2017-10-24 | جرم و انصاف

کے پی کمپیوٹرائزڈ لائسنسوں سے غیر قانونی ہتھیاروں کا کھوج لگا رہا ہے

محمد شکیل

حکام کا کہنا ہے کہ قانونی ہتھیاروں کا مالکان کے ڈیٹا بیس بنانے سے، جرائم اور دہشت گردی میں ہتھیاروں کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے گی۔


ہتھیاروں کا ایک پاکستانی دکان دار، 6 جون 2016 کو پشاور سے 35 کلومیٹر جنوب میں، ڈیرہ آدم خیل، فاٹا میں گاہکوں کا انتظار کر رہا ہے۔ کے پی میں حکام نے حال ہی میں اپر دیر ڈسٹرکٹ میں ہتھیاروں کا کمپیوٹرائزڈ لائسنس سینٹر کھولا ہے۔ ]اے مجید/ اے ایف پی[
ہتھیاروں کا ایک پاکستانی دکان دار، 6 جون 2016 کو پشاور سے 35 کلومیٹر جنوب میں، ڈیرہ آدم خیل، فاٹا میں گاہکوں کا انتظار کر رہا ہے۔ کے پی میں حکام نے حال ہی میں اپر دیر ڈسٹرکٹ میں ہتھیاروں کا کمپیوٹرائزڈ لائسنس سینٹر کھولا ہے۔ ]اے مجید/ اے ایف پی[
ہتھیاروں کا ایک پاکستانی دکان دار، 6 جون 2016 کو پشاور سے 35 کلومیٹر جنوب میں، ڈیرہ آدم خیل، فاٹا میں گاہکوں کا انتظار کر رہا ہے۔ کے پی میں حکام نے حال ہی میں اپر دیر ڈسٹرکٹ میں ہتھیاروں کا کمپیوٹرائزڈ لائسنس سینٹر کھولا ہے۔ ]اے مجید/ اے ایف پی[

حکام کا کہنا ہے کہ قانونی ہتھیاروں کا مالکان کے ڈیٹا بیس بنانے سے، جرائم اور دہشت گردی میں ہتھیاروں کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا سکے گی۔

اپر دیر -- خیبر پختونخواہ (کے پی) میں حکام ہتھیاروں کے کمپیوٹرائزڈ لائسنس سینٹرز اور آتشیں ہتھیاروں کا مالکان کا ڈیٹا بیس بنا رہے ہیں جو کہ غیر قانونی اجازت ناموں کا کھوج لگانے اور ہتھیاروں کے غلط استعمال کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

مقامی حکومت، انتخابات اور دیہی ترقی کے لیے کے پی کے وزیر عنایت اللہ خان نے ایک ایسے ہی مرکز کا افتتاح 6 اکتوبر کو کیا جو کہ اپر دیر میں قائم کیا گیا ہے۔

ایسی سہولیات ہتھیار رکھنے والوں کو درست طریقے سے جاری کیے جانے والے لائسنسوں کو حاصل کرنے اور اپنی معلومات کو قومی ڈیٹا بیس میں رجسٹر کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

اپر دیر کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود نے افتتاحی تقریب میں کہا کہ یہ سینٹرز حکام کو جعلی اجازت ناموں کا پتہ لگانے میں مدد کرتے ہیں جس سے قانونی طور پر ہتھیار رکھنے والوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سینٹر نے تقریبا 8,000 پہلے سے موجود لائسنسوں کا اندراج کیا ہے جس سے ان کی قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادار) کی طرف سے ان کی تصدیق ممکن ہو گئی ہے۔

نادرا ہر اجازت نامے کی تصدیق کے لیے ایس ایم ایس ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر ایک پولیس افسر جسے کوئی آتشیں ہتھیار ملتا ہے نادرا کو مبینہ لائسنس نمبر کے ساتھ ایک ایس ایم ایس بھیج سکتا ہے اور نادرا پھر اس افسر کو واپس ایس ایم ایس بھیجتی ہے اس بات کی تصدیق کے ساتھ کہ یہ نمبر درست اور ہتھیار قانونی ہے۔

پولیس اور سیکورٹی کے حکام نے اس سے پہلے اسی نظام کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈوں (سی این آئی سیز) کی درستگی کی تصدیق کے لیے استعمال کیا تھا۔

غیر قانونی ہتھیار جرائم، دہشت گردی میں مددگار

کے پی صوبائی اسمبلی میں اپر دیر کی نمائندگی کرنے والے ایک رکن محمد علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ہتھیاروں کے غلط استعمال کے نتائج نے "ہتھیاروں اور ان کے مالکان کے ایک مستقل ڈیٹا بیس کو قائم رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ یہ قدم اسلحے کا لائسنس حاصل کرنے کا ایک آسان طریقہ فراہم کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی غیر قانونی ہتھیاروں کی رجسٹریشن کے باعث عام لوگوں میں تحفظ کا ایک احساس پیدا کرتا ہے۔

علی نے کہا کہ اگرچہ بذاتِ خود ہتھیار رکھنا اختلاف یا تشدد کی وجہ نہیں ہے مگر "غیر اندراج شدہ ہتھیاروں کو رکھنے اور ان کی آسانی سے دستیابی سے معاشرے میں جرائم کی شرح اور انتہاپسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ غیر اندراج شدہ آتشیں ہتھیار رکھنے کا سب سے خطرناک اثر یہ ہوتا ہے کہ بری نیت رکھنے والے افراد جن میں دہشت گرد بھی شامل ہیں، ان کا غلط استعمال کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "ہتھیاروں کی رجسٹریشن، ہتھیاروں کی غیر قانونی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے کیے جانے والے سخت اقدامات کے ساتھ مل کر یقینی طور پر، ہمارے معاشرے میں عسکریت پسندی کو کنٹرول کریں گے اور جرائم کی تعداد میں کمی آئے گی"۔

آسان تصدیق

کے پی ایلیٹ فورس کے وقار علی نے کہا کہ رجسٹریشن اور لائسنس جاری کرنے کی پالیسی کے مناسب نفاذ سے، سرکولیشن میں موجود ہتھیاروں کی تعداد میں کمی آئے گی جس سے حتمی طور پر ان کے غلط استعمال کے امکانات کم ہو جائیں گے۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ غیر قانونی طور پر جاری ہونے والے لائسنس اکثر ایک سے زیادہ ہتھیار رکھنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جس سے آتشیں ہتھیاروں کی اسمگلنگ آسان ہو جاتی ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "کمپیوٹرائزڈ لائسنس رکھنے والوں کی معلومات خودبخود جانچ پڑتال کا نشانہ بن جائیں گی جس سے غیر قانونی طور پر جاری ہونے والے آتشیں ہتھیاروں کے لائسنسوں کی شناخت کرنے کا عمل بہت آسان ہو جائے گا"۔

پشاور میں ہتھیاروں کی ایک دکان کے مالک طارق سنگین نے کہا کہ وہ نئے کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن نظام کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس سے غیر قانونی ہتھیاروں کے غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ حکام کے لیے ہتھیاروں کا کھوج لگانا آسان ہو جائے گا "جب لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی کی طرف سے ہر ایک ہتھیار کا اس کے بنانے والے سے لے کر آخری استعمال کنندہ تک، فروخت ، ملکیت اور منتقلی کا جامع ریکارڈ تیار ہو جائے گا"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

پاکستان میں چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثرورسوخ کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟

نتائج