|

رمضان

پاکستان نے رمضان کے دوران سیکورٹی سخت کر دی

پولیس پرامن ماہِ مقدس کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کر رہی ہے۔

جاوید خان


کیپیٹل سٹی پولیس کے افسر محمد طاہر (درمیان میں)، رمضان سے پہلے سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لیے دوسرے پولیس اہلکاروں کے ساتھ، 23 مئی کو متنی کا دورہ کر رہے ہیں۔ [بہ شکریہ کے پی پولیس]

کیپیٹل سٹی پولیس کے افسر محمد طاہر (درمیان میں)، رمضان سے پہلے سیکورٹی کا جائزہ لینے کے لیے دوسرے پولیس اہلکاروں کے ساتھ، 23 مئی کو متنی کا دورہ کر رہے ہیں۔ [بہ شکریہ کے پی پولیس]

پشاور - پاکستان نے رمضان کے مبارک مہینے کے آغاز سے پہلے سیکورٹی کو سخت کر دیا ہے جس کا آغاز جمعہ کی رات (26 مئی) سے متوقع ہے۔

خیبرپختونخواہ (کے پی) کی پولیس نے پیر (22 مئی) کو پشاور میں مرکزی پولیس اسٹیشن میں ایک میٹنگ منعقد کی تاکہ مجموعی طور پر سیکورٹی کی صورتِ حال اور خاص طور پر رمضان کے آغاز سے پہلے کیے جانے والے خصوصی اقدامات کا جائزہ لیں سکیں۔

کے پی کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) صلاح الدین خان محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "تمام ضلعی پولیس افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سیکورٹی میں اضافہ کریں، گشت کو بڑھائیں اور حساس علاقوں کا جائزہ لیں"۔

محسود نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ انٹیلیجنس نیٹ ورکس کو بہتر بنائیں اور دہشت گردوں اور مجرموں کے گروہوں کو پکڑیں۔

انہوں نے کہا کہ "پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عوام کے ساتھ رابطے کو بہتر بنائیں اور فورس کے بارے میں ان کی شکایات کو حل کریں"۔

بڑے پیمانے پر سیکورٹی کریک ڈاون

پشاور کے کیپیٹل سٹی پولیس افسر محمد طاہر نے کہا کہ مجرموں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کو رمضان سے پہلے تیز کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو روکا جا سکے۔

طاہر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں نے 23 مئی (منگل) کو متنی، اورمر، بڈھ بیر کی دور دراز چوکیوں اور سرحد کے ساتھ واقع قبائلی علاقوں کا دورہ کیا تاکہ ان علاقوں میں سیکورٹی کا جائزہ لیا جا سکے"۔

انہوں نے کہا کہ "پولیس نے بیس مئی کو ایک اطلاع پر عمل کرتے ہوئے، اورمر کے ایک گھر سے دھماکہ خیز مواد کی بڑی مقدار کو دریافت کیا جسے پشاور یا دوسرے شہروں میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ دریافت کیے جانے والے دھماکہ خیز مواد میں 400 کلوگرام دھماکہ خیز مواد کے ساتھ ڈیٹونیٹر، دستی بموں، راکٹ شیل، وائرلیس فون اور ڈیٹونیٹر تاروں کی بڑی تعداد شامل تھی۔

طاہر نے کہا کہ "انہوں نے ایک ہم آہنگ دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کی تھی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا اور اس سے تفتیش کے دوران مبینہ گروہ کے دوسرے ارکان کے بارے میں آگاہی ہوئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام سرکل سپریٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پیز)، ڈپٹی ایس پیز اور اسٹیشن ہاوس افسران کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ افطار اور نماز کے وقت سے پہلے گشت میں اضافہ کر دیں۔

انہوں نے کہا کہ رمضان کے دوران حفاظت کی جانے والی جگہوں میں "عبادت گاہیں، بازار، مارکیٹس اور عوامی جگہیں شامل ہیں"۔

ملک بھر میں رمضان کے لیے سیکورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

لاہور کے ڈپٹی آئی جی پی حیدر اشرف نے 16 مئی کو مذہبی عالموں کی ایک میٹنگ کے دوران کہا کہ "لاہور میں رمضان کے دوران مسجدوں اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے تقریبا 12,000 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے"۔

کوئٹہ، کراچی، اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں بھی پولیس نے رمضان کے دوران سیکورٹی کے بارے میں بات چیت کی۔ بڑے شہروں میں، افطار اور دوسرے اوقات میں بھیڑ کو کم سے کم کرنے کے لیے ٹریفک پلان تیار کیے گئے ہیں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
kamran Qadir | 07-04-2017

پاک فوج میں بطور کلرک شامل ہوں۔

جواب

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج