| سلامتی

پاکستان کا پولیس کے فرائض فاٹا تک وسیع کرنے پر غور

از جاوید خان


مارچ میں دکھائی گئی اس تصویر میں، خاصہ دار فورس اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی چوکی طورخم پر حفاظتی انچارج ہے۔ حکومتِ پاکستان نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) ایکٹ کو طورخم میں پانچ دیہات تک وسیع کر دیا ہے اور پولیس ایکٹ کو فاٹا میں توسیع دینے پر غور کر رہی ہے۔ [جاوید خان]

مارچ میں دکھائی گئی اس تصویر میں، خاصہ دار فورس اب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی چوکی طورخم پر حفاظتی انچارج ہے۔ حکومتِ پاکستان نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) ایکٹ کو طورخم میں پانچ دیہات تک وسیع کر دیا ہے اور پولیس ایکٹ کو فاٹا میں توسیع دینے پر غور کر رہی ہے۔ [جاوید خان]

پشاور -- پاکستانی حکام امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی ایک کوشش کے جزو کے طور پر وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں پولیس کا ایک نیا محکمہ قائم کرنے کے لیے قومی پولیس ایکٹ میں توسیع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ اقدام فاٹا کے خیبر پختونخوا میں منصوبہ بندی کردہ انضمام کا ایک جزو ہے۔

فی الوقت، فاٹا کی سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ سرحدی علاقوں میں امن و امان قائم کرنے کی ذمہ داری لیویز فورس اور خاصہ دار قبائلی پولیس کی ہے۔ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف لڑنے کے لیے فاٹا میں فوج بھی تعینات کی گئی ہے۔

کے پی پولیس خدمات انجام دینے کے لیے تیار

پولیس ایکٹ میں توسیع فاٹا میں موجودہ سیکیورٹی فورسز میں سے ایک معمول کا محکمۂ پولیس بنائے گا، جسے کے پی پولیس تربیت دے گی۔

کے پی میں ایکسپریس ٹریبیون کے بیورو چیف افتخار فردوس نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فاٹا اصلاحات کے تحت، قبائلی علاقہ جات میں کے پی پولیس کی تعیناتی پر بات چیت ہو رہی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ تعیناتی ایک بتدریج عمل ہو گا کیونکہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کا کام پانچ برسوں میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا، "اگر منصوبے کے مطابق اصلاحات کی ابتداء ہو جاتی ہے، فیصلہ ساز دو برسوں کے اندر اندر فاٹا میں ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل سطح کے پولیس افسر کی تعیناتی چاہیں گے، اور پولیس کے افعال انجام دینے کا فرض لیویز کے سپرد کر دیا جائے گا، جسے کے پی پولیس تربیت فراہم کرے گی۔"

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے کہا کہ کے پی پولیس صوبے میں امن و امان کو برقرار رکھنے میں بہترین کام کرتی رہی ہے اور جب انہیں قبائلی علاقہ جات میں کارکردگی دکھانے کو کہا جائے گا تو وہ ویسا ہی اچھا کام کرے گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اگر ہمیں فاٹا میں امن و امان کی صورتحال کو دیکھنے کے لیے کہا جاتا ہے، ہم ایک سال کے اندر اندر نتائج دے سکتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "ہم لیویز کو تربیت دیں گے اور وہاں ایک باقاعدہ نظام تیار کریں گے تاکہ فوج ایک سال کے اندر اندر، امن و امان کی صورتحال پولیس کے حوالے کرتے ہوئے، بہتر حالات والے علاقوں سے بتدریج نکلنا شروع ہو جائے۔"

تبدیلیاں پہلے ہی ہو رہی ہیں

گزشتہ ماہ، وفاقی حکومت نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) ایکٹ 1974 کے ایک تبدیل شدہ ورژن کو فاٹا میں طورخم سرحد کے قریب پانچ دیہات تک وسیع کیا تھا۔

اس اقدام نے مہاجرت کے اختیارات سرحد کے ساتھ ساتھ تعینات لیویز فورس کو منتقل کر دیئے اور پولیٹیکل ایجنٹ کو عدالتی اختیارات دے دیئے۔

پشاور میں ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران شاہد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایف آئی اے ایکٹ میں طورخم میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور تحصیلدار کو [خیبر ایجنسی کی] انتظامیہ کے اختیارات استعمال کرنے کے لیے بااختیار بنانے کے لیے ترمیم کی گئی تھی،" انہوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے سرحد پار کرنے والے افراد کا ریکارڈ رکھنے میں ان حکام کی مدد کرے گی۔

اس تبدیلی کو پولیس ایکٹ کی قبائلی علاقہ جات تک توسیع میں پہلے بڑے اقدام کے طور پر تصور کیا جاتا ہے۔

فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کے مطالبات

بہت زیادہ عوام اور سیاسی قیادت ملک کے قبائلی علاقہ جات کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے فاٹا کو کے پی میں ضم کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔

9 اکتوبر کو، کئی سیاسی جماعتوں نے پانچ برس انتظار کرنے کی بجائے جلدی انضمام کروانے کے لیے اسلام آباد میں ایک ریلی نکالی۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) جماعت کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ کے پی انتظامی طور اور مالیاتی طور پر فاٹا کا انتظام سنبھالنے کے لیے تیار ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کے پی پرویز خٹک کے ہمراہ 6 اکتوبر کو پشاور میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ فاٹا کو ایک نئے نظام کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ نظام عوام کو نہیں بلکہ صرف بدعنوان بیوروکریٹس کو ہی فائدہ پہنچاتا ہے۔

خان نے کہا، "حکومت لازماً فاٹا میں اصلاحات کرے اور اسے کسی بھی تاخیر کے بغیر کے پی میں ضم کر دے تاکہ عسکری آپریشنوں سے [انسدادِ دہشت گردی] میں کامیابیوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔"

خان نے کہا کہ خٹک عسکری حکام کے ساتھ فوج کو کے پی کے ان علاقوں سے نکالنے کے لیے بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں امن بحال ہو چکا ہے اور جہاں پولیس انتظام سنبھال سکتی ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے ایک مکین، منیر آفریدی نے فرنٹیٹر کرائمز ریگولیشن جس کا اطلاق برطانوی وقتوں سے صرف فاٹا پر ہوتا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فاٹا کے عوام چاہتے ہیں کہ متنازعہ قانون اور نظام کو فوری طور پر قبائلی علاقہ جات سے ختم کیا جائے اور قبائلیوں کے ساتھ دیگر صوبوں کے مکینوں جیسا سلوک کیا جائے۔"

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو عدالتوں اور باضابطہ پولیس کے نظام کی ضرورت ہے، اور ہر ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کو کُلی اختیار حاصل ہونے کی بجائے صرف ایجنسی کا انتظامی سربراہ ہونا چاہیئے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

21
4
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha