2017-12-20 | سلامتی

کے پی پولیس کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی تربیت جاری

از جاوید خان

خیبرپختونخوا کے خصوصی مہارتوں کے حامل آٹھ پولیس اسکولوں سے 17،000 سے زائد پولیس افسران نے تربیت حاصل کی ہے۔


29 نومبر کو، کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود کے، مردان میں اسکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ راٹ مینجمنٹ کے دورے کے دوران پولیس کے تربیت حاصل کر رہے جوان مشتعل ہجوم کو سنبھالنے کی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔
29 نومبر کو، کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود کے، مردان میں اسکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ راٹ مینجمنٹ کے دورے کے دوران پولیس کے تربیت حاصل کر رہے جوان مشتعل ہجوم کو سنبھالنے کی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔
29 نومبر کو، کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود کے، مردان میں اسکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ راٹ مینجمنٹ کے دورے کے دوران پولیس کے تربیت حاصل کر رہے جوان مشتعل ہجوم کو سنبھالنے کی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے۔

خیبرپختونخوا کے خصوصی مہارتوں کے حامل آٹھ پولیس اسکولوں سے 17،000 سے زائد پولیس افسران نے تربیت حاصل کی ہے۔

پشاور -- خیبرپختونخوا (کے پی) آٹھ خصوصی مہارتوں کے حامل اسکولوں سے صوبے کے محکمۂ پولیس کی صلاحیتوں کو بہتر بنا رہا ہے۔

ابھی تک، 17،000 سے زائد پولیس افسران نے اسکولوں سے تربیت حاصل کی ہے، جو کہ گزشتہ چار برسوں میں قائم کیے گئے تھے۔

تازہ ترین کھلنے والا اسکول کوہاٹ میں ٹریفک کے انتظام کا پولیس اسکول تھا، جس کا افتتاح کے پی انسپکٹر جنرل آف پولیس صلاح الدین خان محسود نے 22 نومبر کو کیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "اسکول برائے ٹریفک کا انتظام کو جدید ترین سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جہاں قومی شاہرات اور موٹروے پولیس اور افواجِ پاکستان سے تعلق رکھنے والے تربیت کار تربیتی نشستیں منعقد کریں گے۔"

تدریس علم کو خصوصی مہارتوں کا حامل بناتی ہے

صوبے بھر میں قائم کردہ خصوصی مہارتوں کے حامل دیگر سات اسکولوں میں بھی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔

پولیس اسکول برائے تحقیقات حیات آباد پشاور میں جون 2014 میں کھلنے والا پہلا اسکول تھا، جس کے بعد ایبٹ آباد میں اسکول برائے انٹیلیجنس تھا، جو کہ اسی سال اکتوبر میں کھلا تھا۔ ایلیٹ پولیس تربیتی مرکز نوشہرہ بھی 2014 میں کھلا تھا۔

اس کے بعد جنوری 2015 میں مردان میں اسکول آف پبلک ڈس آرڈر اینڈ راٹ مینجمنٹ کھلا، جس کے بعد فروری 2015 میں نوشہرہ میں اسکول برائے انتظامِ بارودی مواد کھلا تھا اور اگست 2015 میں پشاور میں اسکول برائے تزویرات کھلا تھا۔ اسکول برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی بمقام ملک سعد شہید پولیس لائنز پشاور کا افتتاح ستمبر 2015 میں ہوا تھا۔

محسود نے کہا، "پیشہ ورانہ تربیت کاروں کے علاوہ، سینیئر پروفیسر، ڈاکٹر، وکلاء اور دیگر ماہرین ان خصوصی مہارتوں کے حامل اسکولوں میں پولیس کے جوانوں کی استعداد میں اضافے کے لیے لیکچر دیتے ہیں۔"

کے پی پولیس افسران کے مختلف مہارتوں کے علم کو بہتر بنانے کے لیے یہ اسکول دو اور چار ہفتے کے کورسز کی پیشکش کرتے ہیں۔

کورسز میں بم دھماکے کے بعد کا انتظام، دہشت گرد حملوں کے بعد ثبوت جمع کرنا، بہتر تحقیقات، سیلولر فارنسک، کیس فائل مینجمنٹ، بنیادی اور تکنیکی انٹیلیجنس، کمپیوٹر کا علم اور ہجوم کو سنبھالنا اور منتشر کرنا شامل ہیں۔

نمایاں بہتریاں

پشاور پولیس کے سب انسپکٹر امیر محمد نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حیات آباد میں اسکول برائے تحقیقات نے "مقدمات، خصوصاً حساس نوعیت کے مقدمات کی بہتر تحقیقات کرنے" میں ان کی مدد کی ہے۔

کے پی پولیس کے ترجمان زاہد اللہ خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "بہتر تحقیقات/سراغ رسانی، معلومات جمع کرنے کی مہارتوں اور بم ناکارہ بنانے والوں اور کینائن یونٹ کی مدد کی وجہ سے ۔۔۔ بم دھماکوں اور آئی ای ڈی حملوں میں اپاہج اور جاں بحق ہونے والے عام افراد اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی تعداد میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔"

ترقی کے خواہشمند کسی بھی پولیس افسر کے لیے کورسز لازمی ہیں، کا اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کے پی پولیس جرم سے لڑنے والے ایک روایتی محکمے کی بجائے ایک جدید، خصوصی مہارتوں کی حامل، لوگوں کے لیے دوستانہ تنظیم بننے کی کوشش کر رہی ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج