|

سلامتی

پاکستان نے رمضان کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے

حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کی حفاظت، خصوصاً افطار اور نماز کے اوقات، کے لیے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

از جاوید خان


رمضان کے پہلے روز 18 مئی کو کراچی میں پاکستانی مسلمان نماز ادا کرتے ہوئے جبکہ ایک پولیس افسر گلی میں پہرہ دے رہا ہے۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

رمضان کے پہلے روز 18 مئی کو کراچی میں پاکستانی مسلمان نماز ادا کرتے ہوئے جبکہ ایک پولیس افسر گلی میں پہرہ دے رہا ہے۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

پشاور -- ایک پُرامن رمضان کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے پورے ملک میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیئے ہیں۔

خیبرپختونخوا (کے پی) میں، پولیس اپنی کوششوں کو تجارتی مراکز اور دیگر پُرہجوم عوامی مقامات اور افطار اور نماز کے اوقات پر مرتکز کر رہی ہے۔

کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) صلاح الدین محسود نے 17 مئی کو ایک حکمنامے میں تمام علاقائی پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کو ہدایات جاری کیں کہ امن و امان برقرار رکھیںاور دہشت گردی کے کسی بھی قسم کے خطرے کی پیش بینی کریں یا اسے ناکام بنائیں۔

پولیس کو خصوصی اقدامات کرنے کے احکامات موصول ہوئے ہیںکہ اہم قومی تنصیبات، عبادت گاہوں، مارکیٹوں، بینکوں، ہسپتالوں، پیٹرول اسٹیشنوں، ریلوے اسٹیشنوں، ہوائی اڈوں اور دیگر ممکنہ اہداف کو محفوظ بنائیں۔

کے پی پولیس کے ترجمان، وقار احمد، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ رمضان المبارک میں حکامتمام اقسام کی بندوقوں اور دیگر اسلحےکی نمائش اور اسے لہرانے پر مکمل پابندی کا اطلاق کر رہے ہیں۔

وقار نے کہا کہ بہت زیادہ ہجوم کے اوقات کے دوران عام پولیس کے علاوہ، ریپڈ رسپانس فورس اور سٹی پیٹرول فورس کی پورے پشاور میں اور دیگر اضلاع میں تعیناتی کی جائے گی۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر قاضی جمیل الرحمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پشاور میں، امن و امان برقرار رکھنے اور مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے چار مسلح اہلکاروں کو لے جانے والی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ 30 [اسکواڈ کاریں] اور 30 [بائیسکل] اسکواڈ چوبیس گھنٹے گشت کرنے کے لیے تعینات کر دیئے گئے ہیں۔"

رمضان کے دوران کُل 3،372 پولیس اہلکار فرائض انجام دیں گے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کجہا کہ کوئی 1،566 پولیس افسران کو پشاور کے حساس علاقوں میں 783 مساجد کی حفاظت برقرار رکھنے کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، "پُرہجوم مقامات پر [سادہ وردیوں] میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ خریداری مراکز، جہاں زیادہ تر خواتین خریداری کرنے کے لیے آتی ہیں، خواتین پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں حفاظت

صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں بھی پولیس نے رمضان کے دوران حفاظتی اقدامات کی تجدید کی ہے۔

سندھ پولیس کے آئی جی پی اے ڈی خواجہ نے کہا کہ 55،700 پولیس افسران تعینات کیے جائیں گے۔

انہوں نے 14 مئی کو پولیس افسران کے ایک اجلاس کو بتایا، "ان میں سے، 26،780 اہلکار پورے کراچی میں لگ بھگ 4،215 مساجد اور تراویح اور محفلِ شبینہ کے مقامات پر حفاظت کے فرائض انجام دیں گے۔"

چوکس فورسز کے پہلے ہی کامیابیاں حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ، کوئٹہ میں اور صوبہ بلوچستان کے دیگر حصوں میں حفاظت میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

رمضان کے پہلے روز، پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ کے گردونواح میں دہشت گردوں کے ساتھ شدید مقابلوں میں کم از کم تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، بشمولسلمان بادینی، جو کہ بلوچستان میں لشکرِ جھنگوی کا سربراہ تھا۔

اسی روز، سیکیورٹی فورسز نے کوئٹہ میںنیم فوجی فرنٹیئر کور پر بڑے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا، جس میں کم از کم پانچ ممکنہ خودکش بمبار ہلاک ہوئے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج