| معاشرہ

پاکستانیوں کی طرف سے حکومت کے غربت کے خاتمے کے نئے پروگرام کی تحسین

از اشفاق یوسفزئی


23 مئی 2017 کو راولپنڈی میں کچرا چننے والے پاکستانی قابلِ تجدید اشیاء تلاش کرتے ہوئے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

23 مئی 2017 کو راولپنڈی میں کچرا چننے والے پاکستانی قابلِ تجدید اشیاء تلاش کرتے ہوئے۔ [فاروق نعیم/اے ایف پی]

اسلام آباد -- شہریوں اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کا نیا پروگرام جس مقصد غربت میں کمی کرنا ہے، پسماندہ طبقات کی صحت اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات تک رسائی میں مدد کرنے کی طرف ایک قدم ہے۔

پہلی کاری، جس کا اعلان وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد میں کیا گیا تھا، خوراک، رہائش اور لباس جیسی اشیاء کے لیے مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سال پروگرام کے لیے 80 بلین روپے (566 ملین ڈالر) مختص کیے ہیں اور سنہ 2020 تک اس رقم کو بڑھا کر 120 بلین روپے (850 ملین ڈالر) کر دے گی۔


اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اپریل میں پشاور میں ایک خاتون کو چیک دیتے ہوئے۔ [پی ٹی آئی]

اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اپریل میں پشاور میں ایک خاتون کو چیک دیتے ہوئے۔ [پی ٹی آئی]

خان کے مطابق، پروگرام کے جزو کے تحت، تقریباً 5.7 ملین خواتین جنہیں غربت کی سطح پر یا اس سے نیچے تصور کیا جاتا ہے انہیں بچت کھاتے اور موبائل فون دیئے جائیں گے جس کے ذریعے وہ اپنے بینک کھاتوں تک رسائی کے قابل ہوں گی۔ خواتین کو ہر ماہ 5،500 روپے (39 ڈالر) بھی ملیں گے۔

ماضی میں غربت اور معاشی عدم استحکام نے ملک میں انتہاپسندی کی نشوونما کو فروغ دینے میں مدد کی ہے، کیونکہ دہشت گردوں نے حساس شہریوں -- جیسے کہ غریب نوجوانوں --- کو اپنے فسادی مقاصد کے لیے بطور رنگروٹ بھرتی کے لیے ہدف بنایا ہے۔

غربت پر قابو پا کر اور ایک توانا معیشت کو ترقی دے کر، حکومت نوجوانوں کے لیے زیادہ مواقعکی بنیاد رکھ رہی ہے، جو انہیں انتہاپسندی سے دور ہونے کے قابل بنائے گی۔

خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیرِ اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا کہ حکومت مالی امداد کو ان علاقوں تک وسیع کرنا چاہتی ہے جنہیں اپنے بنیادی ڈھانچے، صحت، تعلیم اور دیگر سہولیات میں بہتریوں کی اشد ضرورت ہے۔

یوسفزئی نے کہا کہ حکومت ان تمام محکموں، جو پاکستان بھر میں پروگرام کے اطلاق کے لیے مصروفِ عمل ہیں، کو مربوط کرنے کے لیے ایک نئی وزارت بنا رہی ہے۔

استحکام میں حصہ ڈالنا

پشاور میں ایک نجی یونیورسٹی کے ماہرِ اقتصادیات، شفقت علی نے کہا کہ پہل کاری ایک خوش آئند اقدام ہے اور پاکستانیوں کو غربت سے نکالنے میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے کہا، "ملک کی مجموعی ترقی کے لیے ہمیں غربت کا خاتمہ کرنا پڑے گا۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ایسی مالی امداد فراہم کرتے ہوئے حکومت کا مقصد غربت سے متعلقہ کئی کثیر جہتی مسائل کو حل کرنا ہے۔

اسلام آباد میں چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کی ترقی کے محکمے (سمیڈا) کے ایک مشیر، محمد رفیق نے پیشین گوئی کی کہ حکومت کی پہل کاری بار آور ثابت ہو گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ پروگرام خصوصی طور پر غریبوں کی اپنے ذاتی کاروبار شروع کرنے میں مدد کرے گا۔

انہوں نے کہا، "حکومت کا بیواؤں اور غریبوں کے گھروں میں قائم کاروباروں کے لیے چھوٹے قرضے دینے کا منصوبہ ایک بڑا قدم ہے۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کیسے مزدوروں نے دیگر شعبوں کے علاوہ، کپڑوں کی سلائی، کڑہائی اور مرغی خانے سے آمدن کمائی۔"

انہوں نے کہا کہ دوسری جانب، فنڈز کے موزوں استعمال کو یقینی بنانے کے لیے حکمرانی، شفافیت اور احتساب کو اولین ترجیحات میں رہنا چاہیئے۔

خدمات تک رسائی

پشاور کے مقامی بینکار اعجاز خان نے کہا کہ حکومت کا منصوبہ بہت پُرعزم ہے اور غربت کے خاتمے کے لیے درکار تمام اقدامات کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام خواتین اور غریب نوجوانوں کے لیے روزگار کا وعدہ کرتا ہے، جو کہ اگر مکمل طور پر لاگو ہو جاتا ہے تو مطلوبہ نتائج فراہم کرے گا۔

پشاور کے مقامی وکیل شاہ نواز خان نے پروگرام کے جزو "تحفظ" کو سراہا، جس کا مقصد قانونی مدد کو غریب شہریوں تک وسیع کرنا ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ قابلِ تحسین ہے کیونکہ ہزاروں غریب شہری جب ایک وکیل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تو جیل پہنچ جاتے ہیں۔"

"یہ اپنے قانونی امور کو حل کرنے میں بھی غریبوں کی مدد کرے گا۔ سول سوسائٹی تنظیموں کی جانب سے شروع کیے گئے ایسے پروگراموں نے غریب کی مدد کی ہے، مگر وہ پائیدار نہیں تھے، اور جب مخیر حضرات نے چندہ دینا بند کر دیا، پروگرام بند کر دیئے گئے۔"

انہوں نے کہا، "ضرورت مند آبادی کے لیے حکومت کی طرف سے چلایا جانے والا پروگرام بہت بڑی مدد ہو گا، اور عوام کو مستقل بنیادوں پر امداد ملے گی۔"

پشاور کے ماہرِ اقتصادیات ظفراللہ خان نے کہا کہ پہل کاری کسی بھی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ جامع ترین حکمتِ عملی ہے۔

انہوں نے کہا، "یہ لاوارث بچوں، خواجہ سراؤں، معذوروں، جبری مشقت کرنے پر مجبور مزدوروں، روزانہ کے اجرتی اہلکاروں اور یتیم بچوں کی مدد کرنے کا وعدہ کرتا ہے،" انہوں نے مزید کہا کہ سود سے پاک قرضوں کے ذریعےغریب شہریوں کے لیے گھروں کی تعمیرپر 5 بلین روپے (35 ملین ڈالر) خرچ کرنے کے منصوبے کا بھی بیتابی سے انتظار ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

10
4
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha