https://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2016/10/21/feature-01
دہشتگردی |

پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا حمایتی ہے

از جاوید محمود

image

چیف آف جنرل اسٹاف آف یو کے جنرل سر نکولس پیٹرک کارٹر اور پاکستانی آرمی چیف جنرل راحیل شریف 19 اکتوبر 2016 کو راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز پر "یادگارِ شہداء" پر شہید فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے۔ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف میں ہزاروں سپاہیوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ یو کے کے سی جی ایس نے عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی کامیابی دیکھنے کے لیے شمالی وزیرستان کا دورہ بھی کیا۔ [بشکریہ آئی ایس پی آر]

اسلام آباد -- دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ (جی ڈبلیو او ٹی) کی حمایت کرنے کے لیے ایک منفرد مقام پر ہے، اور خطے میں امن اور تحفظ برقرار رکھتے ہوئے اور ملک کے اندر عسکریت پسندی کا خاتمہ کرتے ہوئے ایسا کر رہا ہے۔

ادارہ برائے تزویراتی مطالعات اسلام آباد (آئی ایس ایس آئی) کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے "علاقائی نیز عالمی سیاست میں ایک اہم کھلاڑی" بناتا ہے۔ "وسائل سے مالا مال مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیاء کے ساتھ اس کی جغرافیائی قربت اسے پوری دنیا میں تجارت اور عبور میں سہولت کاری کرنے کے لیے ایک اہم ملک بناتی ہے۔"

آئی ایس ایس آئی کی 29 ستمبر کی رپورٹ جس کا عنوان "پاکستان کے عالمگیر خاکے اور اثرورسوخ میں اضافہ کرنا: پالیسیاں اور پالیسی کے انتخاب" ہے کے مطابق، "پاکستان عالمی امن اور استحکام میں فعال حصہ بھی لے رہا ہے۔"

رپورٹ میں بتایا گیا، "سنہ 1960 کے بعد سے، پاکستان نے اقوامِ متحدہ (یو این) کے قیامِ امن کے 42 مشنوں میں 160،000 سے زائد فوجیوں کے ساتھ حصہ ڈالا ہے اور کئی برسوں سے فوجیوں کے ساتھ حصہ ڈالنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک رہا ہے۔ فی الوقت، 7،500 سے زائد فوجی اقوامِ متحدہ کے چھ عارضی اختیار مشنوں میں تعینات ہیں۔"

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں قیامِ امن کی کوششوں کی حمایت کرنے کی ایک طویل تاریخ کا حامل ہونے کے باوجود، پاکستان کو ہنوز بیرونِ ملک اپنے تشخص کو بہتر دکھانے میں دشواریوں کا سامنا ہے، جو اس کی بین الاقوامی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی صلاحیت، سیاحوں کو راغب کرنے اور پاکستانیوں کے لیے ملازمتیں تخلیق کرنے کی صلاحیت پر منفی اثر مرتب کر رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اپنے تشخص اور قومی مفادات کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان پر لازم ہے کہ ایک "مستحکم اور خوب یکجا حکمتِ عملی" تیار کرے جو جی ڈبلیو او ٹی کی حمایت کرنے میں اس کے کردار نیز اس کی دفاعی اور انسدادِ دہشت گردی کی کامیابیوں کو نمایاں کرتی ہو۔

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 'ہراول دستہ'

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج اور دیگر دفاعی ایجنسیاں جی ڈبلیو او ٹی کی حمایت کرنے اور ملک میں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔

دفاعی تجزیہ کار کرنل (ر) مختار احمد بٹ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پاکستان سنہ 2011 کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا شریکِ کار بنا اور دہشت گردی کی حوصلہ شکنی کے لیے طالبان حکومت کے خلاف اتحادی فوجوں کی مکمل حمایت کی۔"

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے خلاف بین الاقوامی جنگ کی حمایت کرنے کے لیے پاکستان نے اتحادی فوجوں کو ملکی فضاؤں میں سے گزرنے کے حقوق، بحری معاونت اور ہوائی اڈے فراہم کیے ہیں۔

انہوں نے کہا، مزید برآں، پاکستانی فوج نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقے عسکریت پسندوں سے واپس لینے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے اور وہاں قانون کی حکمرانی قائم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان اور اتحادی فوجوں کے ساتھ تعاون کرنے کی پوری کوشش کی ہے، عسکریت پسندی پھیلانے کے لیے دہشت گرد گروہوں کی جانب سے استعمال کیےجانے والے راستوں کو مسدود کیا ہے، اور عسکریت پسندوں کی بڑے دہشت گرد حملے کرنے کی صلاحیت کا خاتمہ کیا ہے۔

دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے، جس میں 140 سے زائد بچے اور دیگر افراد جاں بحق ہوئے تھے، کے نتیجے میں، پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مضبوط گڑھ پر ایک بھرپور حملے کا آغاز کیا تھا۔

بٹ نے کہا، "پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادر سپاہیوں اور 50،000 سے زائد شہریوں کی جانیں گئی ہیں، لیکن اب شمالی وزیرستان دہشت گردوں سے پاک ہو گیا ہے اور ہماری دفاعی قوتوں کے مکمل تسلط میں ہے اور اسے پوری دنیا میں سراہا گیا ہے۔"

انہوں نے کہا، "افواجِ پاکستان کی نئی حکمتِ عملی کا اطلاق ہو چکا ہے اور ہم نے اپنی خارجہ پالیسی میں تھوڑی سی تبدیلی کی ہے اور پاکستان سے دہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنے میں مزید علاقائی حصے داروں کو شامل کیا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "عسکریت پسندی پر قابو پانے میں پاکستان کے کردار کو پوری قوم اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے سراہا گیا ہے۔"

دہشت گردوں کے مضبوط ٹھکانوں کا خاتمہ

دفاعی تجزیہ کار اور اسلام آباد کے مقامی تھنک ٹینک پاکستانی ادارہ برائے مطالعاتِ تنازعات و دفاع (پی آئی سی ایس ایس) کے انتظامی ڈائریکٹر، عبداللہ خان نے کہا، "پاکستانی فوج، فضائیہ، بحریہ، رینجرز اور پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ٹھوس کوششیں کی ہیں جن کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کا گراف سنہ 2016 میں [اپنی کم ترین سطح پر] گر گیا ہے۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "عسکریت پسندی کے خلاف جامع قومی دفاعی نظام کی شمولیت عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے لیے ایک سنگین دھچکہ ثابت ہوئی ہے اور اس نے ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے۔"

انہوں نے کہا، "فوج اور دیگر دفاعی اداروں نے طالبان اور دیگر عسکری گروہوں کے ممنوعہ علاقوں اور مضبوط ٹھکانوں کا خاتمہ کر کے اپنا کام کر دیا ہے، اور اب حکومت پر لازم ہے کہ ایک مضبوط سیاسی سیٹ اپ تشکیل دیتے ہوئے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا)، خیبرپختونخوا (کے پی)، پنجاب اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں امن کو برقرار رکھنے کے لیے ایک عملی ڈھانچہ تیار کرے۔"

انہوں نے کہا کہ فاٹا میں اصلاحات کے عمل کو لازماً تیز کیا جانا چاہیئے اور اس عمل میں کسی بھی ابہام کو دور کیا جانا چاہیئے تاکہ وہاں عوام کی بحالی اور معاشی سرگرمیوں کے احیاء کا راستہ کھلے۔

جرم، ٹارگٹ کلنگ پر کریک ڈاؤن

کراچی کے ایک مقامی دفاعی تجزیہ کار اور ٹیلی وژن اینکر، علی ناصر نے کہا کہ برسوں سے کراچی کو دو قسم کی دہشت گردی کا سامنا تھا - عسکریت پسندوں کی جانب سے کچھ بڑے حملے اور منظم قاتلوں کی جانب سے قتل کی کارروائیاں۔

انہوں نے کہا، تاہم، ستمبر 2013 سے شروع کی گئی مخبری پر مبنی کارروائیوں نے عسکریت پسندی کا لگ بھگ مکمل خاتمہ کر دیا ہے اور شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے ماحول کو کم سے کم کر دیا ہے۔

ناصر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "کراچی میں امن و امان کی صورتحال، جو آپریشن شروع ہونے سے قبل عسکریت پسندوں اور قاتلوں کا کلیدی ہدف رہا ہے، اب کافی اچھی ہے اور لوگ دہشت گردی کے ڈر کے بغیر کسی بھی جگہ آ جا رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا کہ خونریزی کے ماحول کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے، حکومت کو نیشنل ایکشن پلان کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ نافذ کرنا چاہیئے اور اس ماحول کو ختم کرنا چاہیئے جو بااثر افراد کا تحفظ کرتا ہے اور اور لوگوں کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

انہوں نے کہا، "حکومت اور دفاعی اداروں کو چاہیئے مخبری، تعاون کو مزید بہتر بنائیں اور ملک میں سماجی پولیسنگ کی ثقافت کو فروغ دیں تاکہ طویل مدت کے لیے دیرپا امن قائم ہو۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
تبصرے 1
تبصرہ کی پالیسی

اچھا

جواب