|

رمضان

پاکستان رمضان کے دوران خیراتی اداروں کا بھیس بھرنے والے عسکری گروہوں کے بارے میں چوکس

عسکریت پسند ایمان داروں کو دھوکے یا زورِ بازو پر زکوة اور فطرانہ جعلی خیراتی اداروں کو دینے پرمجبور کرتے ہیں -- حکام نے متنبہ کیا ہے کہ یہ رقم ضرورت مندوں کی مدد کی بجائے ہتھیار اور بم خریدنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اشفاق یوسف زئی


ایک پاکستانی تنظیم اگست 2015 میں چوک یادگار، پشاور میں زلزلے کے متاثرین کے لیے عطیات جمع کر رہی ہے۔ پاکستان کے سیکورٹی حکام ایسے عسکریت پسند گروہوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو عطیات کے لیے خیراتی اداروں کا بھیس دھار لیتے ہیں۔ ]فائل[

ایک پاکستانی تنظیم اگست 2015 میں چوک یادگار، پشاور میں زلزلے کے متاثرین کے لیے عطیات جمع کر رہی ہے۔ پاکستان کے سیکورٹی حکام ایسے عسکریت پسند گروہوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں جو عطیات کے لیے خیراتی اداروں کا بھیس دھار لیتے ہیں۔ ]فائل[

پشاور -- پاکستان کی وفاقی حکومت نے تمام صوبوں میں حکام کو چوکنا کیا ہے کہ وہ رمضان کے دوران زکوة اور فطرانہ اکٹھے کرنے والوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عطیات عسکری گروہوں تک نہ جائیں۔

داخلہ امور کے وزیر طلال چوہدری نے 8 مئی کو پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "حکومت کو علم ہے کہ پاکستانی رمضان کے مقدس مہینے میں زکوة اور فطرانہ کی شکل میں عطیات دیتے ہیں اور اگر اس پر نظر نہ رکھی جائے تو اسے عسکریت پسند گروہ ہتھیار، اسلحہ اور بمخریدنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "تمام صوبائی حکومتوں کو ہدایات ملی ہیں کہ وہ عسکریت پسند تنظیموں کی طرف سے رقوم جمع کرنے کو روکیں اور 2015 کے نیشنل ایکشن پلان (این اے پی) پر عمل کریں جو ایسے عطیات دینے اور لینے کی ممانعت کرتا ہے"۔

چوہدری نے کہا کہ عسکریت پسند اپنی مہمات کے لیے اغوا برائے تعاوان اور بھتے کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرتے تھے۔ مگر وفاق کے زیرِانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) اور ملک کے دوسرے علاقوں میں فوجی مہمات کے باعث ان کے لیے سرمایے کا وسیلہ ختم ہو گیا ہے۔

عسکری 'خیراتی اداروں' پر کریک ڈاون

کے پی کے وزیرِ اطلاعات شاہ فرمان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ خیبر پختونخواہ (کے پی) کے داخلہ اور قبائلی امور کے ڈپارٹمنٹ نے پولیس کو اس بارے میں ہدایات جاری کی ہیں کہعسکریت پسندوں کو دھوکہ دہی سے عطیات جمع کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم نے مذہبی علماء کی مدد بھی حاصل کی ہے تاکہ عسکریت پسندوں کی طرف سے دہشت گردی کے لیے عطیات جمع کرنے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ عسکریت پسندوں کی طرف سے عطیات جمع کرنے پر ملک بھر میں کریک ڈاون کیا جا رہا ہے"۔

اس سال کے آغاز میں، صوبہ سندھ کے انسدادِ دہشت گردی کے شعبہ (سی ٹی ڈی) نے ایک مسودہ قانون تیار کیا تھا جس کا مقصد کالعدم گروہوں کو عطیات جمع کرنے سے روکنا اور خیراتی رقوم کے دہشت گردی کے لیے غلط استعمال کو روکنا تھا"۔

سی ٹی ڈی کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل ثنا اللہ عباسی نے جنوری میں ڈان کو بتایا کہ خیراتی فنڈز (جمع کرنے کے قوانین) ایکٹ 2018 زیادہ تر کالعدم تنظیموں کے ساتھ منسلک خیراتی اداروں پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔

عباسی نے کہا کہ یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کچھ خیراتی ادارے عسکری تنظیموں کے فرنٹ کے طور پر کام کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی مذموم سرگرمیوں کے لیے سرمایہ فراہم کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ "کچھ واقعات میں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علم میں آیا ہے کہ ایسے خیراتی عطیات کو غیر قانونی تنظیمیں انتہاپسندی اور دہشت گردی کو پھیلانے کے لیے استعمال کرتی ہیں"۔

ڈان نے خبر دی ہے کہ 4 مئی کو چار مبینہ عسکریت پسند جن پر لشکرِ جھنگوی (ایل ای ٹی) اور تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے تعلقات کا الزام ہے، کو سندھ سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا۔ ملزمان نے مبینہ طور پر ایل ای جے اور ٹی ٹی پی کے لیے نوجوانوں کو بھرتی کرنے کے لیے سرمایہ جمع کرنے کا اعتراف کیا۔

شہریوں کی نیک نیتی کا استحصال

پشاور سے تعلق رکھنے والے سیکورٹی کے تجزیہ کار خادم حسین نے کہا کہ "اسلام چاہتا ہے کہ امیر غریب کو خیرات دے"۔

حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں جیسے کہ لشکرِ طیبہ اورجماعت الدعوة نے عوام کی نیک نیتی کا استحصال کرنے کے لیے مذہبی تنظیموں کا روپ دھارا ہے اور خیراتی عطیات کو اکٹھا کر کے انہیں عام پاکستانیوں تک پہنچنے سے روکا ہے۔

حسین نے کہا کہ "ماضی میں، مذہبی جشن جس میں رمضان اور عید بھی شامل ہیں، دہشت گردوں کے لیے ایک نعمت رہے ہیں جو ایمان داروں کے جذبات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے لیے ضروری سرمایہ کو اکٹھا کرتے تھے"۔

فاٹا کے سابقہ سیکریٹری برگیڈیر (ریٹائرڈ) محمود شاہ، جن کا تعلق پشاور سے ہے، نے کہا کہ پاکستانیوں کو مذہبی اسکولوں، مسجدوں اور ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دوسرے کالعدم گروہوں سے تعلق رکھنے والے خیراتی اداروں کو عطیات دینے کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "فرقہ ورانہ اور دہشت گرد تنظیمیں جن میں ایل ای جے، سپاہ محمد پاکستان، جیشِ محمد اور سپاہ صحابہ پاکستان شامل ہیں، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر عطیات دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ حکومت کو ان کے لیے سرمایے کے تمام راستوں کو بند کر دینا چاہیے"۔

انہوں نے کہا کہ کالعدم بنیاد پرست تنظیمیں مذہب کے نام پر ایمانداروں کو دھوکا دیتی ہیں۔ وہ سوشل میڈیا، ٹیکسٹ میسجز، فون کالز اور مذہبی اجتماعات اور کانفرنسوں کو پیسے اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

شاہ نے کہا کہ "این اے پی کا یہ ایک بہت اہم حصہ ہے کہ عسکریت پسندوں کے لیے سرمایے کی فراہمی کو روکا جائے اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے آمدنی کے ذرائع کو بند کیا جائے۔ دہشت گردوں کو سرمایے کی فراہمی کو روکنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ عسکریت پسندوں کو مالی امداد سے محروم کیا جا سکے اور فوجی مہمات کے باعث ان کے غائب ہو جانے کے بعد انہیں دوبارہ سامنے آنے سے روکا جا سکے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 28

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

3 تبصرے 💬

💬

Rahmat faqir | 05-31-2018

غیرملکی مداخلت کے خاتمہ سے ہی دہشتگردی کی بیخ کنی کی جا سکتی ہے۔


💬

توقیر عمر | 05-17-2018

اصل میں آ پ کو ابھی تک مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں اسی لیے آپ نے جماعت الدعوہ کا نام دہشتگرد گروہ کے طور پر لکھا ہے اپنی معلومات کو درست کیجئے


💬

Asim | 05-15-2018

لعنت ہے آپکے اس جھوٹ پر۔۔جس میں آپ نے اپنی ملک دشمن اور فرقہ وارانہ خباثت کو ظاہر کرتے ہوئے جماعت الدعوۃ جیسی محب وطن جماعت کو ٹی ٹی پی کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔۔۔


انتخاب

کیا آپ نئی حکومت کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ امن کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں؟

نتائج