2017-08-08 | تعلیم

فاٹا یونیورسٹی ترقیاتی مواقع کے لیے امید کی کرن ہے

جاوید خان

مشاہدین کا کہنا ہے کہ تعلیم، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں ترقی، عسکریت پسندی اور تشدد کے خاتمے کی کنجی ہے۔


فاٹا یونیورسٹی کے طلباء فروری میں اپنے دوسرے سمسٹر میں کلاس لے رہے ہیں۔ یونیورسٹی ستمبر میں اپنے دوسرے تعلیمی سیشن کا آغاز کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ]جاوید خان[
فاٹا یونیورسٹی کے طلباء فروری میں اپنے دوسرے سمسٹر میں کلاس لے رہے ہیں۔ یونیورسٹی ستمبر میں اپنے دوسرے تعلیمی سیشن کا آغاز کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ]جاوید خان[
فاٹا یونیورسٹی کے طلباء فروری میں اپنے دوسرے سمسٹر میں کلاس لے رہے ہیں۔ یونیورسٹی ستمبر میں اپنے دوسرے تعلیمی سیشن کا آغاز کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ]جاوید خان[

مشاہدین کا کہنا ہے کہ تعلیم، وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں ترقی، عسکریت پسندی اور تشدد کے خاتمے کی کنجی ہے۔

پشاور -- جیسے ہی فاٹا یونیورسٹی ستمبر میں اپنے دوسرے تعلیمی سیشن کے آغاز کی تیاری کر رہی ہے، بہت سے لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ ادارہ پاکستان کے وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں ناخواندگی، انتہاپسندی اور دوسری سماجی برائیوں کا خاتمہ کر دے گا۔

فاٹا یونیورسٹی کے وائس چانسلر طاہر شاہ نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "یہ ادارہ ناخواندگی اور انتہاپسندی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گا اور قبائلی علاقوں کی ترقی کو یقینی بنائے گا"۔

انہوں نے کہا کہ فاٹا کو مزید تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے خصوصی طور پر دور دراز کے علاقوں میں تاکہ ہر شہری کو بنیادی تعلیم حاصل ہو سکے۔

شاہ جنوری 2016 میں وائس چانسلر منتخب ہوئے تھے۔ یونیورسٹی نے اپنے پہلے تعلیمی سیشن کا آغاز اس سال ستمبر میں کیا تھا۔

شاہ نے کہا کہ 72 طلباء کے پہلے گروپ نے جون 2017 کے آغاز میں اپنے دوسرے سمسٹر کو مکمل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ گروپ سارے مرد طلباء پر مشتمل تھا۔

شاہ نے کہا کہ "ہم کسی بھی ایسی خاتون طالبِ علم کو خوش آمدید کہیں گے جو فاٹا یونیورسٹی میں داخلے کی خواہش مند ہو گی"۔ انہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی میں ایک خاتون استاد ہیں جو کہ ریاضی پڑھاتی ہیں۔

فاٹا یونیورسٹی کو وسیع کرنا

فاٹا یونیورسٹی عارضی طور پر گورنمنٹ ڈگری کالج ڈیرہ آدم خیل میں قائم کی گئی ہے جو کہ پشاور سے کوہاٹ جاتے ہوئے انڈس ہائی وے پر واقع ہے جب کہ یونیورسٹی کے نئے کیمپس پر کام اس وقت جاری ہے۔

نیا کیمپس جو کہ اس وقت زیرِ تعمیر ہے، آخوروال، ڈیرہ آدم خیل میں 466 کنال (58.25 ایکٹر) کے رقبے پر واقع ہو گا۔ توقع ہے کہ یہ پانچ سالہ پروگرام کے تحت مکمل ہو جائے گا۔

شاہ نے کہا کہ "ردِعمل بہت زبردست ہے اور ہم دوسرے تعلیمی سیشن میں سارے قبائلی علاقوں اور تصفیہ شدہ اضلاع سے طلباء کی بڑی تعداد کی طرف سے درخواستیں دیے جانے کی توقع رکھتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ "اس وقت، طلباء کو مینجمنٹ سائنس، ریاضی، سوشیالوجی اور پولیٹیکل سائنس میں داخلہ دیا گیا ہے جب کہ دوسرے سیشن میں انگلش، سائنس کے مضامین اور تعلیم میں بھی داخلہ دیا جائے گا"۔

فاٹا کے ہائر ایجوکیشن کمیشن نے 2016 کے وسط میں فاٹا یونیورسٹی کے نئے کیمپس اور دوسری سہولیات کے لیے 1.6 بلین روپے (15.2 ملین ڈالر) کا بجٹ منظور کیا تھا۔

فاٹا سیکرٹریٹ نے پراجیکٹ مینجمنٹ کا ایک یونٹ بنایا ہے جو کیمپس کے پہلے مرحلے کی تعمیر کی نگرانی کرے گا اور اسے مکمل کرے گا۔

2013 کی فاٹا یونیورسٹی ریگولیشنز کے مطابق، دوسرے مرحلے میں مزید 4.7 بلین روپے (44.6 ملین ڈالر) کیمپس پر خرچ کیے جائیں گے۔

شاہ نے کہا کہ "ہم تمام ایجنسیوں میں فاٹا یونیورسٹی کے ذیلی کیمپس قائم کریں گے اور پہلے مرحلے میں شمالی وزیرستان، باجوڑ اور کرم ایجنسی میں پوسٹ گریجویٹ کالجوں کو مقامی کیمپس قرار دے دیا جائے گا"۔

اگرچہ ستمبر میں تعلیمی سیشن کا آغاز ستمبر میں ہی ہو گیا تھا مگر خیبر پختونخواہ کے گورنر اقبال ظفر جھگڑا اور ریاستوں اور فرنٹئر ریجن کے وفاقی وزیر عبدل قادر بلوچ نے فاٹا یونیورسٹی کا باقاعدہ افتتاح گزشتہ دسمبر میں کیا تھا۔

جھگڑا نے دسمبر میں انسٹی ٹیوٹ کا دورہ کرنے کے بعد کہا کہ "یہ یونیورسٹی سارے قبائلی علاقوں میں تعلیم اور خوشحالی کو پھیلائے گی جسے امن اور ترقی کی ضرورت ہے"۔

فاٹا یونیورسٹی کے ترجمان خالد مینور نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "نئے کیمپس پر کام پورے زور و شور سے جاری ہے جسے اس منصوبے کے تحت پانچ سالوں میں مکمل ہونا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "مزید طلبا کو بھرتی کرنے کا عمل، تین نئے پروگراموں میں کلاسوں کا آغاز کرنے، ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے اور لیبارٹریوں میں سامان فراہم کرنے کا کام جاری ہے"۔

انتہاپسندی کا خاتمہ کرنے کی کنجی تعلیم ہے

بہت سے قبائلی ارکان نے قبائلی علاقوں کے لیے خصوصی طور پر یونیورسٹی قائم کرنے کو سراہا ہے۔

جنوبی وزیرستان کے احمد جان وزیر نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "گزشتہ حکومت اور ان لوگوں نے جنہوں نے فاٹا یونیورسٹی کے قیام کے لیے کوششیں کیں انہوں نے سینکڑوں قبائلی افراد کے لیے بہت بڑی خدمت انجام دی ہے جنہیں کسی بھی دوسری سہولت سے زیادہ تعلیم کی ضرورت ہے"۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کے مزید مواقع مزید ملازمتوں، ترقی، صحت عامہ میں بہتری اور دوسری سہولیات کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ "تعلیم قبائلی افراد کو درپیش مسائل کی اکثریت کو ختم کرنے کی کنجی ہے خصوصی طور پر فاٹا میں انتہاپسندی اور تشدد کے خاتمے کے لیے"۔

خیبر ایجنسی کے ایک استاد یار محمد نے کہا کہ یونیورسٹی قبائلی علاقوں کی ترقی میں ایک سنگِ میل ثابت ہو گی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ہمیں فاٹا یونیورسٹی جیسے اعلی تعلیمی اداروں کی انتہائی سخت ضرورت ہے اور فاٹا میں ہر جگہ ہمیں مزید اسکول اور کالجوں کی ضرورت بھی ہے"۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

آپ ملک بھر میں سیکورٹی میں اضافے کے حکومتی دعووں پر یقین رکھتے ہیں؟

نتائج