 میں علاقے سے انخلا کے بعد دہشت گردوں نے ان کا 120 سال پرانا خاندانی گھر بھی تباہ کردیا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "دہشت گردوں نے کاروبار اور دیگر سرگرمیوں کو مکمل تباہ کردیا۔"

انہوں نے پیش گوئی کی، آپریشن خیبر 3 علاقے میں امن بحال کرے گا اور بے دخل ہونے والے افراد کو آکر اپنے گھروں کی تعمیرنو کے قابل بنائے گا۔

یونس نے بتایا، صرف میرا خاندان نہیں بلکہ ہر وہ شخص جس نے تیراہ میں اپنا گھر چھوڑا توقع کرتا ہے کہ سیکورٹی فورسز علاقے کو صاف کریں گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 4

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج