|

صحت

سرکاری-نجی شراکت فاٹا میں خصوصی طبی سہولیات لا رہی ہے

اس قدم کا مقصد علاقے کے ہسپتالوں میں طبی ماہرین کو لانا ہے جن میں سے اکثر ماضی میں عسکریت پسندوں کا نشانہ رہے ہیں۔

اشفاق یوسف زئی


ایک مریض، 7 جنوری کو جنوبی وزیرستان ایجنسی میں شولم ہسپتال میں انتظار کر رہا ہے۔ یہ ہسپتال چار سالوں تک بند رہنے کے بعد، گزشتہ جولائی میں دوبارہ کھل گیا تھا۔ ]فاٹا سیکرٹریٹ[

ایک مریض، 7 جنوری کو جنوبی وزیرستان ایجنسی میں شولم ہسپتال میں انتظار کر رہا ہے۔ یہ ہسپتال چار سالوں تک بند رہنے کے بعد، گزشتہ جولائی میں دوبارہ کھل گیا تھا۔ ]فاٹا سیکرٹریٹ[

پشاور -- وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے شہری، ایک نئے سرکاری-نجی ابتدائی قدم کے حصہ کے تحت خصوصی طبی سہولیات حاصل کر رہے ہیں جو ڈاکٹروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ زیادہ دور دراز علاقوں میں کام کریں۔

علاقے میں عسکریت پسندی نے بہت سی صحتِ عامہ کی سہولیات کو تباہ کر دیا ہے اور ڈاکٹروں کو مریضوں تک پہنچنے سے روکے رکھا ہے۔ امن کی واپسی کے ساتھ، فاٹا بھر میں صحتِ عامہ کی بہتر سہولیات لانے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

ایک نئے قدم کے تحت، نجی ادارے اور این جی اوز سرکاری طبی مراکز کو چلا رہے ہیں۔

فاٹا ہیلتھ کیئر ڈپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جواد حبیب خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مریضوں کو خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے، ہم نے سرکاری-نجی شراکت کے ایک پروگرام کے تحت فاٹا میں طبی مراکز کو آوٹ سورس کر دیا ہے"۔

خان نے کہا کہ "پاکستانی فوج کے تعاون کے ساتھ، ہم نے 10 طبی مراکز کو نجی تنظیموں کے حوالے کیا ہے تاکہ وہ تشخیصی سہولیات اور علاج فراہم کر سکیں"۔

خان کے مطابق، اس منصوبے کے تحت، نجی ادارے ان سپشلسٹ ڈاکٹروں کو "پرکشش" تنخواہیں دیتے ہیں جو ایسے ہسپتالوں میں کام کرتے ہیں جن سے پہلے وہ گریز کرتے تھے"۔

انہوں نے کہا کہ "تین ہسپتال -- جنوبی وزیرستان ایجنسی، اورکزئی ایجنسی اور خیبر ایجنسی میں ایک ایک -- نے پہلے ہی سرکای-نجی شراکت کے تحت کام کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ مزید سات کو این جی اوز کے ساتھ آوٹ سورس کیا گیا ہے"۔

طبی ماہرین کو متوجہ کرنا

فاٹا سیکرٹریٹ میں اسسٹنٹ ڈویلپمنٹ افسر ڈاکٹر نسیم بنگش نے کہا کہ طالبان کے عسکریت پسندوں نے دہشت کے اپنے دور کے دوران، 150 طبی سہولیات کو تباہ کر دیا تھا اور طبی عملے کو ڈرایا دھمکایا تھا جس کے باعث انہوں نے اپنی فرائض کو انجام دینا بند کر دیا تھا۔

تاہم، عسکریت پسندوں کے خلاف فوج کے آپریشن کے بعد، جو 2014 میں زیادہ شدت اختیار کر گیا، ڈاکٹر علاقے میں کام کرنے کے لیے زیادہ تیار ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم سپشلسٹ ڈاکٹروں کو 2,500 ڈالر (276,435 روپے) ماہانہ دے رہے ہیں اور وہ فوج کے تحفظ میں کام کرنے کے لیے آمادہ ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ماہرین کی تعیناتی کے بعد سے، جنوبی وزیرستان ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں غیر رہائشی مریضوں کی تعداد میں 300 فیصد اضافہ ہوا ہے"۔

فاٹا سیکریٹریٹ کے ساتھ تعلق رکھنے والے ڈاکٹر محمد رضوان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہم این جی اوز کو فی ہسپتال 1 ملین ڈالر (110.6 ملین روپے) سالانہ دے رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا ایک مقصد مزید عملے، خصوصی طور پر طبی ماہرین اور خواتین طبی کارکنوں کو ملازم رکھنا ہے۔

رضوان نے کہا کہ فاٹا کے پاس 979 طبی سہولیات ہیں جن میں 8,796 ملازمین ہیں۔ ماہرین کی 108 نشستوں میں سے 84 خالی ہیں۔ خاتون طبی افسران کی 50 اور خاتون ہیلتھ ورکروں کی 200 نشستیں بھی خالی ہیں۔

مریض بہتر دیکھ بھال سے 'خوش' ہیں

وانا، جنوبی وزیرستان کے ایک شہری شہید احمد نے کہا کہ ان کی اہلیہ کا گزشتہ مئی میں شولم ہسپتال میں گردے کی پتھری کا آپریشن ہوا تھا جس نے گزشتہ مارچ میں کام کرنا شروع کیا تھا۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہسپتال عسکریت پسندی کے باعث گزشتہ چار سالوں سے بند تھا کیونکہ طبی عملہ یہاں تعینات کیے جانے سے ہچکچاتا تھا"۔

انہوں نے کہا کہ "لوگوں کو ہسپتال کے بند ہو جانے سے مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم چھوٹی چھوٹی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی بنوں یا قریبی ڈسٹرکٹس میں جاتے تھے"۔

انہوں نے کہا کہ "اب ہمارے پاس اپنے ہسپتال میں طبی ماہرین موجود ہیں اس لیے ہمیں بہتر خدمات میسر ہیں۔ یہاں سہولیات موجود ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ شولم ہسپتال میں خاتون ڈاکٹر اور نرسیں بھی ہیں جس سے خاتون مریضوں کو بہت زیادہ فائدہ ہوا ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں تحصیل ہیڈکواٹر ہسپتال میں بھی مریض علاج کی بہتر کردہ سہولیات سے مطمئن ہیں۔

جولائی میں حکام نے ہسپتال کے انتظام کو، میڈیکل ایمرجنسی ریزلینس فاونڈیشن کے حوالے کر دیا تھا جو کہ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی ایک این جی او ہے اور وہ 11 ماہرین کو وہاں لانے میں کامیاب رہی تھی۔

اورکزئی ایجنسی کے ایک دکان دار محمود خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میرے والد گردے کے مریض ہیں اس لیے ہم انہیں ڈایا لائسزکے لیے ہر ماہ کے پی میں کوہاٹ لے کر جاتے تھے جس سے ہمارا تقریبا 100 ڈالر (11,062 روپے) خرچہ آتا تھا۔ مگر اب یہ ہی سہولت مقامی ہسپتال میں میسر ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "اس کے علاوہ، ہمارے رشتہ دار اور گاوں والے جو دور دراز کے ہسپتالوں میں جاتے تھے اب مقامی ہسپتال میں جا رہے ہیں۔ وہ نئے انتظامات سے خوش ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج