|

سلامتی

سیکورٹی کی جاری کامیابیاں پاکستان کی زیادہ مثبت تصویر پیش کر رہی ہیں

میدانِ جنگ میں کامیابیوں نے حکومت پر اعتماد میں اضافہ کیا ہے اور عمومی طور پر ملک کی باقی دنیا کے سامنے زیادہ مثبت تصویر پیش کی ہے۔

محمد شکیل


پاکستانی فوجی جولائی میں افغان سرحد کے قریب خیبر ایجنسی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج نے رجگال وادی، خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر فور کو مکمل کیا ہے۔ ]محمد شکیل[

پاکستانی فوجی جولائی میں افغان سرحد کے قریب خیبر ایجنسی کی نگرانی کر رہے ہیں۔ پاکستانی فوج نے رجگال وادی، خیبر ایجنسی میں آپریشن خیبر فور کو مکمل کیا ہے۔ ]محمد شکیل[

پشاور -- مبصرین کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی کے خلاف پاکستانی فوجیوں کی حالیہ کامیابیاں حکومت پر عوام کے اعتماد کو بڑھا رہی ہیں اور بیرونی دنیا کے سامنے ملک کی زیادہ مثبت تصویر پیش کر رہی ہیں۔

حالیہ ترین کامیابی اگست کے آخیر میں آپریشن خیبر فور کی دور دراز کیرجگال وادی میں تکمیل ہے۔ اس کا مقصد "دولتِ اسلامیہ" (داعش) جیسے عسکریت پسند گروہوں کو پاکستان داخل ہونے اور مقامی کالعدم گروہوں کے ساتھ اتحاد بنانے سے روکنا ہے۔

اس وقت جاری آپریشن ردالفساد، جس کا مقصد سرحد کو محفوظ بنانا، عسکریت پسندوں کے سلیپر سیلز کو توڑنا اور ان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنا ہے، کامیابی کی ایسی ہی ایک اور مثال ہے۔

پشاور سے تعلق رکھںے والے سیکورٹی کے تجزیہ نگار برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "عسکریت پسند اس وقت سے تباہی کا شکار ہیں جب آپریشن خیبر فور میں فوجیوں نے ان کے مضبوط گڑھ تباہ کر دیے تھے"۔

انہوں نے پیش گوئی کی کہ "خیبر فور میں افغان سرحد کو مضبوط بنانے سے ملک کے اندر کی سیکورٹی کی صورتِ حال پر مثبت اور دیرپا اثر ہو گا۔ اس سے عوامی اعتماد میں اضافہ ہو گا اور پاکستان کا تصور بہتر ہو گا"۔

انہوں نے صورت حال کا عراق اور شام سے موازنہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان نے عسکریت پسندی کی کمر توڑ دی ہے۔

فرقوں میں اتحاد کو بڑھانا

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ایک اور فائدہ، اقلیتوں میں مزید اعتماد کا پیدا ہونا ہے جو خصوصی طور پر مسلمان انتہاپسندوں سے خطرہ محسوس کرتی ہیں۔

آل پاکستان ہندو رائٹس موومنٹ کے چیرمین ہارون سراب دیال نے ان کامیابیوں کا سہرا سیکورٹی فورسز کی "بے مثال قربانیوں" کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ "پاکستان میں سیکورٹی میں بہتری اور کسی زمانے میں عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے علاقوں میں حکومتی عمل داری کا قیام ایک قابل ذکر عمل کی نمائندگی ہے"۔

انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی مہمات کا سلسلہ جو اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی زیر قیادت، 2014 میں آپریشن ضربِ عضب سے شروع ہوا، پاکستان کے مختلف لوگوں میں اتحاد پیدا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ماضی میں، اقلیتوں کے لیے مذہبی آزادی سر لطف اندوز ہونا ناممکن تھا۔ مگر اب عسکری مہمات کے بعد ایک نئی تصویر ابھر آئی ہے۔ ہر اقلیتی رکن پاکستان کے ہر دوسرے شہری کی طرح اپنے حقوق کو استعمال کرنے میں خود کو آزاد محسوس کرتا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "مذہبی عدم برداشت کا جو غلط تصور دہشت گردوں کی طرف سے مذہبی جگہوں کو نشانہ بنانے سے قائم ہوا تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔ ہندو، مسلمان، عیسائی اور سکھ اب ہم آہنگی اور برداشت کے ماحول میں ایک دوسرے کے تہوار منا رہے ہیں"۔

وسیع پیمانے پر تعریف

پشاور سے تعلق رکھنے والے اسکول کے استاد جمیل جیکب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکومت کی سب سے اہم ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اس کے شہری اپنے حقوق کو آزادی اور حفاظت سے استعمال کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ہی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کے خلاف کوششوں سے نہ صرف پاکستان کے عالمی قدو قامت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ اس کی آبادی، جس میں وہ اقلیتیں بھی شامل ہیں جو آزادی سے پہلے سے پاکستان میں رہ رہی ہیں، کو امید اور سیکورٹی کا احساس بھی ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال اور امن کو فروغ دینے والے ماحول، پاکستان کے حکام کی اہم ترین کامیابیوں میں سے ہیں"۔

جمیل نے کہا کہ اقلیتیں اور مسلمان اکثریت 2014 سے اب تک کی جانے والی انسدادِ دہشت گردی کی کامیاب مہمات کے باعث ہیں اپنے خوف پر قابو پا سکی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج