https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2018/03/26/feature-01
| سلامتی

پاکستان سپر لیگ فائنل کا ’امن کی فتح‘ کے طور پر خیرمقدم

عبدالناصر خان

image

25 مارچ کو پشاور زلمی اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے مابین پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لیے کرکٹ شائقین نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی کے باہر نعرے لگا رہے ہیں۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

کراچی – اتوار (25 مارچ) کو تیسرے سالانہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل- 3) کے فائنل کے ساتھ پاکستانی حکام اور کرکٹ شائقین نو برس کے انقطاع کے بعد بین الاقوامی کرکٹ کی کراچی واپسی کا جشن منا رہے ہیں۔

یہ میچ سخت سیکیورٹی میں کھچا کھچ بھرے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ نے دوسری مرتبہ ٹرافی حاصل کرتے ہوئے تین وکٹوں سے دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کو شکست دی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ نے 2016 میں پی ایس ایل-1 جیتا، جبکہ پشاور زلمی 2017 میں پی ایس ایل-2 میں فتح یاب ہوئی ۔

image

25 مارچ کو اسلام آباد یونائیٹڈ کے کھلاڑی اور عملہ کے ارکان کراچی میں تیسرے پاکستان سپر لیگ فائنل میں فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ [پاکستان سپر لیگ]

image

25 مارچ کو نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کے باہر پاکستانی رینجرز گشت کر رہے ہیں۔ [رضوان تبسم/اے ایف پی]

image

20 مارچ کو لاہور میں قذافی سٹیڈیم کے باہر تماشائی سیکیورٹی چیکس سے گزر رہے ہیں۔ [عبدالناصر خان]

8,000 سے زائد سیکیورٹی اہلکاروں نے اس موقع پر تحفظ فراہم کیا۔

سیکیورٹی کی واپسی کی علامت

لاہور میں 2 میچوں اور کراچی میں فائنل سے قبل پی ایس ایل-3 کے پہلے 31 میچ متحدہ عرب امارات میں کھیلے گئے، جوکہ پاکستان میں سلامتی کی بہتر صورتِ حال کا ایک ثبوت ہے۔

صدر ممنون حسین نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان میں پی ایس ایل میچز کا انعقاد یہ پیغام دیتا ہے کہ قوم نے دہشتگردی کو شکست دے دی ہے ۔

انٹرسروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا، "آج پاکستان فتح یاب ہوا!"۔

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا، "ہم دیرپا امن و استحکام کی لازم منزل کی راہ پر ہیں۔"

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین نجم سیٹھی نے اعلان کیا کہ پی ایس ایل-4 کے نصف میچ پاکستان میں منعقد ہوں گے۔

انہوں نے ٹویٹ کیا، "ہم لاہور اور کراچی کے علاوہ دیگر شہروں میں بھی پی ایس ایل-4 کے میچ منعقد کریں گے۔"

گرم جوش شائقین

کرکٹ کے مقامی شائق زیشان نذیر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "کراچی کے باسیوں کو [محرومی کے] ایک طویل عرصہ کے بعد ایک شاندار تفریح میسّر آئی۔"

انہوں نے کہا، "اگرچہ [سخت سیکیورٹی اقدامات کی وجہ سے] آنے جانے میں چند دشواریاں تھیں، تاہم ہم خوش تھے۔"

کراچی سے تعلق رکھنے والے کھیلوں کے صحافی محمود ریاض نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں نے شاندار گرمجوشی دیکھی، [پاکستانی] خوف کا مقابلہ کرنے اور عسکریت پسندی کو شکست دینے کے لیے اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ آئے۔"

وزیرِ داخلہ احسن اقبال نے اس موقع کو "امن کی فتح" قرار دیتے ہوئے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں پاکستان کی سرزمین پر پی ایس ایل میچز کے انعقاد پر پوری قوم کو مبارکباد دیتا ہوں۔"

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ شہباز شریف نے کہا، "کرکٹ کے لیے ہماری عوام کا ولولہ اور جوش وخروش کامیاب ہو گیا۔"

لاہور سے تعلق رکھنے والے کھیلوں کے صحافی حافظ شہباز علی نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "لاہور میں پی ایس ایل کے دو مقابلے اور کراچی میں فائنل کرانا پی سی بی اور حکومت کے لیے ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ اب ہم پاکستان کی سرزمین پر ایک مکمل کرکٹ سیریز کی امّید کر سکتے ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha