سیاست

مقامی افراد کے خدشات کم کرنے کے لیے پاکستانی فوج فاٹا میں پڑتالی چوکیوں میں کمی کرے گی

از جاوید خان

پاکستانی فوجی 2014 میں شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائی سے فرار ہونے والے اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے پاکستانی شہریوں کی دستاویزات دیکھتے ہوئے۔ فوج پورے فاٹا میں پڑتالی چوکیوں کی تعداد کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ ایسا اقدام ہے جو بظاہر مقامی خدشات کو حل کرنے کے لیے ہے۔ [اے مجید/اے ایف پی]

پاکستانی فوجی 2014 میں شمالی وزیرستان میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف عسکری کارروائی سے فرار ہونے والے اندرونِ ملک بے گھر ہو جانے والے پاکستانی شہریوں کی دستاویزات دیکھتے ہوئے۔ فوج پورے فاٹا میں پڑتالی چوکیوں کی تعداد کم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو کہ ایسا اقدام ہے جو بظاہر مقامی خدشات کو حل کرنے کے لیے ہے۔ [اے مجید/اے ایف پی]

پشاور -- وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے باشندوں نے فوج کی جانب سے خطے میں پڑتالی چوکیوں کی تعداد کو کم کرنے اور باقی ماندہ بارودی سرنگیں صاف کرنےکے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، ایک ایسا اقدام جسے حالیہ احتجاجی مظاہروں کے جواب کے طور پر دیکھا گیا ہے۔

کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے منگل (24 اپریل) کو صحافیوں کے ایک گروہ کو بتایا کہ سیکیورٹی فورسز سال کے اختتام تک فاٹا میں پڑتالی چوکیوں کی تعداد 253 سے کم کر کے 270 کر دیں گی۔

بٹ نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں، 70 پڑتالی چوکیوں کو پہلے ہی کم کر کے 31 کیا جا چکا ہے، اور یہ تعداد جون میں 25 رہ جانا طے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا چونسٹھ فیصد کام مکمل کیا جا چکا ہے۔

دیرپا اثر کی امید

بٹ نے کہا کہ کے پی ایپکس کمیٹی نے پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے ساتھ مذاکرات کے لیے ایک جرگہ تشکیل دیا ہے، جو کہقبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر احتجاج کر رہی ہے۔

بول نیوز کے مطابق، انہوں نے کہا، "قبائلیوں کی حفاظت کرنا فوج اور حکومت کا فرض ہے، اور یہ کام جاری ہے۔"

دنیا نیوز کے پشاور میں بیورو چیف اور محسود قبیلے کے رکن، صفی اللہ گل نے کہا، "اگر اعلان کردہ اقدامات کا اطلاق ہو جاتا ہے، تو ان کا فاٹا، کے پی اور باقی ملک کے لوگوں پر دیرپا اثر پڑے گا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مزید سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کا فاٹا میں زندگی پر بہت زیادہ مثبت اثر پڑے گا۔"

انہوں نے کہا کہ جب دونوں فریق موومنٹ کے مطالبات کو قبول اور حل کرنے کے لیے مل بیٹھیں گے تو پی ٹی ایم کا وجود ختم ہو جائے گا۔

پاکستان تحریکِ انصاف جماعت کے سربراہ عمران خان اور بہت سے سیاستدان ماضی میں فوج سے فاٹا اور کے پی میں پڑتالی چوکیوں کی تعداد کم کرنے اور قبائلی علاقے کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔

سوات سے رکن قومی اسمبلی، مسرت احمد زیب نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ فوج فاٹا کے باشندوں کی تشویشوں کو حل کرنا چاہتی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ فاٹا کی آبادی کے مسائل پر توجہ لازمی دی جائےبشمول تعلیم اور صحت میں بہتریاں، نیز معاشی ترقی۔

معمول کی زندگی کو واپس لانا

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے 20 اپریل کو ٹویٹ کیا، "فاٹا کے بہادر قبائل نے بہت سی مشکلات اور قربانیوں کے بعد امن اور استحکام حاصل کر لیا ہے۔"

بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا، "فعال کارروائی کے بعد معمول کی زندگی کی بحالی 'صفائی-قبضہ-تعمیر-منتقلی' حکمتِ عملی کا ایک حصہ ہے۔ ریاست بشمول دفاعی قوتیں متاثرہ آبادی کی بحالی میں مخلص ہیں۔"

انہوں نے ٹویٹ کیا، "ہم فعال کارروائی کے بعد 'صفائی' کے مرحلے کی مشکلات سے باہر نکل آئے ہیں، 'قبضہ اور تعمیر' پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ یہ ہمارا گھر ہے، مل کر کام کرتے ہوئے ہم معمول کی مکمل زندگی کو بتدریج واپس لے آئیں گے۔ یہ وقت بے یقینی پیدا کرنے کی کوشش کرنے والی مخالف قوتوں سے آگاہ رہنے کا وقت ہے لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گی۔"

غفور نے کہا، علاقے کی معاشی ترقی ایک ترجیح ہے اورفاٹا کو مرکزی دھارے میں لاناخطے کی بااختیاری اور خوشحالی کے لیے ہنوز اہم ہے۔

خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر، شاہد آفریدی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، " حکومت کوفاٹا کے پی میں ضم کر دینا چاہیئے، تعلیم اور صحت کی مزید سہولیات فراہم کرنی چاہیئیں، پڑتالی چوکیوں کی تعداد کم کرنی چاہیئے، اور قبائلیوں کے لیے نقل و حرکت آسان بنانی چاہیئے جنہوں نے بہت سالوں تک بہت زیادہ مصیبتیں جھیلی ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 1

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500

میں پاک فوج سے بے انتہا محبت کرتا ہوں اور میں پاک فوج میں شامل نہیں ہوسکتا کیونکہ میرے داہنے پیر کی دو انگلیاں چھوٹی ہیں یہ بڑا مسئلہ نہیں ہے

جواب