http://pakistan.asia-news.com/ur/articles/cnmi_pf/features/2019/05/15/feature-01
| نوجوان

سوات میں ایک یتیم خانہ دہشت گردی کے متاثرین بچوں کو حیاتِ نو بخش رہا ہے

از عدیل سعید


طلباء و طالبات اور پرورش کے ڈائریکٹر نعیم اللہ 9 جنوری 2018 کو سوات میں منعقد ہونے والی تقریب میں ایک گروہی فوٹو کھنچواتے ہوئے۔ [پرورش]

طلباء و طالبات اور پرورش کے ڈائریکٹر نعیم اللہ 9 جنوری 2018 کو سوات میں منعقد ہونے والی تقریب میں ایک گروہی فوٹو کھنچواتے ہوئے۔ [پرورش]

پشاور -- ضلع سوات میں ایک یتیم خانہ گزشتہ ایک دہائی سے ان بچوں کو کامیابی کا ایک بہتر راستہ فراہم کر رہا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے والدین سے محروم ہو گئے ہیں۔

سنہ 2009 میں اپنے قیام کے بعد سے، "پرورش" یتیم خانہ یتامیٰ کو رہائش، خوراک، لباس اور تعلیم فراہم کر رہا ہے تاکہ معاشرے کے فعال شہری بننے میں ان کی مدد کی جائے۔

یتیم خانے سے مستفید ہونے والوں کی اکثریت جنگ کے ایسے متاثرین کی ہے جو طالبان کی جانب سے دہشت گرد حملوں میں اپنے والدین سے محروم ہو گئے ہیں یا عسکریت پسندوں کو علاقے سے نکالنے کے مقصد سے کی جانے والی فوجی کارروائیوں کی وجہ سے گھر بدر ہو گئے تھے۔


کمشنر مالاکنڈ ڈویژن ظہیر الاسلام (بائیں) 31 جنوری کو "پرورش" میں طلباء و طالبات میں امتیازی انعامات تقسیم کر رہے ہیں، جو کہ ایسا یتیم خانہ ہے جو زیادہ تر دہشت گردی سے متاثرہ بچوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ [پرورش]

کمشنر مالاکنڈ ڈویژن ظہیر الاسلام (بائیں) 31 جنوری کو "پرورش" میں طلباء و طالبات میں امتیازی انعامات تقسیم کر رہے ہیں، جو کہ ایسا یتیم خانہ ہے جو زیادہ تر دہشت گردی سے متاثرہ بچوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے۔ [پرورش]

یتیم خانے کے ڈائریکٹر اور بانی، نعیم اللہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "پرورش غریب یتامیٰ کوانتہائی غربت کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر اور عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں جانےسے بچانے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا۔"

نعیم اللہ نے، افواجِ پاکستان کی جانب سے ضلع سوات میں سے دہشت گردوں کو آپریشن راہِ راست، جس کا اختتام علاقے پر حکومتِ پاکستان کے فیصلہ کن کنٹرول پر ہوا تھا، کے ذریعے نکالنے کے بعد، دبئی میں پاکستان ایسوسی ایشن کی مدد سے پرورش کی بنیاد رکھی تھی۔

"پرورش" میں طلباء و طالبات کی تعداد 310 ہے، جس میں سے 115 لڑکیاں ہیں، جو مفت تعلیم اور اقامت حاصل کر رہے ہیں۔ نعیم نے کہا کہ سنہ 2007 تا 2009 جب ضلع سوات پر طالبان کا قبضہ تھا، میں ہزاروں بچے یتیم ہو گئے تھے۔

'انسانیت کے درس'

انہوں نے مزید کہا کہ ہر سال "پرورش" میں 40 طلباء و طالبات داخل ہوتے ہیں، اور تمام کے تمام یتیم اور غربت میں رہ رہے ہوتے ہیں۔

نعیم نے کہا، "ہم انہیں انسانیت کے درس دے رہے ہیں تاکہ جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد کامیاب پیشہ ور ماہرین بن جائیں، تو وہ ملک کے غریب اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت کریں۔"

انہوں نے کہا کہ طلباء و طالبات کی محنت رنگ لا رہی ہے، جنہیں مخلص اساتذہ اور پرورش کے دیگر عملے کی مدد حاصل ہے۔

"پرورش" میں انتظامی افسر، محبوب علی نے کہا کہ دس برس ہو گئے، "طلباء و طالبات کا پہلا گروہ انٹرمیڈیٹ 11 ویں جماعت میں پہنچ گیا ہے۔"

علی نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "پرورش" فراخدلانہ شرائط و ضوابط کے ساتھ قرضہ جات فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ وہ اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھ سکیں۔

علی نے مزید بتایا کہ یتیم خانے کو دبئی میں پاکستان ایسوسی ایشن کی جانب سے امداد ملنا جاری ہے، ایک ایسی تنظیم جو متحدہ عرب امارات میں مقیم بیرونِ ملک پاکستانیوں پر مشتمل ہے اور اس کی سربراہی ڈاکٹر ضیاء الحسن کرتے ہیں، جو پشاور میں بلامنافع کام کرنے والے ذیابیطس کے ایک سماجی ہسپتال کو چلا رہے ہیں۔

انتہاپسندی سے لڑنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم، یوتھ اینٹی ٹیررازم آرگنائزیشن کے چیئرمین، محمد آصف نے کہا، "انسانیت -- خصوصاً پسماندہ اور محروم طبقات -- کی خدمت کرنا بہت قابلِ تحسین کام ہے۔"

غربت، ناخواندگی اور محرومی وہ بڑے امور ہیں جنہیں دہشت گرد گروہنوجوانوں کو راغب کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ پروگرام نوجوانوں کو عسکریت پسندوں کی چکنی چپڑی باتوں سے بچانے کا ایک ذریعہ ہے۔

آصف نے کہا، "جنگ کے متاثرین اور محروم نوجوانوں مفید شہری بنانے کے لیے تعلیم یافتہ بنانا ایک لائقِ تحسین کام ہے جو پرورش کی جانب سے انجام دیا جا رہا ہے، اور ریاستی اداروں اور نجی شعبے کو چاہیئے کہ اس تنظیم کی دل کھول کر مدد کریں تاکہ اس عظیم مقصد میں ان کا ہاتھ بٹایا جائے۔"

تعلیمی مواقع کھولنا

"پرورش" نے ایسے تعلیمی مواقع کھولے ہیں جو بصورتِ دیگر والدین سے محروم بچوں کے لیے دستیاب نہ ہوتے۔

"پرورش" میں 11 ویں جماعت کے ایک طالب علم نعیم الوہاب نے کہا، "اگر میں پرورش میں نہ آیا ہوتا، تو میں کسی گیراج میں بطور محنت کش بچہ کام کر رہا ہوتا یا پھر کسی سڑک کے کنارے بنے ریستوران میں بیرا گیری کر رہا ہوتا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "میرے والدین میری کم عمری میں ہی چل بسے تھے، اور میرے دو بڑے بھائیوں کو پرورش جیسے ادارے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہ ملا۔ اب وہ چھوٹے موٹے کام کرتے ہیں -- ایک ورکشاپ میں مددگار ہے اور دوسرا کپڑے کی ایک دکان میں ملازمت کرتا ہے۔"

وہاب نے کہا کہ وہ اس شفقت اور مواقع کو کبھی بھی فراموش نہیں کر پائے گا جو اسے پرورش میں، تعلیم کے علاوہ ملے ہیں جو کہ بصورتِ دیگر اس کے لیے صرف ایک خواب ہی ہوتی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا
2
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی
Captcha