|

نقل وحمل

مالاکنڈ ڈویژن کی معیشت کی ترقی کے لئے سوات موٹروے منصوبہ

متوقع طور پر ستمبر 2018 میں مکمل ہونے والا منصوبہ ماضی میں عسکریت پسندی سے شدید متاثر خطے میں معاشی ترقی اور سیاحت کو فروغ دے گا۔

عدیل سعید


ایک پاکستانی سپاہی صوابی ضلع میں سوات موٹر وے منصوبے کے نوتعمیرشدہ پہلے حصے میں کرنل شیر خان انٹرچینج پر پہرہ دے رہا ہے۔ [کے پی ہائی وے اتھارٹی]

ایک پاکستانی سپاہی صوابی ضلع میں سوات موٹر وے منصوبے کے نوتعمیرشدہ پہلے حصے میں کرنل شیر خان انٹرچینج پر پہرہ دے رہا ہے۔ [کے پی ہائی وے اتھارٹی]

پشاور – سوات موٹر وےکی تعمیر میں ترقی کے ساتھ، شراکت داروں کا کہنا ہے کہ یہ خطّے کو پاکستان کے دیگر حصوں سے جوڑ کر مالاکنڈ ڈویژن کی معیشت کو تقویت دے گا۔

خیبر پختونخواہ (کے پی) کے حکام نے 21 مئی کو 81 کلومیٹر طویل میگا منصوبے کا پہلا حصّہ کھول دیا.

کے پی کے چھ کم ترقی یافتہ ضلعوں پر مشتمل مالاکنڈ ڈویژن اپنے دلکش سیاحتی مقامات کے لئے جانا جاتا ہے۔ تاہم، 2007 اور 2009 کے درمیان دو سال طالبان کے ظلم و تشدّد اور عسکریت پسندوں کو نکالنے کے لئے کیے جانے والے فوجی آپریشن نے علاقے کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا اور سیاحت میں انتہائی کمی واقع ہوئی۔

کے پی کے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے،جن کی مدت 31 مئی کو باقی حکومت کے ساتھ ہی ختم ہوگئی،صوابی میں کرنل شیرخان انٹرچینج سے ڈوبیان گاؤں تک 14 کلو میٹر ایکسپریس وے ٹریفک کے لئے کھول کر منصوبے کا افتتاح کر دیا.

خٹک نے افتتاحی تقریب میں بتایا، منصوبے کے بقیہ حصّے پر کام پوری رفتار سے جاری ہے اور مراحل میں مکمل ہو گا۔

انہوں نے بتایا، جون کے آخر تک ایکسپریس وے منصوبے کا 50 کلومیٹر کاٹلنگ تک مکمل ہوکر ٹریفک کے لئے کھل جائے گا، جبکہ بقیہ 30 کلومیٹر کی تکمیل ستمبر تک متوقع ہے۔

مالاکنڈ کے لئے ایک گیم 'چینجر'

خٹک نے بتایا، سیاحت میں اضافے اور اشیأ کی نقل و حمل کے دورانیے میں کمی کے ذریعے تیزرفتار شاہراہ مالاکنڈ کی آبادی کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔

انہوں نے بتایا، منصوبہ مالاکنڈ کے چھ اضلاع -- سوات، شانگلہ، بٹگرام، چترال، بونیر، دیر بالا اور دیر زیریں -- اور کے پی اور ملک کے دیگر حصوں تک آسان اور براہ راست رسائی فراہم کرے گا، اس طرح ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ منصوبہ منفرد ہے کیونکہ یہ واحد منصوبہ ہے جو صوبے کے اپنے وسائل استعمال کر کے تعمیر کیا گیا ہے اور خطّے میں ترقی لانے کے لئے کے پی کی صوبائی حکومت کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

کے پی ہائی وے اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر انجینئر احمد نبی سلطان نے بتایا، "سوات موٹر وے کا آغاز 41 بلین روپیہ (354 ملین ڈالر) لاگت کے تخمینے کے ساتھ 18 ماہ مدت تکمیل کے لئے اگست 2016 میں کیا گیا تھا۔"

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا، منصوبے میں تاخیر تعمیری اور فنی مشکلات کے سبب ہوئی، لیکن کارکنان نے پہلا حصہ مکمل کرلیا اور باقی بھی مکمل کرلیں گے۔

انہوں نے بتایا، "چار لین سوات موٹر وے پشاور میں اسلام آباد موٹر وے پر کرنل شیرخان انٹرچینج پر صوابی سے شروع ہوتی ہے اور دیر زیریں کے ضلع چکدرہ میں اختتام پذیر ہوگی."

انہوں نے بتایا، "ایکپریس وے پرچھ انٹرچینج اور 1.5 کلومیٹر لمبائی کی دو ٹیوب ٹنلز ہوں گی۔ مالاکنڈ کے اضلاع سے منسلک کرنے کے علاوہ یہ دیر زیریں کے ذریعے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات (فاٹا) باجوڑ ایجنسی تک بھی آسان رسائی فراہم کرے گی۔"

معیشت اور سیاحت کی ترقی

کے پی صوبائی اسمبلی کے ایک رکن اور حکمراں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے بتایا،سوات موٹر وے کی تکمیل صرف مالاکنڈ ڈویژن کی معیشت کو ترقی نہیں دے گی بلکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کو راغب کرکے پورے کے پی کو بھی کرے گی۔

"اکثر زرعی پیداوار خصوصاً باغات کے پھل ملک کے دیگر حصوں کے لئے جلد نقل و حمل کی سہولیات نہ ہونے کے باعث خراب ہوجاتے ہیں، مالاکنڈ کے ضلع شانگلہ سے آئے ہوئے یوسف زئی نے بتایا، اس سڑک کی تعمیر سے مسئلہ حل ہوجائے گا اور عوام کو معاشی فائدہ ہوگا۔"

انہوں نے بتایا کہ کے پی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کی متاثرہ معیشت کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئےاس منصوبے پر توجہ مرکوز کی ہے جو عسکریت پسندی اور دہشت گردی سے بہت متاثر ہے.

ایک تاجر اورسابق صرر ایوان تجارت اور صنعت سوات احمد خان نے بتایا،سوات موٹر وے منصوبے نے اس علاقے میں سیاحت کی صنعت کی بحالی کے لئے امیدیں پیدا کی ہیں، خاص طور پر سوات میں، جسے 'سوئٹزرلینڈ آف پاکستان' کہا جاتا ہے.

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ مالاکنڈ پر طالبان کے دو سال طویل قبضے اور بعد میں فوجی کارروائی نے اس کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا، علاقے میں تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب کیے۔

سوات کی کالام وادی کے ایک ہوٹل مالک مالک نياز احمد نے سوات موٹر وے کے پہلے مرحلے کا افتتاح کا خیرمقدم کیا.

انہوں نے موٹر وے کے بقیہ حصے کی جلد تکمیل پر زور دیتے ہوئے پاکستان فارورڈ کو بتایا، "ایسے منصوبے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے اثر سے لڑکھڑاتی، علاقے کی معیشت کی ترقی کے لئے اشد ضروری ہیں۔"

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 0

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

3 تبصرے 💬

💬

Muhammad aslam | 06-12-2018

اللہ نفرتون کو ختم کرے آمین


💬

Zuhaib baloch | 06-10-2018

خوب کام


💬

Zahid khan | 06-09-2018

میری زندگی میں کے پی کے کے بہترین منصوبوں میں سے ایک۔


انتخاب

انتخابات کے بعد پاکستان کو درپیش سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟

نتائج