|

سیاست

پاکستان فاٹا - کے پی کے انضمام کو ممکن بنانے والا ہے

ایک نئی قانونی ترمیم، جسے اگر نافذ کر دیا گیا، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کو مرکزی دھارے میں لائے گی اور انہیں خیبر پختونخواہ کے ساتھ ضم کر دے گی۔

اے ایف پی


گزشتہ سال 21 ستمبر کو، پاکستانی تماشائی پاکستان XI اور یو کے میڈیا XI کے درمیان مانسہرہ، شمالی وزیرستان جو کہ القاعدہ اور طالبان کے عسکریت پسندوں کا سابقہ گڑھ تھا، میں ٹی20 کے کرکٹ میچ کے دوران کتبے اٹھائے ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی نے 24 مئی کو ایک قانون منظور کیا جس کے تحت فاٹا اور کے پی کے انضمام کی منظوری دی گئی۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

گزشتہ سال 21 ستمبر کو، پاکستانی تماشائی پاکستان XI اور یو کے میڈیا XI کے درمیان مانسہرہ، شمالی وزیرستان جو کہ القاعدہ اور طالبان کے عسکریت پسندوں کا سابقہ گڑھ تھا، میں ٹی20 کے کرکٹ میچ کے دوران کتبے اٹھائے ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی نے 24 مئی کو ایک قانون منظور کیا جس کے تحت فاٹا اور کے پی کے انضمام کی منظوری دی گئی۔ ]عامر قریشی/ اے ایف پی[

اسلام آباد -- پاکستان نے جمعرات (24 مئی) کو ایک مسودہ قانون منظور کیا جس نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کو سیاسی مرکزی دھارے میں لانے اور نو آبادیاتی دور کے ایسے انتظامات کو ممکنہ طور پر ختم کرنے کی راہ ہموار کی ہے جنہوں نے مشترکہ سزاؤں کی حمایت اور عسکریت پسندی کو ہوا دی تھی۔

قومی اسمبلی کے اندر 229 نے ترمیم کے حق میں اور ایک نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دس ارکان نے حصہ نہیں لیا۔

اس قانون کو سینیٹ کی طرف سے حتمی منظوری اور صدر کے دستخط درکار ہیں -- ان اقدامات کو ایوانِ زیریں میں بھاری اکثریت کی حمایت ملنے کے بعد ناگزیر سمجھا جا رہا ہے۔

ڈان نے خبر دی ہے کہ سینیٹ جمعہ (25 مئی) کو اس مسودہ قانون کا جائزہ لے گا۔

اس ترمیم کا مقصد فاٹا میں حکومت کے لیے استعمال ہونے والے نو آبادیاتی دور کے قوانین کو ختم کرنا، پاکستانی عدالتوں کی پہنچ کو اس کے اضلاع تک وسیع کرنا اور اس کے شہریوں کے لیے ترقیاتی امداد میں اضافہ کرنا ہے۔ اگر اسے منظور کر لیا گیا تو فاٹا باضابطہ طور پر ہمسایہ صوبہ خیبر پختونخواہ (کے پی) میں ضم ہو جائے گا۔

اس نئی ترمیم کے بارے میں فاٹا بھر میں جشن منایا گیا۔

خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ملک زرنور آفریدی نے کہا کہ "آج ایک تاریخی دن ہے۔ میں بہت زیادہ خوش ہوں"۔

جنوبی وزیرستان ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سمیع اللہ جان نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ترقیاتی امداد میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

جان نے کہا کہ "انہیں معیاری تعلیم، معیاری صحت عامہ کی سہولیات، سڑکیں، بجلی، گیس اور اقتصادی مواقع ملیں گے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

3 تبصرے 💬

💬

سجاد عالم | 06-02-2018

فاٹا کا خیبر پختونخواہ کے ساتھ انضمام ایک خوش آئند اقدام ہے۔ حکومت پاکستان نے فاٹا کے عوام کے لئے ایک تاریخی فیصلہ کیا ہے۔


💬

ihsanullah shabaz | 05-28-2018

فاٹا کے انضمام سے خیبر پختونخوا کو کیا فائدہ ہو گا


💬

Jaffar | 05-25-2018

کے پی کے میں فاٹا کو خوش آمدید


انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج