|

سیاست

کے پی اور فاٹا کے انضمام سے امن اور معاشی ترقی کی امّیدیں پنپنے لگیں

قبائلی اضلاع کے رہائشی پر امّید ہیں کہ یہ جمہوری تبدیلی بہتر سیکیورٹی، امنِ عامّہ، معاشی ترقی اور دیرپا امن لے کر آئے گی۔

اشفاق یوسفزئی


بابِ خیبر کے قریب 25 مئی کو قبائلی، قومی اسمبلی میں فاٹا ریفارم بل کی منظوری پر خوشی منا رہے ہیں۔ [پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)]

بابِ خیبر کے قریب 25 مئی کو قبائلی، قومی اسمبلی میں فاٹا ریفارم بل کی منظوری پر خوشی منا رہے ہیں۔ [پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی)]

پشاور – سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کی آبادی اس امّید کے ساتھ خیبر پختونخوا (کے پی) کے ساتھ اس خطے کے انضمام پر خوشی منا رہی ہے کہ یہ اقدام گزشتہ لا قانونیت اور عسکریت پسندی سے متاثرہ خطے میں جمہوریت لائے گا۔

قومی اسمبلی نے 24 مئی کو فاٹا کے کے پی کے ساتھ انضمام کی ایک آئینی ترمیم منظور کی۔ صدر ممنون حسین نے 31 مئی کو اس بل پر دستخط کر کے اسے جزُقانون بنایا ۔

اس تبدیلی سے سات قبائلی اضلاع – باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان – کے چھ ملین باشندے کے پی کی عدالتوں کے تحت آ جائیں گے، جس سے انہیں دیگر پاکستانیوں جیسے حقوق مل جائیں گے۔

سابق فاٹا میں دہرے انتظامی اور عدالتی اختیارات کے حامل پولیٹیکل ایجنٹس کو ڈپٹی کمشنرز سے بدل دیا جائے گا۔

مرکزی دھارے میں لائے جانے کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے، جسے مکمل ہونے میں پانچ برس لگیں گے۔

کے پی اسمبلی کےلیے نمائندگان کے انتخاب 25 جولائی کو طے شدہ عام انتخابات کے بعد اکتوبر میں ہوں گے۔

اس خطے سے کے پی اسمبلی میں 23 نشستیں ہوں گی، جس سے صوبہ مستحکم ہو گا اور نمائندگان کو بطورِ کل قومی سطح پر مستحکم تر آواز ملے گی۔

اسلام آباد بھی انضمام کے جزُ کے طور پر کے پی کے لیے مزید وسائل معین کرے گا۔

’کالے قانون‘ کا خاتمہ

گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج بنّوں میں علمِ سیاسیات کے ایک ماہر اور ضلع شمالی وزیرستان کے رہائشی خلیل رحمان نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "[قبائلی] برطانوی راج کے دور سے مسلط فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر) کے خاتمہ سے خوش ہیں۔"

ایف سی آر میں اجتماعی سزائیں دیا جانا بھی شامل تھا ، جو حکام کو اجازت دیتا تھا کہ افراد کے جرائم کے لیے پورے قبیلہ کو ذمّہ دار ٹھہرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی سے تنگ رہائشی اس انضمام پر پر مسرت ہیں۔

ضلع خیبر میں پاکستان پیپلز پارٹی سے منسلک ایک طالبِ علم احسان اللہ آفریدی نے کہا، "اب ہم آزادی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "ایف سی آر کے تحت گرفتار شدگان ملک بھر میں دیگر مقامات پر کام کرنے والی عام عدالتوں تک رسائی نہ رکھتے تھی۔"

انہوں نے کہا، "’کالا قانون‘ کہلایا جانے والا ایف سی آر ان لوگوں کو دباتا تھا جو انتظامیہ کی جانب سے من مانے فیصلوں کے خلاف اپنی آواز نہیں اٹھا سکتے۔ ایف سی آر کے خاتمہ کے بعد عدالتوں تک رسائی نے ہمارے حقِ حصولِ انصاف کو یقینی بنایا ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔ یہ ایک بڑا کام ہے جس کے لیے قانونی بنیادیں رکھی جا چکی ہیں۔"

’ایک بہتر کل‘

ضلع جنوبی وزیرستان کے ایک رہائشی، ظاہر شاہ نے کہا کہ ایف سی آر کو ناکارہ کیا جانا ان کے لیے ایک خوش آئیند اقدام ہے جو اس سفاکانہ قانون کے تحت رہتے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "[فاٹا کو علیحدہ رکھے جانے اور عدم مساوات] کی صورتِ حال نے اس علاقہ کو ضمنی جنگوں کا میزبان بننے کا زدپزیر بنا دیا جس نے اس کی معاشرتی-معاشی صورتِ حال کو ابتر کر دیا۔"

انہوں نے کہا، "اس تاریخی انضمام سے رہائشیوں کی زندگیاں بہتر بنانے کے متعدد مواقع آئیں گے۔ مستقل خوف میں رہنے والے باشندے اب مزید پسماندہ نہیں رہیں گے بلکہ ایک بہتر کل کی امّید رکھیں گے۔"

شاہ نے کہا کہ ماضی میں صحت، تعلیم اور معاشرتی محکمہ جات قبائلی علاقہ جات میں خدمات نہیں پیش کرتے تھے۔ "لیکن ہم ترقی کا ایک عہد دیکھیں گے جو ہزاروں ملازمتیں پیدا کرے گا اور بہتر صحت، تعلیم، توانائی، پانی اور صفائی کے لیے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل میں معاون ہو گا۔"

معاشی اور امن سے متعلقہ فوائد

این اے 41 ضلع باجوڑ کے حلقے سے عام انتخابات کے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کےامّیدوار گل فراز خان نے کہا، "قبائلی آبادی نے پاکستان میں امن کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ عسکریت پسندی کے خلاف ہماری سخت کاوشوں ہی کی وجہ سے ہے کہ ایک صدی پرانا نظام بدل دیا گیا ہے۔ ہم نے جمہوریت کی جانب اپنے سفر کا آغاز کر دیا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ نئے جمہوری انتظام میں جگہ بنانا عسکریت پسندوں کے لیے ناممکن ہو گا۔

خان نے کہا، "فاٹا ایک دہائی سے زائد عرصہ سے دہشتگردوں کا صدردفتر رہا ہے۔ ایک مکمل پیمانے کے انتظامی ڈھانچے کے بغیر عسکریت پسندوں کے لیے بچے رہنا نہایت آسان تھا۔"

فاٹا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سیکریٹری، کامران محسود نے اس انضمام سے بڑی امّیدیں وابستہ کیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اس سے اس علاقہ میں دیر پا امن آئے گا جس کا دہشتگرد تاریخ میں استحصال کرتے آئے ہیں۔ اس کا سہرا مصمم حمایت کی وجہ سے تمام سیاسی جماعتوں کے سر ہے؛ انہوں نے ایک اعلیٰ پائے کا انضمام کا منصوبہ تشکیل دیا، اور سب مبارکباد کے مستحق ہیں۔"

محسود نے کہا، "اصلاح علاقہ میں دیرپا امن کو یقینی بنانے کا واحد راستہ ہے۔ [باشندوں] نے چین کا سانس لیا ہے اور نئے نظام کے پھل کاٹنے کے منتظر ہیں۔"

ترقی کی راہ ہموار کرتے ہوئے

پشاور سے تعلق رکھنے والے ایک معاشیات دان ضیاء الدین احمد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس انصمام سے بلا شبہ کاروبار پھیلے گا۔

انہوں نے کہا، "قبائلی اضلاع میں کانیں اور سونا ہے جو امنِ عامہ کے فقدان اور دہشتگردی کی وجہ سے استعمال میں نہیں لائے جا سکے۔ ہم امّید کرتے ہیں کہ قومی قانون کی توسیع اور تشدد کا خاتمہ صنعت کاری کی راہ ہموار کریں گے اور [قبائل کے ارکان کی] بہتر زندگیوں کے لیے سرمایہ کاری ہو گی۔"

انہوں نے کہا، "ملک کے دیگر حصّوں میں کام کرنے والے ہزاروں مقامی باشندے ۔۔۔ اپنے علاقہ میں بہتری دیکھ کر واپس لوٹیں گے، اور اس سے معیشت پھلے پھولے گی۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

ٹی ٹی پی کے مستقبل کے لیے ملا فضل اللہ کی موت کا کیا مطلب ہے؟

نتائج