|

جرم و انصاف

فاٹا اصلاحات حقیقت بننے کے 1 قدم اور قریب

حکومتِ پاکستان نے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کے عمل کو تیز کرنے کا اشارہ دے دیا ہے۔

از محمد شکیل


نومبر میں پشاور ہائی کورٹ کو دکھایا گیا ہے۔ [محمد شکیل]

نومبر میں پشاور ہائی کورٹ کو دکھایا گیا ہے۔ [محمد شکیل]

پشاور -- حکومتِ پاکستان نے بظاہر طویل عرصے سے انتظار کی جانے والی اور بہت زیادہ متوقع اصلاحات کو سبز جھنڈی دکھا دی ہے جو وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کو ملک کے سیاسی مرکزی دھارے میں لے آئے گی۔.

ڈان اور دی نیشن نے خبر دی ہے کہ فاٹا اصلاحات پر قومی اطلاق کمیٹی (این آئی سی) نے گزشتہ ہفتے فاٹا کو صوبہ خیبرپختونخوا (کے پی) میں ضم کرنے کی توثیق کر دی تھی، اور منگل (26 دسمبر) کے روز وفاقی کابینہ نے اس انضمام کو تیز کرنے کی ترغیب دی ہے۔

این آئی سی، جس کی صدارت وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کی، نے اس پر بھی اتفاق کیا کہ فاٹا جولائی 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں کے پی اسمبلی کے 23 ارکان کو بھی منتخب کرے گا۔

ڈان نے 26 دسمبر کو بتایا کہ این آئی سی کا اجلاس 18 دسمبر کو ہوا تھا، لیکن تاریخی فیصلوں کو فوراً عام نہیں کیا گیا۔

ابتدائی طور پر پاکستانی کابینہ نے فاٹا اصلاحات کے بل ستمبر 11 کی منظوری دی تھی۔ وفاقی وزیرِ قانون زاہد حامد نے یہ بل 16 ستمبر کو پارلیمان میں پیش کیا تھا۔

دی نیشن نے 27 دسمبر کو بتایا کہ حکومت اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے فاٹا اصلاحات کے بل کی منظوری میں تاخیر کرتی رہی ہے۔

عدالتوں کے دائرہ کار کی فاٹا تک توسیع

بل، اگر منظور ہو جاتا ہے، فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت اجتماعی سزا کا خاتمہ کرے گا اور پاکستانی عدالتوں کی حکمرانی کو فاٹا تک وسیع کر دے گا۔

ظالمانہ ایف سی آر کی تاریخ برطانوی راج تک جاتی ہے۔ ایف سی آر کے تحت، فاٹا میں رہنے والے قبائل اپنے تنازعات جرگوں کے ذریعے نمٹاتے ہیں، جبکہ گورنر کے پی کی جانب سے مقرر کردہ پولیٹیکل ایجنٹ ساتوں ایجنسیوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔

فاٹا لائرز فورم کے صدر اعجاز محمد نے 20 دسمبر کو پاکستان فارورڈ کو بتایا، "قبائل کی تقدیر، جسے جرگوں کے ہاتھ میں دے دیا گیا تھا، اور [ایف سی آر] کے ذریعے قابو کی جاتی تھی، عدالتوں کے قبائلی علاقہ جات تک وسیع ہونے کے بعد ایک نیا موڑ لے گی۔"

انہوں نے کہا، "مجوزہ نظام کے تحت، عدالتوں کے لیے یہ ممکن ہو گا کہ جرگہ نظام کے عملی ضوابط اور فیصلوں کی نگرانی کرنے کے ساتھ ساتھ، اس کے کام کی شفافیت، قانونیت اور اصالتِ جواز کو یقینی بنائیں۔ مزید برآں، اگر جرگوں کی جانب سے کیے گئے فیصلے غیر منصفانہ اور غیر تسلی بخش ہوں تو مکین عدالتوں میں جانے کے اہل ہوں گے۔"

مہمند کے مطابق، فعال عدالتیں انصاف تک آسان رسائی مہیا کرتی ہیں، جن کی غیرموجودگی فاٹا میں سلامتی، تحفظ اور معاشی استحکام کو متاثر کرنے والا ایک مرکزی عنصر ہے۔

انہوں نے کہا، "ایسے علاقوں کے مکین جہاں اکثر غیر یقینی صورتحال غالب رہتی ہے انہیں ہیرا پھیری اور ناانصافی کے زیادہ خطرے میں رہنے کا اندیشہ ہوتا ہے جو کہ امتیاز، بدسلوکی، حقوق کی خلاف ورزی اور معاشی عدم استحکام پر منتج ہوتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کو عدالتی نظام تک رسائی دینا "انہیں پھلنے پھولنے، زندہ رہنے اور خوشحال ہونے کے مساوی امکانات کی یقین دہانی کروائے گا۔"

قبائلی عوام کے لیے انصاف‎

باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ایک رکن شہاب الدین خان نے پاکستان کی سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی رٹ قبائلی علاقوں تک وسیع کرنے کو سراہا، لیکن کہا، :اگر ہم [قریبی] پشاور ہائی کورٹ تک رسائی کا حق دیتے تو بہت زیادہ بہتر ہوتا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "حب الوطنی اور بھروسہ جس کا اظہار [دہشت گردوں کے خلاف] عسکری آپریشنوں کے دوران قبائلی عوام کی جانب سے کیا گیا ۔۔۔ مادرِ وطن سے چیخ چیخ کر عوضانہ مانگ رہا ہے۔"

انہوں نے کہا، "مجوزہ عدالتی نظام نہ صرف قبائلی انتظامی نظام کو غیر منصفانہ مداخلت اور اجارہ داری سے نجات دلائے گا بلکہ یہ بھی یقینی بنائے گا کہ یہ اصول و ضوابط کے تحت کام کر رہا ہے۔"

مہمند ایجنسی سے تعلق رکھنے والے پشاور کے ایک مقامی تاجر عجیب اللہ نے کہا کہ مجوزہ اصلاحات قبائلی پٹی کے سماجی اور معاشی انضمام کو مستحکم علاقوں کے ساتھ یکجا کرنے پر منتج ہو گی جس سے ترقی اور نشوونما کے لامحدود مواقع پیدا ہوں گے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "قبائلی علاقوں میں ایک منظم قانونی نظام کی دستیابی ان امور کا فیصلہ کرنے میں مدد کرے گی جو برسوں سے زیرِ التوا چلے آ رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "میرا جائیداد کا ایک پرانا تنازعہ ہے جو قبائلی علاقہ جات میں جائیداد کے لیے ایک موزوں نظام [کی قلت] کی وجہ سے حل نہیں ہو سکا ۔۔۔ اور حد بندی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ عدالتوں کے دائرہ کار کو قبائلی علاقوں تک وسیع کرنا ایسے بہت سے مسائل کو حل کرنے میں مدد دے گا جن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 7

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج