2016-10-28 | تعلیم

فاٹا کے طلباء کو نئے تعلیمی مواقع مل گئے

از محمد شکیل

امن و امان کی بہتر صورتحال نے حکام کو اس قابل کر دیا ہے کہ فاٹا میں کالج کو دوبارہ کھول دیں جو 7 سات برس پہلے دہشت گردی کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔


ستمبر میں، تحصیل باڑہ، خیبر ایجنسی میں مہمان خود کو کوہِ شیر حیدر ڈگری کالج سے روشناس کرواتے ہوئے۔ کالج سات سال پہلے دہشت گردی کی وجہ سے اپنے دروازے بند رکھنے کے بعد اکتوبر میں دوبارہ کھلا ہے۔ [محمد شکیل]
ستمبر میں، تحصیل باڑہ، خیبر ایجنسی میں مہمان خود کو کوہِ شیر حیدر ڈگری کالج سے روشناس کرواتے ہوئے۔ کالج سات سال پہلے دہشت گردی کی وجہ سے اپنے دروازے بند رکھنے کے بعد اکتوبر میں دوبارہ کھلا ہے۔ [محمد شکیل]
ستمبر میں، تحصیل باڑہ، خیبر ایجنسی میں مہمان خود کو کوہِ شیر حیدر ڈگری کالج سے روشناس کرواتے ہوئے۔ کالج سات سال پہلے دہشت گردی کی وجہ سے اپنے دروازے بند رکھنے کے بعد اکتوبر میں دوبارہ کھلا ہے۔ [محمد شکیل]

امن و امان کی بہتر صورتحال نے حکام کو اس قابل کر دیا ہے کہ فاٹا میں کالج کو دوبارہ کھول دیں جو 7 سات برس پہلے دہشت گردی کی وجہ سے بند کر دیا گیا تھا۔

پشاور -- امن و امان کی غیر تسلی بخش صورتِ حال کی وجہ سے سات سال تک اپنے دروازے بند رکھنے کے بعد باڑہ میں کوہِ شیر حیدری ڈگری نے اپنے دروازے تعلیمی سرگرمیوں کے لیے دوبارہ کھول دیئے ہیں۔

کوہِ شیر حیدری ڈگری کالج، جو کہ تحصیل باڑہ، خبیر ایجنسی میں واقع ہے، نے ستمبر 2009 میں اپنے دروازے بند کر دیئے تھے جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں عسکریت پسندوں کے مضبوط ٹھکانوں کو خالی کروانے کے لیے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، گزشتہ چند برسوں میں خیبر میں عسکریت پسندوں نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے اندازاً 100 اسکولوں کو تباہ کیا تھا اور دیگر 50 کو نقصان پہنچایا تھا۔

ڈگری کالج کی مرکزی عمارت عسکریت پسندوں کے فساد اور فوج کے انسدادِ عسکریت پسندی آپریشن سے بچ گئی تھی، لیکن باغیوں نے اسکول کا سامان لوٹ لیا تھا اور تمام فرنیچر اور تعلیمی مواد یہاں سے ہٹا دیا تھا۔

علاقہ مکینوں کی سہولت کے لیے، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے شعبۂ تعلیم نے 4 اکتوبر کو باضابطہ طور پر کوہِ شیر حیدر ڈگری کالج کو دوبارہ کھول دیا ہے۔

عسکریت پسندی تعلیم میں مخل ہوئی

کالج میں کیمیاء کے ایک لیکچرار، نور افضل نے کہا کہ علاقے میں تعلیمی اداروں کی اکثریت کی بندش کے بعد تعلیمی عمل رک گیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "امن و امان کی ابتر حالت نے حکام کو کالج بند کرنے پر مجبور کر دیا تھا، جو کہ اس وقت واحد ادارہ تھا جو مقامی طلباء کو گریجوایٹ سطح کی تعلیم مہیا کر رہا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ کئی قبائل سے تعلق رکھنے والے طلباء تحصیل باڑہ میں مقیم ہیں، جن میں قمبر خیل، ملک دین خیل اور اکا خیل شامل ہیں، ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ عسکریت پسندی کی وجہ سے تعلیم میں خلل واقع ہونے اور اسکولوں کے تباہ ہونے کے بعد اپنے علاقوں سے چلے جائیں۔

انہوں نے کہا، "امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال نے نوجوانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ، قبائلی عوام کی زندگیوں کو غیریقینی کے گڑھے میں دھکیل دیا تھا۔"

انہوں نے کہا کہ کوہِ شیر حیدری ڈگری کالج کا دوبارہ کھلنا فاٹا حکام کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے جو متعلقہ قبائل کو اپنے اپنے علاقوں میں واپس بھیجنے کے لیے انتھک محنت کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا، "تعلیم ۔۔۔ نوجوانوں کو درست اور غلط میں تمیز کرنے کی صلاحیت دیتے ہوئے قوم کا راستہ بدل سکتی ہے۔"

انہوں نے کہا، "کالج میں تعلیمی عمل کا دوبارہ شروع ہونا نوجوانوں کو ایک بہتر حالت میں لائے گا تاکہ وہ خود کو غلط نظریات سے غلط فہمیوں کا شکار ہونے سے محفوظ رکھیں۔"

واپس آنے والے قبائل کے لیے امداد، شہری سہولیات

سنہ 2013 کے آخر میں شائع شدہ وزارتِ ریاست ہائے و سرحدی خطے کی جانب سے اعداد و شمار کے مطابق، علاقے میں عسکریت پسندی کے عروج میں، فاٹا میں 1،000 سے زائد تعلیمی ادارے ناکافی حفاظتی حالات کی وجہ سے عملی طور پر مفلوج ہو گئے تھے۔

فاٹا طلباء تنظیم کی جانب سے سنہ 2016 میں کروائے گئے ایک سروے میں کہا گیا کہ عسکریت پسندی کے دوران قبائلی پٹی میں 1،500 کی تعداد تک تعلیمی اداروں کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیئے گئے۔

قبائلی پٹی میں عسکریت پسندی کے عروج کے سال عام طور پر 2010 سے 2014 کے درمیان تصور کیے جاتے ہیں۔ فوج نے شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے ساتھ عسکریت پسندی کے خاتمے کا آغاز کیا، جو جون 2014 میں شروع ہوا اور تاحال جاری ہے۔

خیبر طلباء یونین کے سابق صدر، زاہد گل آفریدی نے کہا کہ اپنی جانیں بچا کر بھاگنے والوں، بے گھر ہونے والے خاندانوں کی اکثریت کے پاس انتہائی کم مالی وسائل تھے اور وہ اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں پڑھانے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "بے گھر ہونے والے اسی فیصد خاندان خیبر ایجنسی میں اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں، اور ان کی تعداد میں اضافے کے ساتھ، ایک ایسی صورتحال پیدا ہوئی ہے جو انہیں بنیادی ضروریاتِ زندگی دینے کے لیے مزید مربوط کوششوں کی متقاضی ہے۔"

انہوں نے کہا، "اگرچہ ان کی امداد اور سہولت کے لیے مخلصانہ کام کیا گیا ہے، خصوصاً صحت اور تعلیم کے شعبوں میں، انہیں ضروریاتِ زندگی ان کی دہلیزوں پر مہیا کرنے کے لیے بہت سا کام کرنا باقی ہے۔"

زاہد نے کہا کہ ابھی تک، کوہِ شیر حیدری ڈگری کالج میں 800 سے زائد طلباء کو داخلہ ملا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالج کا دوبارہ کھلنا ایک اچھی پیش رفت ہے۔

تاہم، داخلے کے خواہش مند 2،000 سے زائد نوجوانوں کی تعلیمی طلب کو پورا کرنے کے لیے اسکول کو جدید بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کالج کو قبول کردہ طلباء کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہیئے اور 24 کی تعداد میں موجودہ تدریسی عملے میں اضافے کے لیے اضافی لیکچرار بھرتی کرنے چاہیئیں۔

عسکریت پسندی کا تعلیم کے ساتھ مقابلہ کرنا

عابد آفریدی، کالج کے ایک طالب علم جنہوں نے تحصیل باڑہ میں پرورش پائی، نے کہا کہ کوہِ شیر حیدری ڈگری کالج ایسے طلباء کے لیے امید کی ایک کرن ہے جنہیں کیمپوں میں قیام کے دوران اپنی تعلیم روکنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ فاٹا کے نوجوانوں کو عسکریت پسندی اور تعصب میں گرنے سے بچانے کا کام بھی کرے گا، جس نے غربت اور ترقیاتی پسماندگی کی وجہ سے قبائلی پٹی میں جڑیں پکڑ لی تھیں۔"

انہوں نے کہا، "عسکریت پسندی اور انتہاپسندی جو جہالت سے نکلتے ہیں ان پر تعلیم کے ذریعے برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہوئے قابو پایا جا سکتا ہے۔ عسکریت پسندوں نے تعلیمی اداروں کو تباہ کر دیا تھا کیونکہ انہوں نے پہچان لیا تھا کہ تعلیم ایک فرد کو بصیرت عطا کرتی ہے اور اسے درست راستہ منتخب کرنے کے قابل بناتی ہے۔"

پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک خیبرپختونخوا کے ایک اہلکار، انس تکریم کاکاخیل نے کہا، "قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی سے تباہ شدہ تعلیمی اداروں کو دوبارہ کھولنا فاٹا کے نوجوانوں کے لیے ایک نیک شگون ہے جنہوں نے مخالف حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور شدید مشکلات کے باوجود رہائشی علاقوں میں اپنی تعلیم کو جاری رکھا۔"

گورنمنٹ ہائی اسکول گلبہار کے ایک پرانے استاد، جمیل جیکب نے کہا، "تعلیم اور عسکریت پسندی کے درمیان تعلق بالواسطہ لیکن یقینی ہے، کیونکہ ایک سند یافتہ اور تعلیم یافتہ فرد کے پاس معاشی خوشحالی اور بقاء کے بہتر امکانات ہوں گے، جس سے اس کے ان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں پکڑے جانے کے امکانات کم ہوں گے جو مالی فوائد کی پیشکش کرتے ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ناخواندگی کی وجہ سے قبائلی علاقہ جات میں پسماندگی نے عسکریت پسندوں کو لوگوں کو گمراہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔"

انہوں نے کہا، "انتہاپسندی اور عسکریت پسندی کو رواداری اور بقائے باہمی کے اصول سمجھانے کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

سنہ 2018 میں پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج