دہشتگردی

ٹور ڈی مہمند سائیکل ریس فاٹا میں امن کو ترویج دے گی

دانش یوسف زئی

image

ٹور ڈی مہمند سائیکل ریس کے دوران 4 جون کو مہمند ایجنسی میں سائیکلسٹ اختتامی لکیر کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ [دانش یوسف زئی]

غلنئی، پاکستان – 4 جون کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی سائیکلسٹوں نے امن کے لئے ایک ضرب لگائی۔

70 سے زائد سائیکل سواروں نے افغان سرحد کے نزدیک درہ غرسال سے غلنئی تک ریس لگاتے ہوئے 66 کلومیٹر طویل ٹور ڈی مہمند میں حصہ لیا۔

پاکستان سائیکل فیڈریشن (پی سی ایف) اور مہمند ایجنسی کی مقامی انتظامیہ نے عسکریت پسندی سے متاثرہ علاقے میں امن اور صحتمندانہ سرگرمیوں کے فروغ کے لئے ریس کا اہتمام کیا۔

پہلی ٹور ڈی مہند ریس گزشتہ سال ہوئی تھی۔

منتظمیں اور قبائلی عمائدین کہتے ہیں کہ ایسی سرگرمیاں نوجوانوں کو دہشتگردوں کے پیغامات قبول کرنے سے محفوظ رکھتی ہیں اور امن کو فروغ دیتی ہیں۔

پی سی ایف کے جنرل سیکرٹری سید اظہر علی شاہ نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، مقابلے کے شرکاء "پاکستان بھر سے" آئے ہیں۔

شاہ نے بتایا، 10 ٹیموں پر مشتمل ریس میں حصہ لینے والے 72 شرکاء مختلف صوبوں، وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) بری فوج اور دیگر مقامات اور تنظیموں سے آئے ہیں۔

واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے سائیکل سوار محمد صابر 1 گھنٹہ 38 منٹ کے وقت کے ساتھ فاتح رہے.

صابر نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "تماشائیوں نے سائیکلسٹس کی حوصلہ افزائی کی جو اس علاقے میں امن کا ایک اشارہ ہے۔"

تفریح، صحت مند سرگرمیاں سب کے لئے

جنگ زدہ قبائلی پٹی میں قومی سطح پر کھیل کی تقریب کا نظارہ کرنے پر قبائلی عمائدین اور نوجوانوں نے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔

دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کی روک تھام کے لئے سیاسی انتظامیہ اور سیکورٹی فورسز نے ریس کے علاقے کو محفوظ کرنے کے لئے ایک جامع سیکورٹی پلان پر عمل کیا۔

اعتماد کے اظہار کے لئے قانون نافذ کرنے والے اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ان میں مہمان خصوصی، مہمند ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ سید محمود اسلم وزیر شامل تھے۔

پشاور سے ملٹی نیشنل ایشیئن جرنلسٹس فیڈریشن کے سیکرٹری جنرل امجد عزیز ملک نے سنٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، "مہمند ایجنسی میں جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بری طرح متاثر ہوئی تھی، امن سائیکل ریس کا انعقاد کرنا پی سی ایف، پاکستان آرمی اور سیاسی انتظامیہ کی بہت بڑی کامیابی ہے۔"

ملک نے بتایا، ایسی تقاریب نہ صرف فاٹا کے نوجوانوں کے لئے صحت مندانہ موقع فراہم کریں گی بلکہ دنیا کو بھی بتائیں گی فاٹا کھیلوں اور دیگر سرگرمیوں کے لئے محفوظ ہے۔

مہند ایجنسی کے 21 سالہ وجیہہ مہمند نے بتایا کہ اسے نہیں پتا تھا کہ سائیکل ریس بھی ہوتی ہے۔

"میرا ایک نیا عزم ہے،" ریس میں حصہ لینے والوں کو سراہنے کے بعد اس نے بتایا۔ "میرا ہیرو محمد صابر ہے۔"

خیبر پختونخواہ سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے صدر نثار احمد، نے سینٹرل ایشیا آن لائن کو بتایا، فاٹا کے نوجوانوں کی سائیکلنگ میں دلچسپی کا مظاہرہ دکھائی دینا مثبت ہے۔

"اس طرح کی سرگرمیاں نوجوانوں کو منفی سرگرمیوں سے دور رکھیں گی،" انہوں نے کہا. " دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے فاٹا بھر میں ہمیں اس طرح کی مزید تقاریب کی ضرورت ہے."

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500