|

تعلیم

حکام نے کیمپس کے اندر دہشت گردی، انتہاپسندی کے خلاف جنگ شروع کر دی

ایک تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ "اگر ہم ایک معقول اور مہذب معاشرہ تخلیق کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کا آغاز یونیورسٹیوں کی طرف سے دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے سے شروع کرنا چاہیے"۔

عدیل سید


ملتان کی بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں طلباء 2015 کو اکٹھے ہوئے ہیں۔ ]فارق نعیم/ اے ایف پی[

ملتان کی بہاوالدین زکریا یونیورسٹی میں طلباء 2015 کو اکٹھے ہوئے ہیں۔ ]فارق نعیم/ اے ایف پی[

پشاور -- قومی انسدادِ دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) اور اعلی تعلیم کمیشن (ایچ ای سی) نے ایک دیرپا اور موثر شراکت کے لیے اشتراک کیا ہے تاکہ ملک اور خصوصی طور پر اعلی تعلیم میں انتہاپسندی اور دہشت گردی سے جنگ کی جا سکے۔

اسلام آباد میں 25 اکتوبر کو مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) تیار کی گئی جس پر نیکٹا کے کوارڈی نیٹر خالد داد لک اور ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر محمد اصغر نے دستخط کیے۔

اصغر نے اس تقریب کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ "معاہدے کے مطابق، نیکٹا اور ایچ ای سی دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے اس وقت موجود تحقیق پر اعلی درجے کی تحقیق اور تعاون کریں گے۔

تحقیق، آگاہی پھیلانا

اصغر نے کہا کہ حکام کیمپس کے اندر انتہاپسندی پر توجہ مرکوز کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے فیکلٹی ممبران اور طلباء کو اس تحقیق کو انجام دینے میں شامل کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں تنظیمیں، انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدرسوں اور یونیورسٹی کے طلباء کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے طریقوں پر غور کریں گی۔

اصغر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق کے علاوہ، تنظیم یونیورسٹیوں میں ملک گیر مہم کا آغاز کرے گی تاکہ طلباء کو ایسے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے جن سے وہ انتہاپسند نظریات کے پس منظر میں موجود شیطانی محرکات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ منصوبہ شدہ پروگراموں میں سیمینار، ورکشاپس، مباحثے، مضامین کے مقابلے، تقاریر اور مختلف یونیورسٹیوں میں کھیلوں اور ثقافت کی تقریبات شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹیاں پیغام کو پھیلانے کے لیے اپنے ایف ایم ریڈیو اسٹیشنوں کو بھی استعمال کریں گی۔

ایچ ای سی کے چیرمین طارق بنوری نے کہا کہ "یونیورسٹیاں کل کا معاشرہ بناتی ہیں اس لیے ہم یونیورسٹی کے طلباء پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ہم ایک معقول اور مہذب معاشرہ قائم کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یونیورسٹیوں سے آغاز کرنا ہو گا کہ وہ دہشت گردی کو شکست دینے میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کریں"۔

نیکٹا کے قومی کوارڈی نیٹر لک نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نیکٹا اور ایچ ای سی کی اشتراکت کے پیچھے بنیادی مقصد، انتہاپسندی اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیم مہیا کر کے، انتہاپسندی کے انسداد کو بڑھانا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس سے نجی شعبے کی یونیورسٹیوں میں تحقیق کے فروغ دینے اور طلباء کی سمجھ بوجھ کو بڑھانے میں مدد ملے گی"۔

ڈپلومے والے دہشت گرد

لک نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات نے مشاہدین کو چوکنا کر دیا ہے کیونکہ ان میں انتہائی تعلیم یافتہ نوجوان ملوث تھے۔

وائس آف امریکہ نیوز نے گزشتہ سال انسدادِ دہشت گردی کے ڈپارٹمنٹ کا بیان کے حوالے سے خبر دی تھی کہ صوبہ سندھ میں جیلوں میں قید 500 عسکریت پسندوں میں سے 64 کے پاس ماسٹرز ڈگری اور 70 کے پاس بیچلرز ڈگری ہے۔

سندھ میں میڈیکل کی ایک طالبہ نورین لغاری نے 2017 میں پاکستان میں "دولتِ اسلامیہ" (داعش) کی خودکش بمبار بننے کی منصوبہ بندی کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

پشاور یونیورسٹی کے ماہرِ سماجیات اور خیبرپختونخواہ میں بنیادپرستی ختم کرنے کے ماہر،پروفیسر ظفر خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ ایچ ای سی اور نیکٹا کے درمیان اشتراک "خوش آئند ہے کیونکہ تحقیق کے ذریعے ہم پاکستان میں طلباء میں موجود بنیاد پرستی کے پیچھے موجود محرکات کا پتہ چلا سکتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ صرف طاقت سے دہشت گردی سے چھٹکارا نہیں ملے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے طلباء کی ایسے تشدد میں شمولیت، انتہاپسند نظریات کے سامنے ان کی کمزوری کی عکاسی کرتی ہے۔

ظفر نے کہا کہ وہ ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس میں پاکستانی یونیورسٹیوں کے موجودہ نصاب کا جائزہ لیا جائے گا اور درسی کتابوں میں موجود نفرت انگیز مواد کو ہٹانے کی تجویز پیش کی جائے گی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج