|

سلامتی

بنیاد پرستی ترک کرنے والے پاکستانی نوجوان معاشرے کے مفید ارکان بنتے ہیں

سابقہ عسکریت پسندوں کا تازہ ترین گروہ، جن میں سے بہت سے نوعمر ہیں، نے گزشتہ ماہ جنوبی وزیرستان میں ڈی ریڈیکلائزیشن کی تربیت مکمل کی اور وہ کاروبار شروع کرنے یا فوج میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اشفاق یوسف زئی


فرنٹئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل عابد لطیف 16 اپریل کو ایسے سابقہ عسکریت پسندوں کی طرف سے تیارکردہ کپٹروں کے اسٹال کا دورہ کر رہے ہیں جنہوں نے جنوبی وزیرستان ایجسنی کے علاقے مکین میں ووکیشنل تربیت حاصل کی ہے۔ ]اشفاق یوسف زئی[

فرنٹئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل عابد لطیف 16 اپریل کو ایسے سابقہ عسکریت پسندوں کی طرف سے تیارکردہ کپٹروں کے اسٹال کا دورہ کر رہے ہیں جنہوں نے جنوبی وزیرستان ایجسنی کے علاقے مکین میں ووکیشنل تربیت حاصل کی ہے۔ ]اشفاق یوسف زئی[

پشاور -- پاکستان کی بنیاد پرستی کے خاتمے کی جاری کوششیںہزاروں سابقہ عسکریت پسندوں کو انتہاپسندی سے دور لے جا رہی ہیں اور انہیں زندگی میں ایک نیا موقع دے رہی ہیں۔

حکام نے 16 اپریل کو 135 سابقہ عسکریت پسندوں کے ایک گروہ میں سرٹیفکیٹ تقسیم کیے جو جنوبی وزیرستان ایجنسی کے علاقے مکین میں قائم اجالا مرکز میں ڈی ریڈیکلائزیشن پروگرام سے گزر رہے ہیں۔ یہ خبر ڈان نے دی ہے۔

ابھی تک، 473 سابقہ عسکریت پسندوں نے مرکز میں ڈی ریڈیکلائزیشن پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد انتہاپسندی سے توبہ کر لی ہے۔ یہ بات فرنٹئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل عابد لطیف نے اجالا میں ہونے والی تقریب میں کہی۔

'میں امن کے لیے کام کروں گا'

سابقہ عسکریت پسندوں میں سے ایک، 15 سالہ جاوید شاہ نے کہا کہ وہ اس وقت خودکش بمبار کے طور پر اپنے آپ کو اڑانے کے لیے تیار تھا جب پاکستانی فوج نے 2014 میں اسے اور درجنوں دیگر کو گرفتار کیا۔

انہوں نے فون کے ذریعے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میں دوبارہ سے عسکریت پسندی کو اختیار کرنے کے بارے میں کبھی سوچوں گا بھی نہیں اور امن کے لیے کام کروں گا۔ اب میں نے کپڑے سینا سیکھ لیا ہے اور بہت جلد بازار میں ایک دکان کھولوں گا"۔

ڈی ریڈیکلائزیشن تربیت میں شرکت کرنے والے ایک اور شرکت کار، 14سالہ مجید خان نے کہا کہ وہ طالبان کے ساتھ گزارے جانے والے ایک سال پر پشیمان ہے۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "میری زندگی بدلنے پر میں پاکستانی فوج کا شکرگزار ہوں۔ طالبان کے عسکریت پسند انسانیت کے دشمن ہیں اور انہیں ہمدردی کی ضرورت نہیں ہے"۔

خان نے کہا کہ اسے اس بات پر یقین کرنے کی تبلیغ کی گئی تھی کہ فوج سے لڑنا اس کا اسلامی فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ "ہم بہکنے والے نوجوانوں کا مستقبل بچانے پر فوج کے شکرگزار ہیں"۔

معاشرے کے 'کارآمد' ارکان پیدا کرنا

سوات میں مئی 2009 کو شروع کیے جانے والے آپریشن راہِ راست کے دوران، پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے دریافت کیا کہ آپریشن کے دوران پکڑے جانے والے عسکریت پسندوں میں سے بہت سے نو عمر یا تیرہ سال سے کم ہیں

ماہرِ نفسیات فریحہ پاشہ جو سوات میں ان کوششوں کی قیادت کرتی ہیں، کے مطابق اس دریافت نے سیکورٹی فورسز کی ستمبر 2009 میں بحالی کا پروگرام شروع کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مجھے فوج نے ڈی ریڈیکلائزیشن کا ایک ایسا پروگرام تیار کرنے کے لیے بلایا جو تھراپی اور تعلیم کو استعمال کرتے ہوئے نوجوان عسکریت پسند جنگجوؤں میں انتہاپسندی اور متشدد رجحانات کو بدل سکے

انہوں نے کہا کہ "اس وقت سے اب تک، ہم نے 2,000 ایسے عسکریت پسندوں کو ڈی ریڈیکلائزڈ کیا ہے جو اب معاشرے کے کارآمد ارکان بن چکے ہیں۔ ہم نے انہیںووکیشنل اور دوسری تربیت دی ہے تاکہ وہ اپنی کفالت کر سکیں اور انتہاپسندی کی طرف دوبارہ جانے سے رُک سکیں"۔

انہوں نے کہا کہ "ڈی ریڈیکلائزیشن پروگرام نوجوان عسکریت پسندوں کے لیے ایک رحمت ثابت ہوا ہے جن میں سے بہت سوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) میں دباؤ کے تحت شرکت اختیار کی تھی"۔

"برین واش" کردہ نوجوانوں کی بحالی

سوات کےصباون بحالی مرکزمیں کام کرنے والے ماہرِ نفسیات شفیق احمد نے کہا کہ ان کے مرکز میں 192 سابقہ عسکریت پسندوں کی تربیت کی گئی اور انہیں ان کی برادریوں میں دوبارہ سے بحال کیا گیا"۔

انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے بھرتی کاروں نے ایسے نوجوانوں کو نشانہ بنایا جو غریب سماجی-اقتصادی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے، یتیم تھے، اپنے خاندانوں یا برادریوں سے دور تھے یا انہوں نے عسکریت پسندوں کے انتظام کردہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کی تھی۔

احمد نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے کچھ کو زبردستی مسلح مہم میں شامل ہونے پر مجبور کیا جبکہ دیگر کو ایسے خطبات سے دھمکایا جن میں قرآن کی نامکمل آیات شامل تھیں تاکہ انہیں دھوکے سے اسلام کے دشمنوں کے خلاف تشدد کرنے کے لیے تیار کیا جا سکے"۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نوجوان عسکریت پسندوں کی برین واشنگ کی گئی تھی اور وہ مَجروحیت کا شکار تھے اور ان کے دل و دماغ کو بدلنے کے لیے ایک شفقت مندانہ طریقہ کار اور انہیں زندگی میں متبادل مقاصد دینے کی ضرورت تھی"۔

احمد نے کہا کہ صباوون سے اپنی برادریوں کے ساتھ دوبارہ سے ملائے جانے والے نوجوانوں میں سے کسی نے بھی دوبارہ بنیاد پرستی اختیار نہیں کی اور نہ ہی دوبارہ طالبان میں شامل ہوئے ہیں۔ تاہم انہوں نے انتباہ کیا کہ، ان کی مسلسل نگرانی، ان کی برادریوں کی طرف سے امداد اور طالبان سے بچنے کے لیے پولیس کی حفاظت کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "ڈی ریڈیکلائزیشن ایک ہمہ شاخی طریقہ کار ہے جس کے نتائج بہت مثبت ہیں"۔

امن کے لیے راہ ہموار کرنا

پشاور سے تعلق رکھنے والے ماہرِ نفسیات میاں افتخار حسین نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "مذہبی اور نظریاتی دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنے کے لیے اور معاشرے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے ڈی ریڈیکلائزیشن بہترین طریقہ کار ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تشدد سے بھرے ہوئے دماغوں کی ڈی ریڈیکلائزیشن اور اس کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے استعمال کیے جانے والے دوسرے اسباق، تشدد سے امن کی طرف تبدیلی کا ایک بہت اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ غیر عسکری حکمتِ عملیاں جیسے کہ نفسیاتی مشاورت، تربیت دینا اور برادری کی امدد، سابقہ عسکریت پسندوں کی دوبارہ بحالی میں ایک نہایت اہم کردار ادا کرتی ہیں، کہا کہ "ہم امن کے مخالف عناصر کو دوبارہ سے بہکنے اور اپنے دماغوں میں بھرے ہوئے غلط ایجنڈا کو حاصل کرنے کے لیے دوبارہ سے ہتھیار اٹھانے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 3

1 تبصرے

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha
Ihsankarim | 06-06-2018

pakistan ma jo bhi prim minister ho woho student ka 7 ho

جواب

انتخاب

آپ وزیرِ اعظم عمران خان کی حکومت کے پہلے تین ماہ سے کتنے مطمئن ہیں؟

نتائج