| سلامتی

پاکستانی فوج فاٹا کے اسکولوں، صحت کی سہولیات کی نگرانی کر رہی ہے

اشفاق یوسفزئی


خیبر ایجنسی میں 10 جولائی کو ایک پاکستانی فوجی مقامی باشندوں میں ادویات کی تقسیم کی نگرانی کر رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

خیبر ایجنسی میں 10 جولائی کو ایک پاکستانی فوجی مقامی باشندوں میں ادویات کی تقسیم کی نگرانی کر رہا ہے۔ [اشفاق یوسفزئی]

پشاور -- پاکستانی فوج نے تعلیم اور صحت کو بہتر بنانے کیلئے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں سکولوں اور ہسپتالوں کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

فاٹا کے ہیلتھ ڈائریکٹر جواد حبیب خان نے پاکستان فارورڈ کو بتایا "طالبان عسکریت پسندوں نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً 300 طبی سہولیات کو نقصان پہنچایا، جن میں سے اکثر کو شرپسندوں کے خلاف کامیاب فوجی کارروائی کی بدولت دوبارہ تعمیر کر لیا گیا ہے۔"

خان کے مطابق، فاٹا میں 10،000 عملے کیساتھ 800 سے زائد صحت کی سہولیات موجود ہیں، جو 60 لاکھ آبادی کی خدمت کر رہی ہیں۔

دہشت گردانہ تشدد کے بدترین سالوں کے دوران، فاٹا کے زیادہ تر مریضوں کو معمولی بیماریوں تک کا علاج، خیبر پختونخواہ (کے پی) میں کرانا پڑتا تھا، کیونکہ فاٹا میں بہت سے طبی کارکنوں نے کام پر جانا چھوڑ دیا تھا۔ اس ہی طرح اساتذہ، جنہیں اسکولوں پر بم حملوں کا خوف تھا، اپنی ملازمتوں سے غیر حاضر ہو گئے تھے۔

تاہم، فوج کے انسداد دہشت گردی کے آپریشن ضرب عضب میں، جو قبائلی پٹی میں جون 2014 کے بعد سے کسی وقفے کے بغیر چل رہا ہے، ہزاروں دہشت گرد ہلاک اور زندہ بچ جانے والے فرار ہو گئے۔

خان نے کہا، "فاٹا میں صحت کی سہولیات کے تحفظ کے لئے ہمیں فوج کی مدد کی ضرورت تھی۔ اب، تمام ساتوں ایجنسیوں اور فاٹا میں چھ فرنٹیئر ریجنز میں فوج موجود ہے۔ طبی سہولیات بالکل محفوظ ہیں۔"

خان نے کہا کہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات اور سکولوں کی حفاظت کے علاوہ، فوج کو یہ احکامات بھی دیے گئے ہیں کہ وہ عملے کی غیر حاضری کا ریکارڈ بھی رکھے۔

پاکستان کے سب سے زیادہ قابل احترام ادارے-- آرمی کی شمولیت کا مقصد صحت کی دیکھ بھال کی فراہمی کو یقینی بنانا اور عوام کو ضرب عضب کے فوائد دکھانا ہے۔

عوام نے تعلیم کے خلاف طالبان کی جنگ کو مسترد کر دیا

باجوڑ سے قومی اسمبلی کے ایک سابق رکن، اخوند زادہ چٹان نے کہا کہ عوام فوج کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کی طرف سے طبی سہولیات اور اسکولوں کو تحفظ فراہم کرنے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "فاٹا میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ہمیں فوجی جوانوں کی نگرانی کی ضرورت ہے۔"

انہوں نے کہا، "طالبان عسکریت پسندوں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ اسلام میں جدید تعلیم کی اجازت نہیں ہے۔"

انہوں نے کہا کہ فاٹا کے عوام نے طالبان کے تصّورِ اسلام کو مسترد کر دیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ فوج فاٹا میں موجود رہے۔

عملے کی حاضری کو چیک کرنا

ڈان کی 14 جولائی کی خبر کے مطابق، فوجی حکام نے مقامی پولیٹکل ایجنٹس کو بتایا کہ فوج کی نگران ٹیمیں اساتذہ، طالب علموں، ڈاکٹروں، امدادی عملے اور ایسی سہولیات کے اعداد و شمار مرتب کرنے کے لیے اسکولوں، کالجوں اور طبی مراکز کا دورہ کرنے فاٹا آ رہی ہیں، جو اب وہاں موجود نہیں ہیں۔

حکام نے کہا کہ فاٹا میں نگرانی کا کام شروع ہو چکا ہے۔

فاٹا میں تعلیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر، شوکت خان نے کہا کہ مقامی حکومت کے حکام فوج کی موجودگی میں زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ملازمین اپنی تنخواہیں لیتے رہے ہیں، لیکن لاقانونیت کی وجہ سے وہ گھروں میں ٹھہرے رہے۔ اب مکمل امن ہے کیونکہ فوج کو ہر جگہ تعینات کیا گیا ہے۔"

فوجی دستے، جنہوں نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تعمیرنو اور بحالی کا کام کیا، اب اپنی توانائی کو نگرانی کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

شوکت نے کہا کہ فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں میں بدعنوانی اور کام کے ناقص معیار کے بارے میں شکایات ملنے کے بعد، جون میں گورنر خیبر پختونخواہ اقبال ظفر جھگڑا نے فوج کو نگرانی کا کردار دینے کی تجویز پیش کی تھی۔

وانا، جنوبی وزیرستان میں ایجنسی ہیڈکوارٹر کے اسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر جمال خان نے کہا کہ فوج اور فرنٹیئر کور کے دوروں کی وجہ سے عملے کی حاضری میں بہتری آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سویلین حکام آرمی کی ٹیموں کی اعانت کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "سول اور فوجی حکام کے درمیان مکمل تعاون پایا جاتا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ متعلقہ فوجی کمانڈنٹ کو رپورٹیں پیش کرنے کے بعد غفلت برتنے والے اور غیر حاضر سرکاری ملازمین کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

سکول اور ہسپتال دوبارہ بھرنا شروع ہو گئے

مقامی اساتذہ اور ڈاکٹر سیکورٹی لوٹ آنے کے لیے شکر گزار ہیں۔

وانا، جنوبی وزیرستان میں گورنمنٹ ہائی اسکول کے پرنسپل، عمر شاہ نے کہا کہ فاٹا میں 574،512 طالبِ علموں کے ساتھ کل 5،572 سکول ہیں۔

انہوں نے پاکستان میں فارورڈ بتایا، "ہمیں امید ہے کہ عملے کے واپس آ جانے کے بعد داخلوں میں اضافہ ہو گا۔ سینکڑوں کی تعداد میں وہ بچے جو اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کر گئے تھے... یہ معلوم ہونے کے بعد واپس آ جائیں گے کہ اسکولوں میں معیاری تعلیم ملنی شروع ہو گئی ہے۔"

غلنئی مہمند ایجنسی میں ایجنسی ہیڈکوارٹر اسپتال کے ایک ڈاکٹر، محمد جمال نے کہا کہ فوج کی نگرانی سے عملے کی حاضری اور اس کے نتیجے میں صحت کی دیکھ بھال بہتر ہو گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ماضی میں، ہمارا عملہ بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کی وجہ سے غیر حاضر رہتا تھا، اب وہ کام پر آ رہے ہیں اور مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔"

انہوں نے کہا، "مئی میں، ہمارے پاس 3،241 مریض آۓ، لیکن جون میں یہ تعداد بڑھ کر 6،122 ہو گئی۔

پشاور میں مقیم سلامتی کے امور کے تجزیہ کار، خادم حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ فوج کے قابلِ ذکر وسائل سے فاٹا کے مالی تنگی سے دوچار طبی اور تعلیمی شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

2
0
نہیں
تبصرے 0
تبصرہ کی پالیسی Captcha