مذہب

پاکستان قدیم بدھ خانقاہ کی نگہداشت سے مذہبی سیاحت کو فروغ دے رہا ہے

عدیل سید

مزدور تخت بائی میں 10 مئی کو 2,000 سال پرانی بدھ خانقاہ کی کھدائی کر رہے ہیں۔ ]کے پی کے ڈائریکٹر برائے آثارِ قدیمہ و عجائب خانہ جات[

مزدور تخت بائی میں 10 مئی کو 2,000 سال پرانی بدھ خانقاہ کی کھدائی کر رہے ہیں۔ ]کے پی کے ڈائریکٹر برائے آثارِ قدیمہ و عجائب خانہ جات[

پشاور -- ماہرینِ آثارِ قدیمہ دو ہزار سال پرانی بدھ خانقاہ کی جگہ جو خیبر پختون خواہ (کے پی) میں تخت بائی کے مقام پر واقع ہے، میں کھدائی اور نگہداشت کے کام میں تیزی لا رہے ہیں۔

تقریبا 33 ہیکٹرز پر محیط جگہ، جسے یونیسکو نے 1980 میں اپنی عالمی ورثہ کی فہرست میں شامل کیا تھا، پر کام میں تیزی سے توقع ہے کہ پاکستان میں مذہبی سیاحت کو فروغ حاصل ہو گا اور خصوصی طور پر کے پی کی آثارِ قدیمہ کے لحاظ سے اہمیت اجاگر ہو گی۔

اس جگہ کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے: زون اے جس میں خانقاہ شامل ہے اور زون بی جس میں راہبوں کی رہائش گاہیں شامل ہیں۔

زون بی کی کھدائی جس کا آغاز گزشتہ سال جولائی میں ہوا تھا، توقع ہے کہ دسمبر2018 تک مکمل ہو جائے گی۔ یہ بات کے پی کی آثارِ قدیمہ و عجائب خانہ جات کی نظامت کے پراجیکٹ ڈائریکٹر قیصر خان نے 22 مئی کو پاکستان فارورڈ کو بتائی۔

یونیسکو کے مطابق، کھنڈرات جن میں بدھ خانقاہ اور راہبوں کی رہائش گاہیں شامل ہیں، مختلف پہاڑی چوٹیوں پر واقع ہیں جن کی بلندی 36.6 سے 152.4 میٹر تک ہے۔ ]کے پی کے ڈائریکٹر برائے آثارِ قدیمہ و عجائب خانہ جات[

یونیسکو کے مطابق، کھنڈرات جن میں بدھ خانقاہ اور راہبوں کی رہائش گاہیں شامل ہیں، مختلف پہاڑی چوٹیوں پر واقع ہیں جن کی بلندی 36.6 سے 152.4 میٹر تک ہے۔ ]کے پی کے ڈائریکٹر برائے آثارِ قدیمہ و عجائب خانہ جات[

اکتیس مئی 2016 کو تخت بائی کا دورہ کرنے والے سری لنکا کے راہب، ویساک (بدھ تعطیل) مناتے ہوئے ہوئے دعا مانگ رہے ہیں۔ سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال نے آثارِ قدیمہ سے بھرپور کے پی میں مذہبی سیاحت میں اضافے کو جنم دیا ہے۔ ]فائل[

اکتیس مئی 2016 کو تخت بائی کا دورہ کرنے والے سری لنکا کے راہب، ویساک (بدھ تعطیل) مناتے ہوئے ہوئے دعا مانگ رہے ہیں۔ سیکورٹی کی بہتر ہوتی ہوئی صورتِ حال نے آثارِ قدیمہ سے بھرپور کے پی میں مذہبی سیاحت میں اضافے کو جنم دیا ہے۔ ]فائل[

زون اے میں کھدائی کا کام پہلے مکمل کر لیا گیا تھا۔

خانوادوں اور سیکھنے کا وقت

گندھارا سلطنت جو تقریبا 1500 زمانہ قبل از مسیح سے 535 زمانہ قبل از مسیح تک سرگرم تھی اور آج کے دور کے، کے پی میں واقع تھی، تاریخ دانوں میں "ایشیاء میں بدھ مت کے پھیلاو کا گڑھ تھی"۔ یہ بات کے پی کے آثارِ قدیمہ اور عجائب خانہ جات کی نظامت کے ریسرچ افسر اور فوکل پرسن نواز الدین نے کہی۔

انہوں نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ "ایک بھرپور تاریخی مقام جو بدھ مت کے پیروکاروں میں بہت احترام رکھتا ہے، ملک کی طرف مذہبی سیاحوں کو متوجہ کرے گا اور اس کے ساتھ ساتھ ہی کے پی کی آثارِ قدیمہ کی اہمیت کو بھی اجاگر کرے گا"۔

انہوں نے کہا کہ تخت بائی کوشان سلطنت (30 عام زمانہ سے 375 عام زمانہ) کی یادگار ہے جب ساری دنیا سے راہب بدھ مت کے بارے میں سیکھنے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ راہبوں نے یہاں اور جمال گڑھی جو مردان کے قریب واقع ہے، دونوں جگہوں پر تعلیم حاصل کی۔

نواز الدین نے کہا کہ کے پی میں ایسی بہت سی قدیم جگہیں ہیں جو بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں جن کی تعداد 500 ملین کے قریب ہے۔

انہوں نے کہا کہ "کوریا کے شہری، کے پی کی صوابی ڈسٹرکٹ کے قریب واقع چھوٹا لاہور کا دورہ کرنے کے لیے بے چین ہیں کیونکہ ان کے ملک میں جس شخص نے بدھ مت کی تبلیغ کی، اس کا تعلق اس علاقے سے تھا"۔

نواز الدین نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ کے پی میں ابھی بہت کچھ کھودا جانا باقی ہے، کہا کہ پشاور کے عجائب گھر کے پاس پتھروں کے گندھارا مجسموں کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جن میں بدھا کی زندگی کی کہانی اور ان کے معجزات کو بیان کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے پی میں اس وقت تقریبا 3,000 آثارِ قدیمہ کی جگہیں ہیں اور مزید تحقیق سے یہ اعداد و شمار دوگنے ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانا

پشاور کے صحرائی ٹریول کے مالک ظہور درانی کے مطابق، ملک بھر میں سیکورٹی کی بہتر صورتِ حال نے ان مقامات پر کام اور سیاحوں کی آمد کو ممکن بنایا ہے۔

انہوں نے سیکورٹی کی بہتر صورتِ حال کا سہرا، فوجی مہمات ضربِ عضب اور ردالفساد کے سر باندھتے ہوئے کہا کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ مذہبی سیاحت کو فروغ دیا جائے"۔

انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاح، پاکستان میں سیکورٹی کی صورت حال میں بہتری کا مشاہدہ کرنے کے بعد، زیادہ بڑی تعداد میں یہاں آ رہے ہیں۔ تاہم ان کے پاس کوئی مخصوص اعداد و شمار نہیں تھے۔ نئے آنے والے کچھ سیاحوں میں ایسے راہب بھی شامل ہیں جو تخت بائی جیسے مقامات پر آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کے پی کے آثارِ قدیمہ اور عجائب خانہ جات کی نظامت نے کے پی کے کچھ عجائبات جیسے کہ بدھا کے مجسموں کو مختلف مذہبی تقریبات کے لیے بیرونِ ملک بھی بھیجا ہے۔

درانی نے کہا کہ تخت بائی کی کھدائی اور نگہداشت جن کے ساتھ ثقافتی تبادلوں کی کوششیں بھی شامل ہیں، پاکستان کی بیرونِ ملک نرم ساکھ بنانے میں مدد کریں گی۔

پشاور سے تعلق رکھنے والے تاجر محمد نعمان جو اپنے خاندان کو اس جگہ کی سیر کرانے لے کر گئے تھے، نے پاکستان فارورڈ کو بتایا کہ تخت بائی نے سیاحوں کو "علاقے کے شاندار ماضی کی جھلکیاں" دیکھنے کے قابل بنایا ہے۔

انہوں نے اس بات کا اضافہ کرتے ہوئے کہ تاریخی جگہوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اہم ہے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو اس جگہ کی آثار قدیمہ کی بھرپور تاریخ کے بارے میں سیکھانے کے لیے لے کر گئے تھے۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند آیا

تبصرے 0

تبصرہ کی پالیسی * لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے 1500 / 1500