2017-06-23 | سلامتی

خیبرپختونخوا نے عید الفطر کے لیے حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے

از جاوید خان

حکام کا کہنا ہے کہ پشاور کے شہری مراکز اور داخلی مقامات پر اضافی پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔


کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود (ہاتھ اوپر کیے)، دیگر پولیس افسران کے ہمراہ، 21 جون کو پشاور میں قصہ خوانی بازار میں حفاظتی اقدامات کی صورتحال کا معائنہ کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]
کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود (ہاتھ اوپر کیے)، دیگر پولیس افسران کے ہمراہ، 21 جون کو پشاور میں قصہ خوانی بازار میں حفاظتی اقدامات کی صورتحال کا معائنہ کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]
کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین محسود (ہاتھ اوپر کیے)، دیگر پولیس افسران کے ہمراہ، 21 جون کو پشاور میں قصہ خوانی بازار میں حفاظتی اقدامات کی صورتحال کا معائنہ کرتے ہوئے۔ [شہباز بٹ]

حکام کا کہنا ہے کہ پشاور کے شہری مراکز اور داخلی مقامات پر اضافی پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) پولیس نے پشاور اور پورے صوبے میں شہریوں کے لیے ایک پُرامن اور پرمُسرت تہوار کو یقینی بنانے کے لیے عید الفطر سے قبل حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے ہیں۔

کیپیٹل سٹی پولیس افسر پشاور محمد طاہر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "عید الفطر کے موقع پر تمام افسران کو ہدایات دی گئی ہیں کہ شہر کے داخلی مقامات پر نیز مرکزی اور پُرہجوم تجارتی مراکز پر حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے جائیں۔"

انہوں نے کہا کہ افسران کو عید کی نماز کے مقامات کے اندر اور اردگرد کی حفاظت کو یقینی بنانے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

دہشت گرد حملوں میں 70 فیصد کمی

رمضان کے آخری ایام میں، سخت حفاظتی انتظامات نے دہشت گردی کی کئی کارروائیوں سے بچایا ہے۔

ایک ایسے ہی واقعہ میں، 20 جون کو پولیس نے لطیف آباد میں ایک سڑک کے کنارے نصب کیے گئے 5 کلوگرام کا دیسی ساختہ بم کا سراغ لگایا اور اسے ناکارہ بنایا تھا۔

کے پی بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) کے رکن زاہد خان نے کہا کہ مجرم یا مجرمان نے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنے کے لیے دیسی ساختہ بم کو بال بیئرنگ سے بھرا ہوا تھا۔

21 جون کو، کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) صلاح الدین محسود نے عید کے لیے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے قصہ خوانی بازار اور پشاور دیگر پُرہجوم تجارتی مراکز کا دورہ کیا۔

محسود نے صحافیوں کو بتایا، "صوبے میں صورتحال ماضی کی نسبت بہت زیادہ بہتر ہے جس میں دہشت گرد حملوں میں 75 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔" انہوں نے کہا کہ پورے کے پی میں تمام علاقائی پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کو اس مبارک تہوار کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

امن کو برقرار رکھنے اور دہشت گرد گروہوں کا تعاقب کرنے کے لیے پولیس تمام خفیہ اور دفاعی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "امن کو برقرار رکھنے کے لیے پولیس تمام طرح کے حفاظتی اقدامات کرے گی اور وہ عوام سے توقع رکھتی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک فرد کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے محکمے کی مدد کریں۔

داخلی مقامات، شہری مراکز کو محفوظ بنانا

دہشت گردوں کے حملوں کو روکنے کے لیے پورے پاکستان میں سیکیورٹی فورسز رمضان کے دوران انتہائی چوکس رہیں۔ اب، جبکہ بازار عید کے لیے خریداری کرنے والے گاہکوں سے بھرے پڑے ہیں، اضافی دستے شہری علاقوں اور تجارتی مراکز کی حفاظت کر رہے ہیں۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) آپریشنز پشاور سجاد خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "شہری علاقوں کے علاوہ، خیبر اور مہمند ایجنسیوں نیز فرنٹیئر خطہ کوہاٹ کے قریبی علاقوں میں حفاظتی انتظامات میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔"

خان نے کہا کہ عید الفطر کے دوران حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے تقریباً 3،000 پولیس افسران پشاور میں فرائض انجام دیں گے اور اس مقدس تہوار کے دوران پولیس نے تمام افسران کے لیے چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

پولیس کے مطابق، ماضی میں، دہشت گرد تہواروں کے مواقع پر پشاور پر حملہ کرنے کے لیے قبائلی علاقوں سے آتے تھے۔ اس سال اس قسم کے فساد کو روکنے کے لیے، پولیس اور دیگر دفاعی ادارے کے پی دارالحکومت کے داخلی مقامات پر چوکیاں مضبوط کر رہے ہیں۔

ایس ایس پی سجاد خان، جنہوں نے 20 جون کو قبائلی پٹی کے قریب، متانی چوکی ارباب تاپو پر پولیس کے جوانوں کے ساتھ افطاری میں شرکت کی تھی، نے کہا، "کے پی پولیس کے اعلیٰ حکام چوکسی کی سطح کی پڑتال کرنے اور وہاں تعینات افسران کا مورال بڑھانے کے لیے قبائلی علاقوں کے قریب ان دور دراز چوکیوں کے باقاعدگی کے ساتھ دورے کرتے رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ اضافی حفاظتی اقدامات میں کسی بھی مشکوک خاتون کی نگرانی کے لیے تجارتی مراکز میں خواتین کمانڈوز کی تعیناتی شامل ہے، اور پانچ پولیس افسران عید الفطر کی نماز کے دوران بڑی مساجد میں تعینات ہوں گے۔

ہر جگہ سخت حفاظتی اقدامات

پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی حفاظتی اقدامات سخت کر دیئے گئے ہیں۔

مردان کی ضلعی پولیس افسر میاں سعید احمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "مردان میں، مصروف تجارتی مراکز اور پارکوں اور عید کے لیے عبادت گاہوں میں مزید پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ پولیس نے چاند رات کی خوشی مین ہونے والی ہوائی فائرنگ کی رسم جس میں ہر سال کئی جانیں چلی جاتی ہیں، کی حوصلہ شکنی کے لیے عید سے قبل ایک خصوصی مہم چلائی تھی۔

تنبیہ کرتے ہوئے کہ پولیس کسی بھی ایسے فرد کو گرفتار کر لے گی جو اس رسم میں ملوث ہو گا اور وہ عید جیل میں منائیں گے، احمد نے کہا، "ہم نے پمفلٹ چھپوائے ہیں، مساجد اور عوامی مقامات پر لوگوں کے اجتماعات سے خطاب کیے ہیں، اور ریلیاں نکالی ہیں [تاکہ لوگ جان لیں کہ] پولیس چاند رات کو کسی بھی قسم کی ہوائی فائرنگ کو قطعاً برداشت نہیں کرے گی۔"

سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس اے ڈی خواجہ نے بھی پولیس کو ہدایات دی ہیں کہ عید کے لیے جامع حفاظتی منصوبہ بنایا جائے۔

20 جون کو اے پی پی نے خبر دی، "آئی جی پی نے ہدایات دی ہیں کہ کھلے مقامات، مساجد اور امام بارگاہوں پر نمازِ عید کے اجتماعات نیز عوامی مقامات بشمول خریداری مراکز، عید بچت بازاروں، ریلوے اسٹیشنوں، بس اڈوں وغیرہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بے عیب انتظامات کیے جائیں۔"

بلوچستان کے ڈپٹی آئی جی پی عبدالرزاق چیمہ نے صحافیوں کو بتایا کہ پانچ ہزار پولیس افسران عید کے دوران کوئٹہ کی حفاظت کریں گے۔ علاوہ ازیں، عید کی نماز کے دوران مرکزی عبادت گاہوں پر اہلکار حفاظتی گیٹ نصب کریں گے۔

پنجاب حکومت نے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات دی ہیں کہ اس مقدس تہوار کے دوران لاہور، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں امن برقرار رکھنے کے لیے تمام اقدامات کریں۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 2

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج