|

انتخابات

دیر بالا میں خاتون کے انتخاب لڑنے سے ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم خاتون ووٹ دہندگان کی حوصلہ افزائی

حمیدہ شاہد ایسی پہلی خاتون ہیں جو دیر بالا، ایک ایسی جگہ جہاں تاریخی طور پر خواتین کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے بھی محروم رکھا گیا ہے، سے انتخاب لڑ رہی ہیں۔ حمیدہ اور دوسری خواتین اس ممانعت کو تبدیل کرنے کی متلاشی ہیں۔

عدیل سعید


ایک پاکستانی ووٹ دہندہ، شہر کے اولین مقامی حکومت کے انتخابات میں 30 نومبر 2015 کو اسلام آباد کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈال رہی ہیں۔ پاکستان کے دور افتادہ قبائلی علاقوں میں، خواتین ووٹ دہندگان بہت نایاب ہیں اور کچھ واقعات میں تو بالکل بھی نہیں ہیں۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

ایک پاکستانی ووٹ دہندہ، شہر کے اولین مقامی حکومت کے انتخابات میں 30 نومبر 2015 کو اسلام آباد کے ایک پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈال رہی ہیں۔ پاکستان کے دور افتادہ قبائلی علاقوں میں، خواتین ووٹ دہندگان بہت نایاب ہیں اور کچھ واقعات میں تو بالکل بھی نہیں ہیں۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

پشاور -- پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ایک رکن، حمیدہ شہزاد، نے خیبر پختونخواہ (کے پی) کی دیر بالا ڈسٹرکٹ سے انتخاب لڑنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے جو کہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں تاریخی طور پر خواتین اپنے حقوق سے محروم رہی ہیں۔

حمیدہ، جن کی عمر 45 سال ہے عشیری درہ سمکوٹ کے علاقے سے تعلق رکھتی ہیں اور 6 بچوں کی والدہ ہیں، نے 6 جون کو، 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے دوران، انتخابی حلقے پی کے- 10 (دیر 1) سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر انتخاب میں حصہ لینے کے لیے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروائے۔

وہ ایسے علاقے کی پہلی خاتون امیدوار ہیں جہاں خواتین ووٹ دہندگان بہت نایاب ہیں اور کچھ واقعات میں تو موجود ہی نہیں ہیں۔

ڈان نے گزشتہ دسمبر میں خبر دی تھی کہ کچھ مذہبی گروہوں اور انتہاپسند عناصر نے 2017 میں خواتین کو، تحصیل اور گاؤں کونسل کی سیٹوں کے لیے ہونے والے مقامی حکومت کے ضمنی انتخابات میں زیریں اور دیر بالا کی دو ڈسٹرکٹس میں خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا تھا۔

خبروں کے مطابق، دیر بالا کی شاہی خیل تلاش تحصیل کی اندراج شدہ 6,286 خواتین ووٹ دہندگان میں سے کسی ایک نے بھی ووٹ نہیں ڈالا تھا۔ اسی طرح دیر زیریں کی ثمرباغ تحصیل میں اندراج شدہ 7,042 خاتون ووٹ دہندگان میں سے کسی ایک نے بھی انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

دریں اثنا، سینٹر برائے انوسٹیگیٹیو رپورٹنگ ان پاکستان کی طرف سے ووٹروں میں صنفی کمیوں کے بارے میں کیے جانے والے ایک تجزیے کے مطابق، دیر بالا میں 34 فیصد خواتین 2018 کے انتخابات کے لیے رجسٹرڈ تک نہیں ہیں۔

دیر زیریں میں 32 فیصد خواتین رجسٹرڈ نہیں ہیں جس کے بعد بٹگرام ڈسٹرکٹ آتی ہے جہاں یہ تعداد 30 فیصد ہے۔

بندشوں کو توڑنا

حمیدہ جو کہ پیشے کے لحاظ سے عروسی ڈیزائنر ہیں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میرا مشن اس بندش کو توڑنا ہے کوخواتین پر انتخابات میں حصہ لینے اور اس ترقی پزیر علاقے کی ترقی میں حصہ لینے پر لگائی گئی ہے"۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ انہیں آگے سخت چیلنجوں کا سامنا ہے مگر فوری طور پر اس بات کا اضافہ کیا کہ زندگی ایسی مشکلات سے بھری ہوئی ہے جن کا سامنا انسان کو کرنا پڑتا ہے اور وہ عزم سے ان سے لڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "میں اپنے آبائی علاقے کی خواتین کے لیے کوئی اچھا کام کرنا چاہتی ہوں جو اس جدید، پیش رفت اور ترقی کے موجودہ دور میں، پسماندگی میں زندہ رہ رہی ہیں"۔

پی ٹی آئی کے لیے 2017 کے مقامی انتخابات میں کام کرتے ہوئے، حمیدہ کو ایسی خواتین ملیں جو سہولیات نہ ہونے کے باعث پہاڑی علاقے بھر میں انتہائی برے حالات میں رہ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقے کے رہائشی انتخاب لڑنے کے ان کے فیصلے پر پرجوش ہیں۔ انہوں نے اضافہ کیا کہ وہ اسے ایک "اچھا شگون" سمجھ رہے ہیں جو خواتین کے حقِ رائے دہی کے لیے راستہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ "میں جن لوگوں سے ملتی ہوں، خصوصی طور پر خواتین، وہ مردوں کی اجاریت والے حلقہ انتخاب سے انتخابات میں لڑنے کے میرے فیصلے کو سراہتی ہیں اور انہوں نے میری مکمل حمایت اور مدد کرنے کا وعدہ کیا ہے"۔

حمیدہ اپنے مقصد میں تنہا نہیں ہیں۔ دیر زیریں میں مزید تین خواتین نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات میں حصہ لینے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔

صوبیہ شاہد (جن کا حمیدہ سے کوئی رشتہ نہیں) نے گزشتہ سال کے پی کی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص نشست پر دیر زیریں کی ڈسٹرکٹ کی نمائندگی کی تھی۔ اب انہوں نے حلقہ انتخاب این اے - 7 سے قومی اسمبلی کی نشست کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ پاکستان مسلم لیگ -نواز (پی ایم ایل -این) کی رکن ہیں۔

دیر زیریں سے دیگر خاتون امیدواروں میں حلقہ انتخاب پی کے- 15سے پی ٹی آئی کی سمیرا، حلقہ انتخاب پی کے - 16 سے پی ٹی آئی کی سائرہ شاہ شامل ہیں جو دونوں صوبائی اسمبلی کی سیٹوں کے لیے انتخاب میں کھڑی ہو رہی ہیں۔

خواتین کو خودمختار بنانا، متاثر کرنا

صوبہ میں پی ٹی آئی کے ترجمان اور کے پی اسمبلی کے سابقہ رکن، شوکت یوسف زئی نے کہا کہ "ایسے علاقے میں جہاں خواتین ووٹروں کی تعداد تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے، خواتین کو پارٹی کی ٹکٹیں دینے کے پیچھے بنیادی مقصدخواتین ووٹ دہندگان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے کہ وہ باہر نکلیں اور اپنا ووٹ ڈالنے کا حق استعمال کریں"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "خواتین کو خودمختار بنائے بغیر ہم ترقی کا دعوی نہیں کر سکتے اور اس کے لیے ہمیں خواتین کو مساوی مواقع دینے ہوں گے"۔

انہوں نے کہا کہ "ہم خاتون امیدوار کو علاقے کی خاتون ووٹ دہندگان کے لیے حوصلہ افزائی کا بہترین طریقہ سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی خودمختاری اور ترقی کے لیے جمہوری نظام میں حصہ لیں"۔

انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات میں، پی ٹی آئی کو خواتین ووٹ دہندگان کی کم شرکت کے باوجود اچھا ٹرن آوٹ ملا تھا۔

یوسف زئی نے کہا کہ "اب ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ پی ٹی آئی کی امیدوار حمیدہ شاہد، جنہوں نے مردانہ شاویانہ پٹی میں مقابلے میں حصہ لینے کا فیصلہ کرنے سے تاریخ بنائی ہے، خواتین کے ووٹ حاصل کرنے سے فتح یاب ہوں گی"۔

نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن کی، کے پی شاخ کی چیر نیلم طور نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "حمیدہ کا انتخاب میں کھڑا ہونا، دیر بالا ڈسٹرکٹ کی خواتین کے لیے متاثر کن ہو گا اور علاقے میں خواتین ووٹ دہندگان کی تعداد میں اضافہ کرنے گا"۔

انہوں نے کہا کہ "حمیدہ نے ایک مشکل راستے کا انتخاب کیا ہے مگر وہ اپنے آبائی علاقے میں خواتین کو خودمختار بنانے کے اپنے عزم کے باعث فاتح کے طور پر سامنے آئیں گی"۔

طور نے کہا کہ وہ پی ٹی آئی اور پی ایم ایل -این کی طرف سے خواتین امیدواروں کو مردوں کی حاکمیت والے حلقہ ہائے انتخاب میں ٹکٹیں دینے سے نئی مثال قائم کرنے پر، ان کو سراہتی ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ایسے فیصلوں سے علاقے میں پدری سوچ کی حوصلہ شکنی ہو گی جہاں کچھ شہریوں نے انتخابات کے دوران خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش کرنے کا عزم کیا ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج