|

سلامتی

پاکستان کے وزیرِ داخلہ کے اقدامِ قتل کی تحقیقات جاری

وزیرِ داخلہ احسن اقبال کو زخمی کرنے کے بعد تحریکِ لبّیک یا رسول اللہ کے ساتھ مبینہ طور پر منسلک حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

عبدالناصر خان اور اے ایف پی


6 مئی کو وزیرِ داخلہ احسن اقبال پر گولی چلانے کا ملزم عابد حسین لاہور میں تحریکِ لبّیک یا رسول اللہ کے پوسٹر پر دیکھا جا سکتا ہے۔ [عبد الناصر خان]

6 مئی کو وزیرِ داخلہ احسن اقبال پر گولی چلانے کا ملزم عابد حسین لاہور میں تحریکِ لبّیک یا رسول اللہ کے پوسٹر پر دیکھا جا سکتا ہے۔ [عبد الناصر خان]

لاہور – پولیس کا کہنا ہے کہ حکومتِ پنجاب نے پیر (7 مئی) کو اتوار کے روز وزیرِ داخلہ احسن اقبال کے خلاف کیے گئے مبینہ اقدامِ قتل کا جائزہ لینے کے لیے ایک جائنٹ انوسٹیگیشن ٹیم تشکیل دے دی۔

جیو نیوز نے خبر دی کہ پنجاب کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل انوسٹیگیشن محمّد وقاص نذیر اس پانچ رکنی ٹیم کی سربراہی کریں گے، جو پولیس، انسدادِ دہشتگردی اور انٹیلی جنس کے اعلیٰ حکام پر مشتمل ہو گی۔

اے ایف پی نے خبر دی کہ 59 سالہ اقبال اتوار کو رات گئے اپنے آبائی شہر نارووال کے قریب ایک عوامی اجلاس سے جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ انہیں دائیں بازو میں گولی مار دی گئی۔ پیر کو وہ جراحی سے صحت یاب ہو رہے تھے۔

پولیس کے مطابق، اقبال کو کنجرور گاوٴں میں مسیحی اور دیگر اقلیتی برادریوں کے اجلاس سے خطاب کے کچھ ہی دیر بعد نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کی جانب سے عابد حسین کے طور پر شناخت کیے گئے ایک شخص جو مبینہ طور پر بیس برس سے کچھ زیادہ عمر کا تھا، دوسری گولی مارنے کو تیار تھا کہ اہلکاروں اور پاس کھڑے لوگوں نے اسے بزور زمین پر گرا لیا۔ اسے حراست میں لے لیا گیا اور مبینہ طور پر اس نے اعترافِ جرم کر لیا۔

ناروال کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عمران کشور نے صحافیوں کو بتایا، "[حملہ آور] اچانک ہجوم سے نمودار ہوا اورگولی چلا دی،" جو اقبال کو دائیں کہنی میں جا لگی۔

ابتدائی طور پر اقبال کو نارووال میں طبی امداد دی گئی اور بعد ازاں ایک ہیلی کاپٹر نے انہیں جرّاحی کے لیے لاہور پہنچایا۔

وزیر کی نگہداشت کی ذمہ دار پانچ رکنی طبی ٹیم کے ایک رکن، شفقت وسیم چودھری نے اے ایف پی کو بتایا کہ اقبال اب "مستحکم" ہیں، تاہم انہیں دو روز تک انتہائی نگہداشت یونٹ میں رکھا جائے گا۔

حملہ توہینِ رسالت کے سلسلہ سے منسلک؟

پولیس تاحال حملے کی تفتیش کر رہی ہے، تاہم نارووال کے ڈپٹی کمشنر علی عنان قمر نے اے ایف پی کو بتایا کہ گولی چلانے والے کا کہنا تھا کہ اسے اس حلف میں گزشتہ برس ہونے والی متنازع ترمیم نے تحریک دی جس کا اٹھانا سیاسی امّیدواران کے لیے لازم ہے۔

اس سلسلہ نے گزشتہ نومبر میں، اسلام پسند سیاسی جماعت میں تبدیل ہو جانے والے ایک مذہبی گروہ تحریکِ لبّیک یا رسول اللہ پاکستان (ٹی ایل وائی آر) کی جانب سے تین ہفتوں پر مشتمل ایک دھرنا کو تحریک دی، جس نے ایک ہفتہ سے زائد کے لیےصدرمقام کو مفلوج کر دیا۔

اس ترمیم نے حلف کے چند ایسے الفاظ کو تبدیل کر دیا جس میں امّیدوار حضرت محمّدؐ کے آخری نبی ہونے کا حلف اٹھاتا ہے۔

ٹی ایل وائی آر نے حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے احمدیوں، طویل عرصہ سے زچ کیے جا رہے اسلامی اقلیتی فرقہ، جو حضرت محمّدؐ کے آخری نبی ہونے پر یقین نہیں رکھتے، کو حلف اٹھانے کی اجازت دینے کے لیے اس میں ترمیم کی۔

بعد ازاں اس ترمیم کو واپس لے گیا۔

اے ایف پی نے خبر دی کہ پاکستان میں بکثرت ایذا رسانی کا سامنے کرنے والی مذہبی اقلیتوں کے چیمپیئن اقبال، جس نے ان کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی مذمّت کی، نے اس قضیہ کے مذاکرات پر مبنی حل کے لیے زور دیا۔

سیاسی تشدد کی مذمّت

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ٹی ایل وائی آر کے مقلدین نے اقبال کو ہدف بنایا۔

24 فروری کو نارووال میں ٹی ایل وائی آر کے ایک رکن نے اقبال پر جوتا پھینکا۔

سابق وزیرِ اعظم میاں محمّد نوازشریف اور سابق وزیرِ خارجہ خواجہ آصف کو بھی ایسے ہی توہین آمیز عوامی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ 11 مارچ کو ٹی ایل وائی آر کے مقلدین نے لاہور میں نواز شریف پر جوتے پھینکے، اور ایک دیگر شخص نے 10 مارچ کو آصف پر سیاہی پھینکی۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر صحافی، عاصم نصیر نے پاکستان فارورڈ سے بات کرتے ہوئے کہا، "یہ حملہ گزشتہ حملوں سے زیادہ خطرناک ہے اور جولائی-اگست میں متوقع آنے والے عام انتخابات میں پی ایم ایل-این کی مہم کو متاثر کر سکتا ہے۔"

پاکستانیوں اور بین الاقوامی برادری نے فوری طور پر اقبال پر ہونے والے حملے کی مذمّت کی۔

کیا آپ کو یہ مضمون پسند ہے؟

Pf icons no 10

تبصرہ 💬

* لازم خانوں کی نشاندہی کرتا ہے
Captcha

انتخاب

کیا آپ کو روس کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش ہے؟

نتائج