|

سلامتی

گومل یونیورسٹی کے دورہ کے دوران وزیرستان میں امن کا نیا دور نمایاں

حکام اور مقامی افراد کا کہنا ہے کہ پاکستان کے قبائلی اور آباد علاقوں سے نوجوانوں کی ایک دوسرے سے واقفیت بنانے سے شدّت پسندانہ رجحانات کے انسداد اور فروغِ امن میں مدد ملے گی۔

محمّد آحل


جون میں گومل یونیورسٹی کے طالبِ علم اپنے دورہٴ جنوبی وزیرستان کے دوران سیکیورٹی فورسز سے تحائف حاصل کر رہے ہیں۔ [محمّد اہِل]

جون میں گومل یونیورسٹی کے طالبِ علم اپنے دورہٴ جنوبی وزیرستان کے دوران سیکیورٹی فورسز سے تحائف حاصل کر رہے ہیں۔ [محمّد اہِل]

ٹانک – قریبی ضلع ٹانک سے جنوبی وزیرستان کا دورہ کرنے والے طالبِ علم اور عملہ ایک ایسے علاقہ میں پر ہجوم بازار، بخوبی لیس سکول اور کالج اور ماڈل ویلیج دیکھ کر خوش کن طور پر حیرت زدہ تھے جو کبھی عسکریت پسندوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا تھا۔

جون کا یہ دورہ فرنٹیئر کور (ساؤتھ) کے یوتھ انگیجمنٹ پروگرام کا جزُ تھا، جس کا مقصد جنگ سے تباہ حال علاقہ کی پرامن ترقی کی جانب منتقلی تھا۔

گومل یونیورسٹی کے ٹانک کیمپس کے اسسٹنٹ پروفیسر عامر نواز نے جنوبی وزیرستان کے ہیڈ کوارٹر وانا میں طالبِ علموں کے گروہ کی رہنمائی کی۔

انہوں نے اگست میں پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "دورہ کے بعد متعدد نوجوان ایک مختلف اور تبدیل شدہ احساس کے ساتھ واپس لوٹے۔ عسکریت پسندوں کا خوب تشہیر شدہ مرکزِ وجود اب ایک پر امن مقام ہے جہاں کے نظاروں کی وجہ سے یہ قابلِ دید ہے۔"

دورہ کرنے والوں کو وانا زرعی پارک، کیڈٹ کالج وانا، گومل زَم ڈیم، شولام ماڈل ہسپتال اور آرمی پبلک سکول چاگمالائی دکھایا گیا۔

نواز نے کہا، "جب میں نے وانا میں چند ذہین قبائلی طالبِ علموں کو اپنے سکولوں کو جاتے دیکھا تو، مجھے حیرت ہوئی— جیسا کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ وہاں ہر طرف بندوقیں اور بم ہوں گے— کہ یہ نہایت خوبصورت تھا۔"

انہوں نے کہا، "[گومل زَم ڈیم]، خوبصورت پہاڑ اور نظر کش مناظر بہترین ہیں اور ۔۔۔ انہیں ترقی دے کر سیّاحوں کے لیے دلکشیوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، جبکہ یہاں کا سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ اسلام آباد یا لاہور سے خراب نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا، "یہ عسکریت پسندی کی شکست کے بعد وزیرستان کا اصل چہرہ ہے۔ یہ دہشتگردوں ۔۔۔ کی سرزمین نہیں۔"

انہوں نے کہا، "پاکستان بھر کے لوگوں کو قبائی علاقوں کا دورہ کرنا چاہیئے؛ یہ خوبصورت اور قابلِ دید ہیں۔"

ایک نئے دور کا آغاز

سابقہ وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) کے خیبر پختونخواہ (کے پی) کے ساتھ انضمام کا ملک بھر میں پاکستانیوں نے بالعموم خیرمقدم کیا ہے کیوں کہ اس سے قبائلی علاقہ جات میں رہنے والوں کو مساوی حقوق ملے ہیں۔

اس انضمام نے آباد علاقوں کے پاکستانیوں کو قبائلی خطے کے لوگوں سے بات چیت کرنے کے بھی قابل بنایا ہے۔

گومل یونیورسٹی ٹانک کیمپس میں کمپیوٹر سائنس کے ایک طالبِ علم سبحان احمد نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں نے فی الحقیقت تبدیلی محسوس کی۔ کبھی وزیرستان سے آنے والی خبریں صرف بموں، بندوقوں، دھماکوں، اغوا اور قتل سے متعلق آتی تھیں، لیکن اب نہیں۔ اب امن، تعلیم اور ترقی پیش کی جا رہی ہے۔"

انہوں نے کہا، "مجھے کوئی خوف محسوس نہیں ہوا اور کوئی پریشان کن شئے نہیں دیکھی۔"

وزیرستان میں تقریباً وہ سب کچھ ہے جو دیگر پاکستان بھر میں ہے، سو یہ قبائلی پٹی کی بدنامی کو تلف کرنے کا وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ علاقہ میں تاحال ٹیکنالوجی اور بجلی درکار ہے، اس علاقہ کے باہر کی دنیا سے منسلک ہو جانے پر قبائل کو ہر شعبہ میں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

گومل یونیورسٹی ٹانک کیمپس کے ڈائریکٹر احسان اللہ دانش نے کہا کہ ایسے دورے "پاکستان بھر کے نوجوانوں کے لیے قبائلی نوجوانوں سے بات چیت کرنے کا ایک شاندار موقع ہے، اور یہ ایک نئے دور کے آغاز کی نمائندگی کرتے ہیں، جہاں مختلف ثقافتیں ایک دوسرے سے مربوط ہوتی اور ایک دوسرے سے متعلق جانتی ہیں۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہاں ترقی قبائلی پٹی کو دیگر تمام تر پاکستان کے ہم پلہ کرنے کی کاوشوں کی ترجمانی کرتی ہے۔"

جنگی بندوق کے بجائے قلم کا انتخاب

جنوبی وزیرستان کے قبائلی ارکان بھی ایسے دوروں کا خیرمقدم کرتے ہیں اور پرامید ہیں کہ ان کے بچوں اور قبائلی علاقوں سے باہر کے نوجوانوں کے مابین روابط ایک مثبت تبدیلی لائیں گے.

"یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ طلبا اور پروفیسرز ہماری علاقے کا دورہ کر رہے ہیں" وانا بازار کے ایک دکاندار، رزاق محسود نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "یہ بات ہمارے بچوں کے لئے امید کا ایک پیغام دیتی ہے کہ تعلیم انہیں مزید ذمہ دار اور بہتر شہری بنا سکتی ہے."

انہوں نے بتایا، "مجھے امید ہے کہ ایسے روابط انھیں انتہاپسندانہ رجحانات اور جنگ سے دور کریں گے اور انھیں پرامن شہری بنائیں گے۔"

جنوبی وزیرستان کے ایک تاجر رحمان محسود نے بتایا، طلبا کا دورہ اچھا شگون ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "جنگی بندوق کے بجائے ہاتھ میں قلم کا ہونا زیادہ اچھا ہے، اور میں کہوں گا کہ ہمارے بچے مزید سیکھیں گے جب وہ پاکستان بھر کے یونیورسٹی کے طلبا سے رابطہ استوار کریں گے۔"

یہ بتاتے ہوئے کہ، اس تناظر میں ہمارے بچوں کو شہری علاقوں کے اسکولوں اور کالجوں کے دورہ کی اجازت دینا مزید موثر ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ، فاٹا اور کےپی کے انضمام کے بعد ایسے دوروں کو روکنے کے لئے کوئی قانونی قدغن موجود نہیں ہے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 1

0 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ کی رائے میں کیا کرتارپور راہداری کھولنے سے پاکستان اور انڈیا کے تعلقات بہتر ہوں گے؟

نتائج