|

انتخابات

پاکستان نے نگران حکومت متعین کر دی، عام انتخابات کی تاریخ طے پا گئی

سپریم کورٹ کے سابقہ چیف جسٹس ناصر الملک، 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد نئی حکومت کے بننے تک نگران وزیراعظم کے طور پر خدمات سے انجام دیں گے۔

پاکستان فارورڈ اور اے ایف پی


ایک پاکستانی خاتون، 5 دسمبر 2015 کو کراچی میں مقامی حکومت کے انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے بعد، اپنے سیاہی لگے انگوٹھے کو دکھا رہی ہے۔ ]رضوان تبسم/ اے ایف پی[

ایک پاکستانی خاتون، 5 دسمبر 2015 کو کراچی میں مقامی حکومت کے انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈالنے کے بعد، اپنے سیاہی لگے انگوٹھے کو دکھا رہی ہے۔ ]رضوان تبسم/ اے ایف پی[

اسلام آباد -- پاکستان ملک کی تاریخ میں دوسری باراقتدار کی جمہوری طور پر منتقلی کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

پاکستان کی حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں نے پیر (28 مئی) کو سپریم کورٹ کے سابقہ چیف جسٹس ناصر الملک کو نگران وزیراعظم متعین کرنے کا اعلان کیا۔

موجودہ حکومت، جس کی قیادت وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کر رہے ہیں کی مدت 31 مئی کو ختم ہو رہی ہے۔ پارلیمنٹ کو تحلیل کیے جانے کے بعد، اور انتخابات کے بعد نئی حکومت کے بننے سے پہلے تک، نگران انتظامیہ انچارج ہو گی۔

عباسی نے پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ "آج کا دن پاکستان کی جہوری تاریخ میں ایک اہم دن ہے، اتفاقِ رائے کے بعد نام کا انتخاب کیا گیا۔ ہم نے ایک ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جس کا ماضی بہت صاف ہے"۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے راہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے راہنما سید خورشید شاہ نے کہا کہ ناصر، جنہوں نے اعلی ترین عدالت میں تقریبا دس سالوں تک خدمات سرانجام دی ہیں -- جن میں جولائی 2014 سے اگست 2015 تک چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دینا بھی شامل ہے، کو تمام سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔

وسیع پیمانے پر قابلِ احترام جج کی تعیناتی غیر متوقع طور پر سامنے آئی کیونکہ پاکستانی پریس میں ان کا نام نگران وزیراعظم کے طور پر عہدہ سنبھالنے والے متوقع امیدواروں میں سب سے آگے کے امیدوار کے طور پر سامنے نہیں آیا تھا۔

ڈان نے خبر دی ہے کہ پاکستان کے قانونی ماہرین نے اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی تعیناتی کے ساتھ، آنے والے انتخابات غیر جانب دار، آزاد اور منصفانہ طور پر منعقد ہوں گے۔

پاکستان بار کونسل کے ایک سینئر رکن راحیل کامران نے کہا کہ "جسٹس ملک بلاشبہ ایک باکردار اور بے عیب ایمانداری رکھنے والے انسان ہیں جنہوں نے کسی خوف یا نوازش کے بغیر ہمیشہ آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کیا ہے"۔

انتخابات کی تاریخ متعین

حکومت نے ہفتہ (26 مئی) کو اعلان کیا کہ پاکستان عام انتخابات 25 جولائی کو منعقد کرے گا۔

وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ "یہ مسلسل دوسری ایسی پارلیمنٹ ہے جو اپنی مدت مکمل کر رہی ہے اور ہم اس کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں ۔۔۔ لوگوں کے پاس جا کر اپنی کارکردگی کے بارے میں ان کا فیصلہ لینے کے لیے"۔

جولائی کے انتخابات اس سیاسی کشیدگی کا فیصلہ کن نکتہ عروج ہوں گے جو سابقہ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو سپریم کورٹ کی طرف سے گزشتہ جولائی میں بدعنوانی کے الزامات میں نکالے جانے اور بعد میں سیاست سے تمام عمر کے لیے نا اہل قرار دیے جانے کے بعد سے، پنپ رہی تھی۔

نوازشریف ستر سالہ تاریخ میں پاکستان کے ایسے 15ویں وزیراعظم ہیں جنہیں ان کی مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی اقتدار سے نکالا گیا ہے۔

پاکستان نے 2013 کے انتخابات کے بعد پہلی بار جمہوری طور پر اقتدار کی منتقلی کی تھی جب پی پی پی کی زیرِ قیادت حکومت نے پاکستان مسلم لیگ- نواز (پی ایم ایل- این) کو بھرپور کامیابی کے بعد اقتدار منتقل کیا تھا۔

آنے والے انتخابات کے لیے ووٹروں کی رجسٹریشناپریل میں مکمل ہوئی تھی اور 105 ملین سے زیادہ پاکستانی ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔

پاکستان الیکشن کمیشن (ای سی پی) نے 23 مئی کو اعلان کیا کہ 2013 میں ہونے والے انتخابات سے ووٹروں کی تعداد میں 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اندراج شدہ 105.96 ملین ووٹروں میں سے 55.9 فیصد مرد اور 44.1 فیصد خواتین ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ دہشت گردی میں سرمایہ کاری اور رقوم کی غیر قانونی ترسیل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کے عملی اقدامات سے مطمئن ہیں؟

نتائج